kya ek bar diya hua sawab kisi dusre ko bhi diya ja sakta hai
سوال
اگر کوئی شخص قرآنِ کریم کی تلاوت، درودِ پاک، ذکر و اذکار یا کوئی اور نیک عمل پڑھنے کے بعد یہ کہے کہ:’’میں اس عمل کا ثواب فلاں گروپ کے تمام اراکین کے مِلک کرتا ہوں" یا "یہ ثواب آپ سب کے مِلک کیا‘‘تو کیا شرعاً مِلک کرنا یا مالک بنانا کے الفاظ استعمال کرنا درست ہے؟مزید یہ کہ اگر بعد میں وہی شخص اسی پڑھے ہوئے عمل کے متعلق کسی دوسرے گروپ یا کسی فردِ واحد سے بھی یہ کہے کہ:’’میں نے یہ ثواب آپ کے مِلک کیا‘‘تو کیا شرعاً ایسا کہنا جائز ہے؟
بعض حضرات کا اعتراض ہے کہ جب ایک مرتبہ ثواب کسی شخص یا گروہ کے مِلک کر دیا گیا تو وہ اس کی ملکیت بن گیا، لہٰذا بعد میں اسی ثواب کو کسی دوسرے شخص یا گروہ کے مِلک کرنا درست نہیں ہوگا۔براہِ کرم قرآن، حدیث، فقہِ حنفی اور ائمۂ اہلِ سنت کے کلام کی روشنی میں رہنمائی فرمائیں کہ ثواب کے بارے میں مِلک کرنا کی تعبیر شرعاً درست ہے یا نہیں؟اگر درست ہے تو کیا ایک ہی عمل کا ثواب متعدد افراد یا گروہوں کے مِلک کیا جا سکتا ہے؟یا اس مقام پر اہداءِ ثواب اور ایصالِ ثواب کے الفاظ ہی استعمال کیے جائیں اور مِلک کا لفظ استعمال نہ کیا جائے؟
سائل: عبد اللہ بمعرفت مفتی محمد یوسف قادری
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ
ایصالِ ثواب میں ملک کرنے کے الفاظ استعمال کرنے میں کوئی حرج نہیں، کہ ممانعت پر کوئی دلیل وارد نہیں ہوئی۔
البتہ ایک بار ایصال کیے گئے ثواب کو دوبارہ کہیں اور ایصال کرنا درست نہیں بلکہ دھوکہ ہے، کیونکہ ہر شخص یہی گمان کرتا ہے کہ ابھی جو مجھے فلاں شخص نے ثواب ایصال کیا ہے، وہ کسی اور کو نہیں کیا۔ پس جب معاملہ اس کے برعکس ہو اور ایصالِ ثواب کرنے والا اس بات کو پوشیدہ رکھے تو یہ دھوکہ شمار ہوگا، اور دھوکہ دینے والے کیلئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سخت وعید ہے کہ ’’ وہ ہم میں سے نہیں جو دھوکہ دے‘‘؛ حتیٰ کہ حربی کافر کو بھی دھوکہ دینا جائز نہیں۔یہ حکم اس بنیاد پر نہیں کہ ایصالِ ثواب میں ملک کے الفاظ استعمال ہوئے (اور چونکہ ملکیت کے انتقال سے مالک تبدیل ہو جاتا ہے، لہٰذا پچھلا مالک اس شے پر کوئی حق نہیں رکھتا) کہ وہ لفظ تو مجازًا استعمال ہوا؛ بلکہ اس حکم کی بنیاد محض دھوکہ دہی ہے۔
یاد رہے کہ یہاں دو چیزوں میں فرق ہے: ایک صورت یہ ہے کہ ایک ہی ثواب ایصال کرنے کے بعد (پوشیدہ طور پر) کسی اور کو ایصال کیا جائے، جو کہ دھوکے کی وجہ سے منع ہے۔ اور دوسری صورت یہ ہے کہ ایک ہی وقت میں ایک سے زائد لوگوں کو ثواب ایصال کیا جائے؛ یہ بالکل جائز ہے، کہ اس کے ثبوت میں احادیثِ مبارکہ وارد ہیں کہ کوئی شخص نفلی صدقہ کرنا چاہے تو اپنے والدین کی نیت بھی ساتھ شامل کر لے۔ اس سے ثواب میں کمی نہیں ہوگی۔ اسی طرح کسی روزے دار کو افطار کروایا تو افطار کروانے والے کو روزے دار کے برابر ثواب ملے گا، اور اس سے روزے دار کا ثواب کم نہیں ہوگا۔ یوں ہی کسی نے صدقہ جاریہ کا کوئی عمل کیا تو اس سے بھی ثواب کم نہیں ہوتا۔اسی لیے علماءِ کرام نے ایصالِ ثواب میں افضل طریقہ یہ بیان کیا ہے کہ نیک کام کا ثواب تمام کے تمام مسلمانوں کو ایصال کرے، چاہے وہ زندہ ہوں یا انتقال کر گئے ، اس صدی کے ہوں یا پچھلی صدی کے۔ الغرض پہلے مسلمان سے لے کر آخری مسلمان تک سب کی نیت کرے، ان سب کو ثواب پہنچے گا اور اس ثواب بھیجنے والے کو بھی ان سب کے برابر اجر ملے گا۔
دلائل وجزئیات:
دھوکادینے کی ممانعت کے بارے میں حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے:"ان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قال ومن غشنا فلیس منا".ترجمہ:رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اور جس نے ہمیں دھوکادیا،وہ بھی ہم میں سے نہیں۔ (الصحیح لمسلم ،کتاب الایمان،باب من غشنافلیس منا،1/99،رقم الحدیث:101،دار احیاء التراث العربی)
اس حدیث پاک کے تحت علامہ عبدالرؤف المناوی رحمہ اللہ(المتوفی:1031ھ)فرماتے ہیں:"والغش ستر حال الشئ"۔ترجمہ:دھوکا سے مراد کسی شی کی اصل حالت کو چھپاناہے۔(فیض القدیر،6/185،المکتبۃ التجاریۃ الکبری)
امام اہلسنت امام احمد رضا خان علیہ رحمۃ الرحمن (المتوفی:1340ھ) فرماتے ہیں:’’غدر و بدعہدی مطلقاً سب سے حرام ہے ۔مسلم ہو یا کافر ذمی ہو یا حربی مستامن ہو یا غیر مستامن اصلی ہو یا مرتد ۔ہدایہ و فتح القدیر وغیرہما میں ہے:"لان مالھم غیر معصوم فبای طریق اخذہ المسلم اخذ مالا مباحامالم یکن غدر".ترجمہ: کیونکہ ان کفار کا مال معصوم نہیں اسے مسلمان جس طریق سے بھی حاصل کرلے وہ مال مباح ہوگا مگرشرط یہ ہے کہ دھوکا نہ ہو۔(فتاوی رضویہ،14/140، رضا فاؤنڈیشن لاہور)
والدین کو ایصالِ ثواب کرنے کی فضیلت اور ان کے اجر میں کمی کے بغیر برابر ثواب ملنے پر روایت منقول ہے: "ما على أحدكم إذا أراد أن يتصدق لله صدقة تطوعا أن يجعلها عن والديه إذا كانا مسلمين فيكون لوالديه أجرها وله مثل أجورهما بعد إن يتصدق لا ينتقص من أجورهما شيء".ترجمہ: تم میں سے کسی پر کیا حرج ہے جب وہ اللہ کیلئے کوئی نفلی صدقہ کرنا چاہے تو اسے اپنے والدین کی طرف سے کر دے اگر وہ مسلمان ہوں، پس اس کے والدین کو اس کا اجر ملے گا اور اسے بھی ان دونوں کے اجر کے مثل ملے گا، اس کے صدقہ کرنے کے بعد ان دونوں کے اجر میں سے کچھ بھی کم نہیں کیا جائے گا۔ (کنز العمال ، رقم الحدیث: 16245، مؤسسة الرسالة)
روزہ دار کا روزہ افطار کروانے پر بغیر کسی کمی کے برابر ثواب ملنے کی فضیلت میں حدیث ہے: "من فطر صائما كان له مثل أجرهم، من غير أن ينقص من أجورهم شيئا". ترجمہ: جس نے کسی روزہ دار کا روزہ افطار کروایا اسے بھی روزہ دار کے برابر اجر ملے گا، بغیر اس کے کہ ان (روزہ داروں) کے اجر میں سے کچھ بھی کم کیا جائے۔ (سنن ابن ماجہ، کتاب الصیام، باب في ثواب من فطر صائماً، 1/555، رقم الحدیث: 1746، دار إحياء الكتب العربية)
اسی طرح ہدایت یا گمراہی کی طرف دعوت دینے والے کیلئے متبعین کے برابر اجر یا گناہ ثابت ہونے کی روایت ہے: "من دعا إلى هدى، كان له من الأجر مثل أجور من تبعه، لا ينقص ذلك من أجورهم شيئا، ومن دعا إلى ضلالة، كان عليه من الإثم مثل آثام من تبعه، لا ينقص ذلك من آثامهم شيئا". ترجمہ: جس نے ہدایت کی طرف دعوت دی، تو اس کیلئے متبعین (پیروی کرنے والوں) کے اجر کی مثل اجر ہوگا، یہ ان کے اجروں میں سے کچھ کم نہ کرے گا، اور جس نے گمراہی کی طرف دعوت دی، تو اس پر پیروی کرنے والوں کے گناہ کی مثل گناہ ہوگا، یہ ان کے گناہوں میں سے کچھ کم نہ کرے گا۔ (صحیح مسلم، کتاب العلم، باب من سنّ..الخ، 4/2060، رقم الحدیث: 2674، دار احیاء التراث العربي)
کثیر ارواح کو ایصالِ ثواب کرنے کی صورت میں ثواب کی تقسیم تعدادِ ارواح کے برابر اجر ملنے پر امام اہلسنت امام احمد رضا خان علیہ رحمۃ الرحمن (المتوفی:1340ھ) فرماتے ہیں:’’ میّت کو مثل قاری ثواب پہنچتا ہے کہ قاری کا ثواب تو ا س کے پاس سے نہیں جاتا... لاکھوں ہو تو لاکھوں کوا تنا ہی ثواب پہنچے گا اور قاری کا ثواب کم نہ ہوگا، بلکہ بعدد اموات ترقی کرے گا۔ حدیث میں ہے رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”من قرأ الاخلاص احدی عشر مرۃ ثم وھب اجرھا للاموات اعطی من الاجر بعدد الاموات“ یعنی جو سورہ اخلاص گیارہ بار پڑھ کر اموات مسلمین کو اس کاثواب بخشے بعدد اموات اجر پائے‘‘۔ (فتاویٰ رضویہ،9/629، رضا فاؤنڈیشن، لاہور)
ایصالِ ثواب کے افضل طریقہ سے متعلق امام اہلسنت رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ’’ ہر شخص کو افضل یہی کہ جو عمل صالح کرے اس کا ثواب اولین وآخرین احیاء واموات تمام مومنین ومومنات کیلئے ہدیہ بھیجے سب کو ثواب پہنچے گا اور اُسے اُن سب کے برابر اجرملے گا‘‘۔ (فتاویٰ رضویہ، 9/617، رضا فاؤنڈیشن، لاہور) ۔
واللہ تعالی اعلم بالصواب
کتبـــــــــــــــــــــــــــہ:ابو امیر خسرو سید باسق رضا
الجواب الصحیح:ابو الحسنین مفتی وسیم اختر المدنی
تاریخ اجراء:1 محرم الحرام 1448ھ/17 جون 2026ء