پروپ فرم اکاؤنٹ اور مضاربت

    prop firm account aur mudarabat

    تاریخ: 17 اگست، 2026
    مشاہدات: 6
    حوالہ: 1732

    سوال

    میں Prop Firm Trading کے بارے میں شرعی رہنمائی لینا چاہتا ہوں، میرا مقصد یہ ہے کہ اگر میں اس کام سے کمائی کروں تو وہ مکمل طور پر حلال ہو۔ اس کا طریقہ یہ ہے: (1) پہلے ایک ٹیسٹ فیس دینی ہوتی ہے: میں ایک Prop Firm کو کچھ فیس ادا کرتا ہوں، اس کے بعد وہ مجھے ایک Trading Simulator پر ٹریڈنگ کا ٹیسٹ دیتے ہیں، جس میں ایک خاص منافع کا ہدف پورا کرنا ہوتا ہے اور ساتھ ہی کچھ Risk Rules کی پابندی بھی کرنی ہوتی ہے۔ اگر میں ٹیسٹ میں ناکام ہو جاؤں یا ان کے Risk Rules توڑ دوں تو میری دی ہوئی فیس واپس نہیں ملتی، اور اگر کامیاب ہو جاؤں تو بعض کمپنیاں یہ فیس واپس بھی کر دیتی ہیں اور مجھے ایک Funded Account دیا جاتا ہے۔ (2) سود (Interest/Swap) نہیں ہوگا: میں صرف ایسا Islamic یا Swap-Free Account استعمال کروں گا جس میں رات بھر ٹریڈ رکھنے پر نہ مجھ سے سود لیا جائے گا اور نہ مجھے سود دیا جائے گا۔ (3) کمپنی کا سرمایہ اور منافع کی تقسیم: ٹریڈنگ کے لیے سرمایہ کمپنی کا ہوگا، مجھے اپنی طرف سے اصل ٹریڈنگ سرمایہ نہیں لگانا ہوگا۔ بعض Prop Firms میں یہ اکاؤنٹ حقیقی سرمایہ کے بجائے Simulation پر ہوتا ہے اور کمپنی میری ٹریڈنگ کی Performance کے مطابق مجھے ادائیگی کرتی ہے۔ اگر میری ٹریڈنگ سے منافع ہو تو وہ پہلے سے طے شدہ تناسب سے تقسیم کیا جاتا ہے، مثلاً 80% مجھے اور 20% کمپنی کو؛ اور اگر نقصان ہو تو میں اپنی جیب سے اس کا ذمہ دار نہیں ہوتا، لیکن اگر نقصان کمپنی کی مقررہ حد سے بڑھ جائے تو میرا اکاؤنٹ بند یا Contract ختم کر دیا جاتا ہے۔ (4) CFD اور حقیقی خرید و فروخت کا مسئلہ: اس پورے نظام میں عموماً CFDs (Contracts for Difference) استعمال ہوتے ہیں، جن میں میں حقیقت میں کوئی کرنسی، سونا، تیل یا دوسرا Asset خرید کر اپنے قبضے میں نہیں لیتا، بلکہ صرف اس کی قیمت اوپر یا نیچے جانے پر منافع یا نقصان حاصل کرتا ہوں۔

    میرا سوال یہ ہے کہ کیا اس طرح کی Prop Firm Trading شرعاً جائز اور حلال ہے؟ خاص طور پر میں یہ جاننا چاہتا ہوں: (1) کیا Evaluation/Test Fee دینا اور ناکام ہونے کی صورت میں اس فیس کا ضائع ہو جانا شرعاً جائز ہے؟ (2) اگر کمپنی کامیاب ہونے پر فیس واپس کر دے تو کیا حکم مختلف ہوگا؟ (3) کیا Swap-Free / Interest-Free Account ہونے سے سود کا مسئلہ ختم ہو جاتا ہے؟ (4) کیا CFDs میں حقیقی Asset کی خرید و فروخت اور قبضہ نہ ہونے کی وجہ سے یہ کاروبار ناجائز ہو جاتا ہے؟ (5) کیا Prop Firm اور Trader کے درمیان منافع کی تقسیم کو مضاربت کے طور پر سمجھا جا سکتا ہے؟ (6) اگر Trading حقیقی سرمایہ کے بجائے Demo یا Simulated Account پر ہو اور کمپنی صرف Performance کی بنیاد پر ادائیگی کرے، تو کیا اس کا شرعی حکم مختلف ہوگا؟ براہِ کرم اس پورے معاملے کی شرعی حیثیت واضح فرما دیں، اور اگر اس میں کوئی ناجائز یا مشتبہ پہلو ہے تو یہ بھی بتا دیں کہ اسے کس طرح دور کیا جا سکتا ہے۔

    سائل: غلام حسین قریشی


    بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

    اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ

    پروپ فرم ٹریڈنگ کا یہ طریقہ شرعاً ناجائز و حرام ہے، اور نہ کامیابی پر فیس واپس ہو جانے سے یہ جائز ہوتا ہے نہ swap-free اکاؤنٹ ہونے سے۔ اس معاملے کو مضاربت قرار نہیں دیا جا سکتا، اور اگر ٹریڈنگ demo یا simulated اکاؤنٹ پر ہو تو اس کی خرابی اور بڑھ جاتی ہے، کیونکہ اس میں سرے سے کوئی تجارت ہی نہیں ہوتی۔ اس نظام کے اندر رہتے ہوئے اس کی اصلاح کی کوئی صورت نہیں، لہذا اس سے بچنا لازم ہے۔

    تفصیل مسئلہ

    ٹیسٹ فیس اور CFDs کے بارے میں دار الافتاء سیلانی کا تفصیلی فتوی ’’پروپ فرم اکاؤنٹ کا شرعی حکم‘‘ (ویب سائٹ فتوی نمبر: 1230) جاری ہو چکا ہے، جس کا خلاصہ یہ ہے کہ ٹیسٹ فیس اس شرط پر دی جاتی ہے کہ کامیابی کی صورت میں فنڈڈ اکاؤنٹ اور نفع ملے گا اور ناکامی کی صورت میں فیس ڈوب جائے گی، اور مال کو ایسے غیر یقینی نتیجے پر داؤ پر لگانا کہ یا وہ ہاتھ سے چلا جائے یا اس کے بدلے زیادہ ملے، قمار (جوا) ہے؛ اور کامیابی پر فیس واپس کر دینے سے بھی یہ حکم نہیں بدلتا، کیونکہ یہ واپسی بھی اسی مشروط نتیجے کا حصہ ہے، اور ناکام ہونے والوں کی فیس بدستور ضبط ہوتی ہے۔ اسی طرح CFDs میں نہ کرنسی، سونا یا کوئی اور چیز ٹریڈر کی ملکیت میں آتی ہے نہ قبضے میں، بلکہ صرف قیمت کے فرق کا لین دین ہوتا ہے، جبکہ جو چیز اپنی ملکیت میں نہ ہو اسے بیچنا، اور منقولہ چیز کو قبضے سے پہلے آگے بیچنا شرعاً ناجائز ہے۔

    رہا swap-free (جسے آپ اسلامک اکاؤنٹ سمجھ رہے ہیں)، تو اس سے صرف رات بھر پوزیشن کھلی رکھنے پر لیا یا دیا جانے والا سود ختم ہوتا ہے، جبکہ باقی خرابیاں اپنی جگہ برقرار رہتی ہیں، یعنی قمار والی فیس بھی، اور CFDs میں ملکیت و قبضے کا نہ ہونا بھی۔ نیز ان اکاؤنٹس میں leverage کے ذریعے اصل رقم سے کئی گنا بڑی پوزیشن لی جاتی ہے، اور یہ اضافی رقم بروکر کی طرف سے قرض ہوتی ہے جس کے ذریعے وہ spread، کمیشن یا فیس کی صورت میں نفع کماتا ہے، جبکہ قرض پر کسی بھی قسم کا نفع یا سہولت حاصل کرنا سود ہے؛ اور کئی بروکرز swap-free اکاؤنٹ میں swap کی جگہ ایڈمن فیس کے نام سے رقم لیتے ہیں۔ لہذا محض swap-free ہونے سے یہ معاملہ جائز نہیں ہو جاتا۔

    اس معاملے کو مضاربت قرار نہیں دیا جا سکتا، کیونکہ مضاربت یہ ہے کہ ایک طرف سے مال اور دوسری طرف سے کام ہو، اور رأس المال مضارب کے حوالے کیا جائے، پھر وہ اس سے جائز تجارت کرے اور نفع طے شدہ تناسب سے تقسیم ہو۔ یہاں نہ کمپنی کا سرمایہ ٹریڈر کے حوالے ہوتا ہے، نہ اس سے جائز تجارت ہوتی ہے، کیونکہ CFDs کی خرید و فروخت خود ناجائز ہے؛ بلکہ الٹا کام کرنے والے یعنی ٹریڈر سے فیس لی جاتی ہے، جو مضاربت کے مزاج کے بالکل خلاف ہے۔ اور جب بنیادی تجارت ہی ناجائز ہو تو نفع کی تقسیم کا تناسب طے کر لینے سے وہ مضاربت نہیں بن جاتی۔

    اور اگر ٹریڈنگ حقیقی سرمائے کے بجائے demo یا simulated اکاؤنٹ پر ہو اور کمپنی صرف کارکردگی کی بنیاد پر ادائیگی کرے، تو اس کی خرابی اور واضح ہو جاتی ہے، کیونکہ اس صورت میں سرے سے کوئی خرید و فروخت ہوتی ہی نہیں، نہ کوئی نفع حقیقتاً پیدا ہوتا ہے؛ کمپنی کی ادائیگی محض فرضی سودوں کے نتائج پر مشروط رقم ہے، جس کا بڑا ذریعہ وہی فیسیں ہوتی ہیں جو ناکام ہونے والے ٹریڈرز سے لی جاتی ہیں۔ یوں یہ پورا نظام فیس کے بدلے غیر یقینی انعام کی صورت بن جاتا ہے، جو قمار اور دوسروں کا مال ناحق کھانے میں داخل ہے، اور یہاں تو مضاربت یا شرکت کا نام لینے کی بھی گنجائش نہیں۔

    اس نظام کے اندر رہتے ہوئے ان خرابیوں کو دور کرنے کی کوئی صورت نہیں، کیونکہ فیس، CFDs اور leverage اس کے بنیادی اجزاء ہیں۔ اگر کوئی شخص یا ادارہ واقعی ٹریڈنگ کی مہارت رکھنے والے سے کام لینا چاہے تو جائز صورت یہ ہے کہ وہ بغیر کسی شرکت فیس کے اپنا حقیقی سرمایہ اس کے حوالے کرے، اور وہ اس سے جائز تجارت کرے، مثلاً حقیقی اشیاء خرید کر قبضے کے بعد بیچے، اور نفع پہلے سے طے شدہ فیصد کے مطابق تقسیم ہو، جبکہ نقصان مضارب کی کوتاہی کے بغیر ہو تو سرمایہ لگانے والے کا ہو۔

    دلائل و جزئیات

    جوئے کی حرمت کے متعلق ارشاد باری تعالی ہے: یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اِنَّمَا الْخَمْرُ وَ الْمَیْسِرُ وَ الْاَنْصَابُ وَ الْاَزْلَامُ رِجْسٌ مِّنْ عَمَلِ الشَّیْطٰنِ فَاجْتَنِبُوْهُ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُوْنَ. ترجمہ: اے ایمان والو شراب اور جُوااور بُت اور پانسے ناپاک ہی ہیں شیطانی کام تو ان سے بچتے رہنا کہ تم فلاح پاؤ۔

    (المائدۃ: 90)

    قمار کی حقیقت کے متعلق علامہ ابن عابدین شامی رحمۃ اللہ علیہ (المتوفی: 1252ھ) فرماتے ہیں: "لأن القمار من القمر الذي يزداد تارة وينقص أخرى، وسمي القمار قمارا لأن كل واحد من المقامرين ممن يجوز أن يذهب ماله إلى صاحبه، ويجوز أن يستفيد مال صاحبه وهو حرام بالنص". ترجمہ: کیونکہ قمار "قمر" (چاند) سے ماخوذ ہے جو کبھی بڑھتا اور کبھی گھٹتا ہے، اور قمار کو قمار اس لیے کہا گیا کہ جوا کھیلنے والوں میں سے ہر ایک ایسا ہوتا ہے کہ ہو سکتا ہے اس کا مال دوسرے کے پاس چلا جائے، اور ہو سکتا ہے وہ دوسرے کا مال حاصل کر لے، اور یہ نص سے حرام ہے۔ (رد المحتار، کتاب الحظر والاباحۃ، فصل فی البیع، 6/403، دار الفکر بیروت)

    جو چیز اپنے پاس نہ ہو اسے بیچنے کی ممانعت کے متعلق حضرت حکیم بن حزام رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں: "أتيت رسول الله ﷺ فقلت: يأتيني الرجل يسألني من البيع ما ليس عندي، أبتاع له من السوق ثم أبيعه؟ قال: لا تبع ما ليس عندك". ترجمہ: میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کی: میرے پاس آدمی آتا ہے اور مجھ سے ایسی چیز خریدنا چاہتا ہے جو میرے پاس نہیں ہوتی، کیا میں اس کے لیے بازار سے خرید کر پھر اسے بیچ دوں؟ فرمایا: جو چیز تمہارے پاس نہیں اسے مت بیچو۔ (سنن الترمذی، ابواب البیوع، باب ما جاء فی کراہیۃ بیع ما لیس عندک، 3/526، الرقم: 1232، مطبعة مصطفى البابي الحلبي)

    منقولہ چیز کو قبضے سے پہلے بیچنے کے ناجائز ہونے کے متعلق امام برہان الدین مرغینانی رحمۃ اللہ علیہ (المتوفی: 593ھ) فرماتے ہیں: "ومن اشترى شيئا مما ينقل ويحول لم يجز له بيعه حتى يقبضه لأنه عليه الصلاة والسلام نهى عن بيع ما لم يقبض ولأن فيه غرر انفساخ العقد على اعتبار الهلاك". ترجمہ: اور جس نے کوئی ایسی چیز خریدی جو ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل کی جا سکتی ہو، تو اس کے لیے قبضے سے پہلے اسے بیچنا جائز نہیں، کیونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے قبضے سے پہلے بیچنے سے منع فرمایا، اور اس لیے کہ اس میں ہلاکت کی صورت میں عقد کے ٹوٹ جانے کا دھوکا ہے۔ (الهداية في شرح بداية المبتدي، كتاب البيوع، باب المرابحة والتولية، 3/59، دار إحياء التراث العربي بيروت)

    قرض پر نفع کے سود ہونے کے متعلق علامہ ابن عابدین شامی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: "وفي الأشباه كل قرض جر نفعا حرام". ترجمہ: اور الاشباہ میں ہے کہ ہر وہ قرض جو نفع کھینچ کر لائے، حرام ہے۔ (رد المحتار، کتاب البیوع، فصل فی القرض، 5/166، دار الفکر بیروت)

    مضاربت کی حقیقت کے متعلق امام مرغینانی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: "المضاربة عقد على الشركة بمال من أحد الجانبين ومراده الشركة في الربح وهو يستحق بالمال من أحد الجانبين والعمل من الجانب الآخر ولا مضاربة بدونها". ترجمہ: مضاربت ایسا عقد ہے جس میں ایک جانب کے مال کے ساتھ شرکت ہو، اور اس سے مراد نفع میں شرکت ہے، جس کا استحقاق ایک جانب سے مال اور دوسری جانب سے عمل کی بنیاد پر ہوتا ہے، اور اس کے بغیر مضاربت نہیں ہوتی۔ (الهداية في شرح بداية المبتدي، كتاب المضاربة، 3/200، دار إحياء التراث العربي بيروت)

    رأس المال کا مضارب کے حوالے کیا جانا شرط ہونے کے متعلق علامہ زین الدین ابن نجیم رحمۃ اللہ علیہ (المتوفی: 970ھ) مضاربت کی شرائط میں فرماتے ہیں: "الثالث أن يكون رأس المال مسلما إلى المضارب بخلاف الشركة". ترجمہ: تیسری شرط یہ ہے کہ رأس المال مضارب کے حوالے کر دیا جائے، بخلاف شرکت کے۔ (البحر الرائق شرح کنز الدقائق، کتاب المضاربۃ، 7/264، دار الکتاب الاسلامی)

    دوسروں کا مال ناحق کھانے کی ممانعت کے متعلق ارشاد باری تعالی ہے: وَ لَا تَاْكُلُوْۤا اَمْوَالَكُمْ بَیْنَكُمْ بِالْبَاطِلِ. ترجمہ: اور آپس میں ایک دوسرے کا مال ناحق نہ کھاؤ۔ (البقرۃ: 188)۔

    واللہ تعالی اعلم بالصواب


    کتبـــــــــــــــــــــــــــــــــــہ: ابو امیر خسروسید باسق رضا

    الجــــــــواب الصــــحــــــیح: ابو الحسنین مفتی وسیم اختر المدنی

    10 جمادی الاولی 1448ھ/22 اکتوبر 2026ء کو جاری کیا گیا