taleem aur karobar mein aurat ka apni awaz istemal karna kaisa
سوال
(۱) کیا کالج کی طالبہ کیلئے لیکچر بات سمجھنے کی غرض سے نامحرم پروفیسر یا نا محرم اسٹوڈنٹس سے اپنی آواز میں سوال کرنے کی شرعاً اجازت ہے؟ جبکہ عام طور پر کہا جاتا ہے کہ عورت کی آواز بھی عورت ہے۔ (۲) کیا کوئی خاتون آن لائن کاروبار کیلئے چہرہ دکھائے بغیر، صرف اپنی آواز میں پروڈکٹ کی تفصیلات بیان کر کے ویڈیو شیئر کر سکتی ہے؟ (۳) اگر کاروباری مقاصد کیلئے خاتون اپنی اصل آواز کے بجائے AI(مصنوعی ذہانت) ٹیکنالوجی کے ذریعے کسی فرضی خاتون کی آواز تیار کر کے استعمال کرے، تو کیا اس کی گنجائش ہوگی؟
سائل: مدثر حسن عطاری
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ
(۱) تعلیم کی غرض سے کالج کی طالبہ کیلئے نامحرم پروفیسر یا نامحرم اسٹوڈنٹس سے سبق سمجھنے کیلئے سوال کرنے کی رخصت موجود ہے۔ کیونکہ شریعت میں عورت کی جس آواز کو پردے کے حکم میں رکھا گیا ہے، وہ وہ مخصوص آواز ہے جس میں نغمگی، لچک، اور نرمی ہو جس سے مردوں کو لبھانے کا پہلو نکلتا ہو؛ چنانچہ اگر طالبہ کی آواز میں ایسی کوئی نغمگی نہ ہو بلکہ وہ سادہ اور سنجیدہ لہجے میں بات کرے، تو تعلیم جیسے جائز مقصد کیلئے اپنی آواز میں سوال کرنا مباح ہے۔
(۲) اگر عورت کا کوئی ولی مرد نہیں جو اس کا خرچہ اٹھائے اور اس آن لائن کاوربار کے علاوہ کوئی اور ذریعہ معاش ممکن نہ ہو تو کاروباری مقاصد کیلئے بھی عورت اپنی آواز استعمال کر سکتی ہے لیکن آواز قطعاً ایسی نہ ہو جو مردوں کو لبھائے یعنی بے تکلفانہ یا نرم لہجہ نہ ہو بلکہ سخت اور کرخت لہجہ ہونا چاہیے جس سے واضح ہو کہ مقصود صرف کاروبار ہے مردوں کو لبھانا نہیں۔لیکن جب تک عورت کا کوئی والی مرد ہو جو اس کا نفقہ اٹھائے یا عورت اس کے علاوہ کسی طریقہ سے کمائی کر سکے تو اس کی رخصت نہیں ہوگی۔ یاد رہے یہ حکم آن لائن کاروبار سے متعلق ہے، آج کل جو بعض خواتین مارکیٹ میں جا کر پروموشنل ویڈیوز بناتی ہیں وہ مختلف وجوہات(بلا ضرورت گھر سے باہر نکلنا،نفقہ اٹھانے والے ولی کے ہوتے ہوئے یہ کام کرنا، دوکانداروں سے بے پردہ ملاقات، پردے میں ہوں تو بلا تکلف کلام) سے ممنوع ہے۔
(۳) یہ طریقہ سب سے بہتر ہے کہ جس میں عورت کا اپنی آواز استعمال کرنا شامل نہیں۔ البتہ جب آواز مصنوعی ہو تو عورت کی آواز بنوانے کی کوئی حاجت نہیں لہٰذا مرد کی مصنوعی آواز استعمال کی جائے، کیونکہ یہاں دھوکا متحقق نہیں کہ مقصود کاوربار ہے نہ کہ آواز۔
دلائل وجزئیات:
عورت کی آواز بھی عورت ہے، علامہ مدقق علاؤ الدین محمد بن علی الحصکفی (المتوفی: 1088ھ) فرماتے ہیں: "(و) الرابع (ستر عورته)... وصوتها على الراجح".ترجمہ: اور (شرائطِ نماز میں سے) چوتھی شرط سترِ عورت ہے، اور راجح قول کے مطابق عورت کی آواز بھی (ستر اور پردہ ہے) ۔ (الدر المختار، کتاب الصلاۃ، باب شروط الصلاۃ، مطلب فی ستر العورۃ، 1/404-406، دار الفکر)
عورت کی آواز کے عورت ہونے کی تفصیل میں خاتم المحققین علامہ سید محمد بن عمر ابن عابدین الشامی (المتوفی: 1252ھ) فرماتے ہیں: "(قوله على الراجح) عبارة البحر عن الحلية أنه الأشبه. وفي النهر وهو الذي ينبغي اعتماده. ومقابله ما في النوازل: نغمة المرأة عورة، وتعلمها القرآن من المرأة أحب. قال - عليه الصلاة والسلام - «التسبيح للرجال، والتصفيق للنساء» فلا يحسن أن يسمعها الرجل. اهـ. وفي الكافي: ولا تلبي جهرا لأن صوتها عورة، ومشى عليه في المحيط في باب الأذان بحر. قال في الفتح: وعلى هذا لو قيل إذا جهرت بالقراءة في الصلاة فسدت كان متجها، ولهذا منعها - عليه الصلاة والسلام - من التسبيح بالصوت لإعلام الإمام بسهوه إلى التصفيق اهـ وأقره البرهان الحلبي في شرح المنية الكبير، وكذا في الإمداد؛ ثم نقل عن خط العلامة المقدسي: ذكر الإمام أبو العباس القرطبي في كتابه في السماع: ولا يظن من لا فطنة عنده أنا إذا قلنا صوت المرأة عورة أنا نريد بذلك كلامها، لأن ذلك ليس بصحيح، فإذا نجيز الكلام مع النساء للأجانب ومحاورتهن عند الحاجة إلى ذلك، ولا نجيز لهن رفع أصواتهن ولا تمطيطها ولا تليينها وتقطيعها لما في ذلك من استمالة الرجال إليهن وتحريك الشهوات منهم، ومن هذا لم يجز أن تؤذن المرأة. اهـ. قلت: ويشير إلى هذا تعبير النوازل بالنغمة". ترجمہ: (ماتن کے قول) راجح قول کے مطابق کے تحت (شارح فرماتے ہیں کہ) البحر میں الحلیہ کے حوالے سے ہے کہ یہی اشبہ ہے، اور النہر میں ہے کہ اسی پر اعتماد کرنا مناسب ہے، اور اس کے مقابل وہ قول ہے جو النوازل میں ہے کہ عورت کا نغمہ (خوش الحانی اور لچکدار آواز) ستر ہے اور اس کا کسی عورت ہی سے قرآن سیکھنا زیادہ پسندیدہ ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’تسبیح مردوں کیلئے ہے اور تصفیق عورتوں کیلئے‘‘ (یعنی نماز میں امام کو لغزش پر متنبہ کرنے کیلئے)، پس یہ مناسب نہیں کہ اجنبی مرد کسی عورت کی آواز سنے (انتہی)۔ اور الکافی میں ہے کہ عورت بلند آواز سے تلبیہ نہ کہے کیونکہ اس کی آواز ستر ہے، اور البحر کے مطابق المحیط میں باب الاذان میں مصنف اسی طرف گئے ہیں، اور الفتح میں فرمایا: اور اسی بناء پر اگر یہ کہا جائے کہ جب عورت نے نماز میں بلند آواز سے قرأت کی تو اس کی نماز فاسد ہو گئی، تو یہ قابل توجہ ہوگی، اور اسی وجہ سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے امام کو اس کے سہو پر مطلع کرنے کیلئے عورت کو آواز سے تسبیح کہنے سے منع فرمایا اور تصفیق کی طرف پھیرا (اِنتہیٰ)، اور البرہان الحلبی نے شرح المنیہ الکبیر میں اور اسی طرح الامداد میں اسے برقرار رکھا ہے؛ پھر علامہ مقدسی کے قلمی نسخے سے نقل کیا کہ امام ابو العباس قرطبی نے سماع کے متعلق اپنی کتاب میں ذکر کیا ہے: اور کوئی کم فہم یہ گمان نہ کرے کہ جب ہم یہ کہتے ہیں کہ عورت کی آواز ستر ہے تو اس سے ہماری مراد اس کی (عام) گفتگو ہے؛ کیونکہ یہ صحیح نہیں ، پس ہم ضرورت کے وقت اجنبی عورتوں کے ساتھ کلام کرنے اور ان سے گفتگو کی اجازت دیتے ہیں، اور ہم ان کیلئے اپنی آوازوں کو بلند کرنا، اور ان میں لچک ، نرمی اور نغمگی پیدا کرنے کی اجازت نہیں دیتے، کیونکہ اس میں مردوں کو اپنی طرف مائل کرنا اور ان کی شہوتوں کو ابھارنا پایا جاتا ہے، اور اسی وجہ سے عورت کیلئے اذان دینا جائز نہیں ہوا (اِنتہیٰ)۔ میں (ابن عابدین) کہتا ہوں: اور النوازل کا لفظِ النغمہ (خوش الحانی) اختیار کرنا اسی طرف اشارہ کرتا ہے۔ (رد المحتار، 1/406، دار الفکر)
امام اہلسنت امام احمد رضا خان علیہ رحمۃ الرحمن (المتوفی:1340ھ) فرماتے ہیں:’’عورت کا خوش الحانی سے بآواز پڑھنا کہ نامحرموں کو اس کے نغمہ کی آواز جائے حرام ہے نوازل میں فقیہ ابواللیث میں ہے: نغمۃ المرأۃ عورۃ۔ عورت کا خوش آواز کرکے پڑھنا عورۃ یعنی محل ستر ہے۔ کافی امام ابوالبرکات نسفی میں ہے: لاتلبی جھرا لا ن صوتھا عورۃ۔ عورت بلند آواز سے تلبیہ نہ پڑھے اس لئے کہ اس کی آواز قابل ستر ہے‘‘۔ (فتاوی رضویہ، 22/242، رضا فاؤنڈیشن لاہور)
سیدی اعلی حضرت امام احمد رضا خان علیہ رحمۃ الرحمن سے سوال ہو ا کہ کتنے شخص ایسے ہیں جن سے عورتوں کو گفتگو کرنا اوران کو اپنی آواز سنانا جائز ہے؟ آپ رحمۃ اللہ علیہ نے جواب ارشاد فرمایا: ’’ تمام محارم اور حاجت ہو اور اندیشہ فتنہ نہ ہو، نہ خلوت ہو تو پردہ کے اندر سے بعض نامحرم سے بھی‘‘۔ (فتاوی رضویہ، 22/243، رضا فاؤنڈیشن لاہور)
عورت کے باہر نکلنے پر امام ابو عیسیٰ محمد بن عیسیٰ ترمذی (المتوفی: 279ھ) روایت فرماتے ہیں: "عن أبي أحوص عن عبد اللّٰه عن النبي ﷺ قال: المرأة عورة، فإذا خرجت استشرفها الشیطان". ترجمہ: حضرت ابو احوص حضرت عبداللہ سے اور وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا عورت سراپا ستر (چھپانے کی چیز) ہے، پس جب وہ باہر نکلتی ہے تو شیطان اسے جھانکتا ہے۔ (سنن الترمذی، رقم الحدیث: 1173، مصطفى البابي الحلبي)
بلا ضرورت عورتوں کے باہر نکلنے کی ممانعت پر علاؤالدین علی بن حسام الدین متقی ہندی (المتوفی: 975ھ) روایت نقل فرماتے ہیں: "عن ابن عمر مرفوعا: ليس للنساء نصيب في الخروج إلا مضطرة". ترجمہ: حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مرفوعاً روایت ہے کہ عورتوں کیلئے باہر نکلنے میں کوئی حصہ نہیں سوائے اس کے کہ وہ مجبور (ناگزیر حالت میں) ہوں۔ (کنز العمال، رقم الحدیث: 45062، مؤسسة الرسالة)
شوہر کے حقوق میں اس کی اجازت کے بغیر باہر نکلنے پر حافظ زکی الدین عبد العظیم بن عبد القوی منذری (المتوفی: 656ھ) روایت فرماتے ہیں: "وروي عن ابن عباس رضي الله عنهما أن امرأة من خثعم أتت رسول الله صلى الله عليه وسلم، فقالت: يا رسول الله! أخبرني ما حق الزوج على الزوجة؟؛ فإني امرأة أيم فإن استطعت وإلا جلست أيماً! قال: فإن حق الزوج على زوجته إن سألها نفسها وهي على ظهر قتَب أن لا تمنعه نفسها، ومن حق الزوج على الزوجة أن لا تصوم تطوعاً إلا بإذنه فإن فعلت جاعت وعطشت ولا يقبل منها، ولا تخرج من بيتها إلا بإذنه فإن فعلت لعنتها ملائكة السماء وملائكة الرحمة وملائكة العذاب حتى ترجع، قالت: لا جرم ولا أتزوج أبداً" . ترجمہ: حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کیا گیا ہے کہ قبیلہ خثعم کی ایک عورت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں حاضر ہوئی اور عرض کیا: یا رسول اللہ! مجھے بتائیے کہ شوہر کا بیوی پر کیا حق ہے؟ کیونکہ میں ایک بغیر شوہر والی (کنواری) عورت ہوں، پس اگر میں (حقوق ادا کرنے کی) استطاعت رکھوں گی (تو نکاح کروں گی) ورنہ بے نکاحی ہی بیٹھی رہوں گی! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بیوی پر شوہر کا حق یہ ہے کہ اگر وہ اپنی ذات کا تقاضا کرے اگرچہ وہ اونٹ کے کجاوے کی پشت پر ہو تب بھی وہ اپنے آپ کو نہ روکے، اور شوہر کا بیوی پر یہ بھی حق ہے کہ وہ اس کی اجازت کے بغیر نفلی روزہ نہ رکھے، پس اگر اس نے ایسا کیا تو وہ بھوکی اور پیاسی رہی اور اس سے (یہ روزہ) قبول نہ کیا جائے گا، اور وہ اپنے گھر سے اس کی اجازت کے بغیر نہ نکلے، پس اگر اس نے ایسا کیا تو آسمان کے فرشتے، رحمت کے فرشتے اور عذاب کے فرشتے اس پر لعنت کرتے ہیں یہاں تک کہ وہ لوٹ آئے، اس عورت نے عرض کیا: اب میں کبھی بھی نکاح نہیں کروں گی۔ (الترغيب والترهيب للمنذری،رقم الحدیث: 2985، دار الکتب العلمیۃ بیروت)
علامہ مدقق علاؤ الدین محمد بن علی الحصکفی (المتوفی: 1088ھ) فرماتے ہیں: "فلا تخرج إلا لحق لها أو عليها أو لزيارة أبويها كل جمعة مرة أو المحارم كل سنة، ولكونها قابلة أو غاسلة لا فيما عدا ذلك". ترجمہ: پس وہ (اپنے گھر سے) باہر نہ نکلے مگر اپنے کسی ایسے حق کیلئے جو اسے حاصل ہو یا اس پر لازم ہو، یا ہر جمعہ (مراد خاص جمعہ کا دن نہیں، بلکہ سات دن) میں ایک بار اپنے والدین کی زیارت کیلئے، یا سال میں ایک بار (دیگر) محارم کی زیارت کیلئے، اور دائی ہونے یا میت کو غسل دینے والی ہونے کی وجہ سے؛ اس کے علاوہ (کسی مقصد کیلئے) باہر نہ نکلے۔ (الدر المختار، کتاب النکاح، باب المہر، 3/145-146،دار الفکر)
اس کے تحت خاتم المحققین علامہ سید محمد بن عمر ابن عابدین الشامی (المتوفی: 1252ھ) فرماتے ہیں: "عبارة الفتح: وأما عدا ذلك من زيارة الأجانب وعيادتهم والوليمة لا يأذن لها ولا تخرج الخ". ترجمہ: فتح القدیر کی عبارت ہے: اور اس کے علاوہ اجنبیوں کو ملنے، ان کی عیادت اور ولیمے (وغیرہ) کیلئے شوہر اسے اجازت نہ دے اور نہ ہی وہ باہر نکلے۔ (رد المحتار ، کتاب النکاح، باب المہر، 3/146،دار الفکر)
امام اہلسنت رحمہ اللہ فرماتے ہیں:’’ عورتوں کا گھر سے نکلنا خصوصا تماشہ دیکھنے کو ناجائز ہے اور مردوں کا اسے روا رکھنا بے غیرتی ہے ‘‘۔ (فتاوی رضویہ، 22/249، رضا فاؤنڈیشن لاہور)
عورت کیلئے بوقتِ ضرورت باہر نکلنے کی شرائط اور ترکِ تبرج پر علامہ ابن عابدین شامی (المتوفی: 1252ھ) لکھتے ہیں: "وحيث أبحنا لها الخروج فإنما يباح بشرط عدم الزينة وتغيير الهيئة إلى ما يكون داعية لنظر الرجال والاستمالة. قال الله تعالى - {ولا تبرجن تبرج الجاهلية الأولى}". ترجمہ: اور جہاں کہیں بھی ہم نے عورت کیلئے باہر نکلنے کو جائز قرار دیا ہے، تو وہ صرف زیب وزینت نہ کرنے اور اپنی ہیئت کو ایسا نہ بدلنے کی شرط کے ساتھ ہے جو مردوں کی نظر پڑنے اور (ان کے) مائل ہونے کا سبب بنے۔ اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا ہے: {اور بے پردہ نہ رہو جیسے اگلی جاہلیت کی بے پردگی} ۔ (رد المحتار، باب النفقۃ، 3/604، دار الفکر)
بوقتِ مجبوری ممنوعہ اشیاء کے جائز ہونے اور اس کی شرعی حد مقرر ہونے پر علامہ ابن عابدین شامی (المتوفی: 1252ھ) فرماتے ہیں:"إن الضرورة تتقدر بقدرها". ترجمہ: بیشک ضرورت اپنی ہی مقدار کے مطابق مقدر (محدود) ہوتی ہے۔ (رد المحتار،كتاب النكاح، باب العدة، 3/532، دار الفکر) ۔
واللہ تعالی اعلم بالصواب
کتبـــــــــــــــــــــــــــہ:ابو امیر خسرو سید باسق رضا
الجواب الصحیح:ابو الحسنین مفتی وسیم اختر المدنی
تاریخ اجراء:3 محرم الحرام 1448ھ/18 جون 2026ء