qabza se pehle dukan jal gai to nuqsan kis ka
سوال
میرا نام عبد الوہاب ہے اور میں نے گل پلازہ، جو کہ کراچی میں پچھلے دنوں حادثے کا شکار ہو گئی جس میں آگ لگ گئی، اس میں ایک دکان کا سودا کیا تھا۔ دکان نمبر 166، اس کے اونر (مالک) محمد امین تھے۔ہمارا سودا تقریباً 8 کروڑ 35 لاکھ روپے میں طے ہوا تھا۔ معاہدے کے مطابق پیمنٹ کا وقت 4 ماہ تھا، لیکن انہوں نے کہا کہ مجھے پیمنٹ کی ضرورت نہیں، آپ 6 ماہ میں پیمنٹ دیجیے گا۔ مجھے چائنہ جانا ہے، تو آپ جتنی پیمنٹ کر سکتے ہیں ابھی کر دیں، باقی 4 کروڑ روپے مجھے آپ جب میں چائنہ جاؤں گا تب دیجیے گا، کیونکہ میں بینک میں بھی پیسے نہیں رکھ سکتا۔تو میں نے ان کو تقریباً 4 ماہ کے اندر 4 کروڑ 35 لاکھ روپے ادا کر دیے، اور ابھی 4 کروڑ روپے باقی تھے کہ مارکیٹ میں حادثہ ہو گیا اور مارکیٹ پوری کی پوری جل گئی۔یہ پیمنٹ ان کے پاس موجود ہے، اور انہوں نے کہیں 1.5 کروڑ روپے کاروبار میں بھی لگائے ہیں۔
مسئلہ یہ پوچھنا ہے کہ جب مارکیٹ کو آگ لگ گئی ہے اور قبضہ ان کے پاس تھا، انہوں نے ابھی تک مجھے قبضہ بھی نہیں دیا تھا۔ جب میں بقیہ 4 کروڑ روپے دیتا، 2 مہینے کے بعد، تو مجھے قبضہ دیتے اور میرے نام پر ٹرانسفر کرواتے۔ دکان بھی ابھی انہی کے نام پر تھی اور قبضہ بھی انہی کا تھا؛ تو 4 کروڑ 35 لاکھ روپے جو ابھی میرے ان کے پاس ہیں، کیا وہ دینے کے پابند ہیں؟ یا جب مارکیٹ جل گئی ہے تو نقصان کس کا ہوگا؟ میں عبد الوہاب یہ چاہتا ہوں کہ مجھے میری رقم واپس مل جائیں، اس میں میری شرعی رہنمائی فرما دیں۔
سائل: عبد الوہاب، کراچی
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ
اگر سائل اپنے بیان میں سچا ہے اور وہی صورت حال ہے جو پوچھی گئی تو، چونکہ دکان کا قبضہ ابھی تک بائع (محمد امین) ہی کے پاس تھا اور مشتری (عبد الوہاب) کو سپرد نہیں کیا گیا تھا، اس لیے دکان جلنے کا یہ تمام نقصان بائع (محمد امین) کا ہے۔ شرعی اصول کے مطابق یہ سودا (بیع) ختم ہو چکا ہے، اور بائع محمد امین آپ کی ادا کردہ رقم یعنی 4 کروڑ 35 لاکھ روپے مکمل واپس کرنے کے شرعاً پابند ہیں۔
اس مسئلے کی شرعی حیثیت اور نقصان کی ذمہ داری کو سمجھنے کیلئے درج ذیل شرعی اصول قابلِ غور ہیں:
(۱) قبضہ سے قبل مبیع کی ہلاکت اور ضمان کا اصول: بیع میں مبیع (بیچی جانے والی چیز، جیسے یہاں دکان ہے) کے نقصان یا ہلاکت کی ذمہ داری (ضمان) براہِ راست قبضہ کے ساتھ وابستہ ہوتی ہے۔ جب تک خریدار کو مبیع کا باقاعدہ اور معتبر قبضہ نہ دے دیا جائے، اس وقت تک اس کی حفاظت اور کسی بھی ناگہانی نقصان کی ذمہ داری بائع (بیچنے والے) پر ہی برقرار رہتی ہے۔ فقہائے کرام نے صراحت فرمائی ہے کہ اگر مبیع پر ابھی خریدار کا قبضہ نہ ہوا ہو اور وہ کسی قدرتی حادثے (جیسے ناگہانی آگ لگنے) یا بائع کی غفلت و تعدی سے ہلاک ہو جائے، تو یہ نقصان خالصتاً بائع کا شمار ہوگا، سودا خود بخود ختم ہو جائے گا اور بائع پر لازم ہوگا کہ وہ خریدار کو اس کی ادا کردہ تمام رقم واپس کرے۔
(۲) شرعی قبضہ کی تعریف: شریعت میں قبضہ اس وقت معتبر ہوتا ہے جب بائع (بیچنے والا) مبیع اور خریدار کے درمیان سے تمام رکاوٹیں ختم کر دے اور خریدار کو اس چیز میں تصرف کرنے کا پورا پورا اختیار دے دے (جسے فقہی اصطلاح میں تخلیہ کہا جاتا ہے)۔ آپ کے معاملے میں دکان ابھی تک محمد امین ہی کے نام پر تھی، تالے اور چابی انہی کے پاس تھے، اور خود ان کے درمیان یہ معاہدہ طے تھا کہ بقیہ 4 کروڑ روپے کی ادائیگی (جو کہ 2 ماہ بعد ہونی تھی) پر ہی دکان کا قبضہ اور ٹرانسفر دیا جائے گا۔ لہٰذا شرعاً اس دکان پر آپ کا قبضہ نہیں ہوا تھا۔
پوچھی گئی صورت میں دکان کا قبضہ خریدار (عبد الوہاب) کو نہیں ملا تھا اور دکان کی ہلاکت (گل پلازہ میں آگ لگنے کا حادثہ) خریدار کے کسی فعل، غلطی یا سستی کی وجہ سے نہیں ہوئی۔ سائل بائع (محمد امین) کی طرف سے یہ بات بالکل واضح تھی کہ بقیہ رقم ملنے پر ہی قبضہ دیا جائے گا، اس لیے دکان کے جلنے کا یہ پورا نقصان بائع (محمد امین) کا شمار ہوگا۔لہذا شرعی رو سے جب یہ سودا ختم ہو چکا ہے، تو محمد امین آپ کے وہ 4 کروڑ 35 لاکھ روپے جو ان کے پاس موجود یا ان کے کاروبار میں لگے ہیں، آپ کو واپس کرنے کے پابند ہیں۔ آپ کیلئے اپنی یہ رقم واپس مانگنا بالکل جائز ہے۔
دلائل و جزئیات:
اسی قسم کا ایک سوال امام اہلسنت امام احمد رضا خان علیہ رحمۃ الرحمن (المتوفی:1340ھ) سے پوچھا گیا کہ زیدکے مکان میں ایک درخت فالسہ کا تھا اور بکر کے ہاتھ فروخت کئے ہوئے ایک مہینہ گزرگیا، بعدہ، زید کے مکان میں آگ لگ گئی، درخت مذکور جل گیا، قیمت اس کی بکر کو واپس دینا چاہئے یانہیں؟ اس کے جواب میں امام اہلسنت رحمہ اللہ نے فرمایا:’’بعد استفسار واضح ہوا کہ گھنڈ ساریوں کے ہاتھ فاسلہ کی ٹہنیاں بیچی جاتی ہے وہ انھیں کاٹ لیتے ہیں اور پیڑ بدستور قائم رہتا ہے، یہ بیع بھی انھیں ٹہنیوں کی تھی اور مشتری ہنوز کاٹنے نہ پایا تھا کہ مکان میں آگ لگ گئی پیڑ جل گیا، اس صورت میں قطع نظر اس سے کہ صرف ٹہنیوں کی بیع جائز وصحیح ہونے میں بہت نزاع طویل ہے۔وانما حکم من حکم بالجواز مستنداالی التعامل اوان کان موضع القطع معلوما بالعرف کما فصلہ فی الدر وحواشیہ یعنی اور جس نے جواز کا حکم کیا اس نے تعامل کی بنیاد پر جواز کاحکم کیا یا اس بنیاد پر کہ ازروئے عرف کاٹنے کی جگہ معلوم ہو جیسا کہ درّ اور اس کے حواشی میں اس کی تفصیل ہے ۔جب شیئ مبیع قبل قبضہ مشتری دست بائع میں ہلاک ہوگئی بیع جاتی رہی اور جو قیمت لی تھ وہ واپس دینی واجب،فی درالمختار عن الفتح والدرالمنتقی لوھلک المبیع بفعل البائع اوبفعل المبیع اوبامرسماوی بطل البیع ویرجع بالثمن لومقبوضا ۔ یعنی ردالمحتارمیں بحوالہ فتح اور در منتقٰی ہے کہ اگر فعل مبیع یا فعل بائع یا کسی امر سماوی سے مبیع (بائع کے ہاتھ میں) ہلاک ہوجائے تو بیع باطل ہوجائے گی اور ثمنوں پر اگر بائع قبضہ کرچکا ہے تو لوٹائے جائیں گے (رد المحتا، کتاب البیوع)۔(فتاوی رضویہ، 17/116، رضا فاؤنڈیشن لاہور)
مبیع کے قبلِ قبضہ بائع کے پاس ہلاک ہونے کی صورت میں بیع کے انفساخ پر علامہ برہان الدین علی بن ابی بکر فرغانی مرغینانی (المتوفی: 593ھ) فرماتے ہیں: "ولو هلك في يد البائع انفسخ البيع ولا شيء على المشتري اعتبارا بالبيع الصحيح المطلق". ترجمہ: اور اگر مبیع بائع کے قبضے میں ہلاک ہو جائے تو بیع خود بخود ختم ہو جائے گی اور مشتری پر کوئی چیز لازم نہ ہوگی، بیعِ صحیح مطلق کا اعتبار کرتے ہوئے۔ (الہدایۃ شرح بدایۃ المبتدی، کتاب البیوع، باب خیار الشرط، 3/30، دار احياء التراث العربي بيروت)
مبیع کے قبلِ قبضہ ہلاک ہونے کی مختلف صورتوں (بائع، مبیع، مشتری کے فعل یا امرِ سماوی) کے تفصیلی حکم پر علامہ ابن عابدین شامی (المتوفی: 1252ھ) لکھتے ہیں: "وفي الفتح والدر المنتقى: لو هلك المبيع بفعل البائع أو بفعل المبيع أو بأمر سماوي، بطل البيع ويرجع بالثمن لو مقبوضا" . ترجمہ: اور فتح القدیر اور الدر المنتقی میں ہے: اگر مبیع بائع کے فعل سے، یا خود مبیع کے فعل سے، یا کسی امرِ سماوی سے ہلاک ہو جائے تو بیع باطل ہو جائے گی اور ثمن اگر وصول کر لیا گیا ہو تو واپس لوٹایا جائے گا۔(رد المحتار ، کتاب البیوع،تحت قوله: إن أحضر البائع السلعة، 4/560، دار الفکر، بیروت) (فتح القدیر، کتاب البیوع، فصل من باع دارا دخل بناؤها في البيع، 6/296، دار الفکر، بیروت)
تسلیمِ مبیع (سپردگی) کی حقیقت اور شرائط پر علامہ کمال الدین محمد بن عبد الواحد بن ہمام (المتوفی: 861ھ) لکھتے ہیں: "تسليم المبيع أن يخلي بينه وبين المبيع على وجه يتمكن من قبضه من غير حائل، وكذا تسليم الثمن. وفي الأجناس يعتبر في صحة التسليم ثلاثة معان: أن يقول خليت بينك وبين المبيع، وأن يكون المبيع بحضرة المشتري على صفة يتأتى فيه الفعل من غير مانع، وأن يكون مفرزا غير مشغول بحق غيره" . ترجمہ: مبیع کو سپرد کرنا یہ ہے کہ بائع مبیع اور مشتری کے درمیان اس طرح تخلیہ (رکاوٹ دور) کر دے کہ مشتری بغیر کسی حائل (مانع) کے اس پر قبضہ کرنے پر قادر ہو جائے، اور یہی حکم ثمن کی تسلیم کا ہے۔ اور الاجناس میں ہے کہ تسلیم کے صحیح ہونے میں تین امور کا اعتبار کیا جاتا ہے: (اول) یہ کہ بائع کہے کہ میں نے تمہارے اور مبیع کے درمیان تخلیہ کر دیا، (دوم) یہ کہ مبیع مشتری کے سامنے ایسی حالت پر موجود ہو کہ اس میں بغیر کسی مانع کے تصرف ممکن ہو، اور (سوم) یہ کہ مبیع (دیگر اشیاء سے) ممتاز و جدا ہو اور کسی دوسرے کے حق کے ساتھ مشغول نہ ہو۔ (فتح القدیر، کتاب البیوع، فصل من باع دارا دخل بناؤها في البيع، تحت قوله: ومن باع سلعة بسلعة ..الخ، 6/297، دار الفکر، بیروت)
تخلیہ کے ذریعے مبیع پر قبضہ حکمی ثابت ہونے کی تفصیل پر علامہ ابن عابدین شامی (المتوفی: 1252ھ) فرماتے ہیں: "مطلب في شروط التخلية وحاصله: أن التخلية قبض حكما لو مع القدرة عليه بلا كلفة لكن ذلك يختلف بحسب حال المبيع، ففي نحو حنطة في بيت مثلا فدفع المفتاح إذا أمكنه الفتح بلا كلفة قبض، وفي نحو دار فالقدرة على إغلاقها قبض أي بأن يكون في البلد فيما يظهر، وفي نحو بقر في مرعى فكونه بحيث يرى ويشار إليه قبض وفي نحو ثوب، فكونه بحيث لو مد يده تصل إليه قبض، وفي نحو فرس أو طير في بيت إمكان أخذه منه بلا معين قبض" . ترجمہ: مطلب تخلیہ کی شرائط کے بیان میں، اور اس کا حاصل یہ ہے: بیشک تخلیہ قبضہ حکمی ہوتا ہے بشرطیکہ بغیر مشقت کے اس پر قدرت حاصل ہو، لیکن یہ مبیع کے حال کے بدلنے سے مختلف ہو جاتا ہے؛ چنانچہ مثال کے طور پر گھر میں موجود گندم کی مثل میں چابی کا سپرد کر دینا قبضہ ہے جب کہ بغیر مشقت کے اسے کھولنا ممکن ہو، اور گھر کی مثل میں (گھر کو) مقفل کرنے (تالا لگانے) پر قدرت پا لینا قبضہ ہے یعنی بایں طور کہ وہ اسی شہر میں موجود ہوظاہر قول کے مطابق، اور چراگاہ میں گائے کی مثل میں اس کا اس طرح ہونا کہ وہ دکھائی دے اور اس کی طرف اشارہ کیا جا سکے قبضہ ہے، اور کپڑے کی مثل میں اس کا اس طرح ہونا کہ اگر وہ اپنا ہاتھ بڑھائے تو اس تک پہنچ جائے قبضہ ہے، اور گھر میں گھوڑے یا پرندے کی مثل میں کسی مددگار کے بغیر اس کو پکڑنے کا امکان قبضہ ہے۔ (رد المحتار ، کتاب البیوع، مطلب فيما يكون قبضا للمبيع، 4/562، دار الفکر بیروت) ۔
واللہ تعالی اعلم بالصواب
کتبـــــــــــــــــــــــــــہ:ابو امیر خسرو سید باسق رضا
الجواب الصحیح:ابو الحسنین مفتی وسیم اختر المدنی
تاریخ اجراء:17 ذو الحجہ 1447ھ/3 جون 2026ء