زندگی میں جائیداد صرف بیٹوں کے نام کرکے بیٹیوں کو محروم کرنا

    zindagi mein jaidad sirf beton ke naam karke betiyon ko mehroom karna

    تاریخ: 1 جولائی، 2026
    مشاہدات: 1
    حوالہ: 1536

    سوال

    میری والدہ نے اپنی زندگی میں اُن کا گھر ہم دو بھائیوں (لئیق احمد ، محمد عتیق)کو گفٹ کر دیا تھا، لیکن ساتھ ہی تاکید کی تھی، جب بھی گھر بیچا جائے تو بہنوں (زرین، نوشین، افشین) کو ان کا حق دیا جائے۔ تقریبا 10 سال سے اُس گھر میں میری چھوٹی بہن زرین رہائش پذیر ہے ۔والدہ کے انتقال کو 6سال ہو چکے ہیں۔ اب ہم دونوں بھائی گھر کو بیچ رہے ہیں، جس کی کل قیمت 65 لاکھ ہے۔برائے مہر بانی، ہم 2بھائی (لئیق احمد ، محمد عتیق)اور 3 بہنیں (زرین، نوشین، افشین)ہیں۔شرعی لحاظ سے جس وارث کے حق میں جتنا حصہ حصہ رقم کا آئے گا اس کو تقسیم فرما دیں،شکریہ۔

    نوٹ: والد (محمد فاروق) کا انتقال والدہ (پروین جہان) سے پہلے کئی سال پہلے ہوچکا تھا۔والدہ (پروین جہان) نے اپنے دونوں بیٹوں (لئیق و عتیق)کو مذکورہ گھر سیل ڈیڈ کے ذریعے 1 لاکھ 60 ہزار کے عوض نام کیا۔ یہ گھر والدہ نے اپنے شوہر کے انتقال کے بعد گریجویٹی فنڈ سے لیا تھا، اس وقت بیٹے کمانےلائق نہیں تھے۔جب مذکورہ گھر بیٹوں کے نام کیا تو اس وقت وہ خود سرکاری فیملی کوارٹر میں بیٹوں کے ساتھ رہتی تھیں، پھر سب کی رضا مندی سے زرین کو وہ گھر رہائش کیلئے دیا کہ ان کے پاس رہنے کو گھر نہ تھا۔

    سائل: محمد لئیق احمد


    بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

    اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ

    قضاءً یہ مخصوص مکان والدہ مرحومہ کا ترکہ نہیں بلکہ لئیق اور عتیق کی ملکیت ہے، تاہم زندگی میں بیٹیوں کو محروم کر کے پورا گھر بیٹوں کے نام کرنا والدہ کا گناہ تھا (اللہ ان کے تمام گناہوں کی مغفرت فرمائے)۔ اب دونوں بھائیوں کو چاہئے کہ اس مکان میں سے بہنوں کو ان کا مکمل حصہ دیں۔ البتہ، اس مکان کے علاوہ جو چیزیں بھی والدہ کی ملکیت میں تھیں، وہ ان کا ترکہ ہے،جس کے کل 7 حصے کر کے 4 حصے بیٹوں کو (ہر بیٹے کو 2 حصے) اور 3 حصے تینوں بیٹیوں کو (ہر ایک کو 1 حصہ) تقسیم کرنا شرعاً لازم ہے۔اور حسابی تقسیم یوں ہوگی کہ مخصوص مکان کے علاوہ ترکے کی کل رقم کو مبلغ یعنی 7 سے تقسیم Divide کریں جو جواب آئے اسے محفوظ کرلیں اور اسے ہر ایک وارث کے حصے پر ضرب Multiplyدے دیں، حاصل ضرب ہر ایک کا رقم کی صورت میں حصہ ہوگا۔

    تفصیلِ مسئلہ: شرعی لحاظ سے یہ مخصوص مکان والدہ مرحومہ کا ترکہ شمار نہیں ہوگا، کیونکہ انہوں نے زندگی ہی میں سیل ڈیڈ (Sale Deed) اور کامل قبضے کے ساتھ اس کی ملکیت لئیق اور عتیق کو منتقل کر دی تھی، اور بیع ایجاب و قبول سے بھی تام ہو جاتی ہے۔ اور ورثاء اسی چیز کے حقدار ہوتے ہیں جو مورث (جس کی وراثت تقسیم ہونی ہے) کی ملکیت میں ہو، چونکہ یہاں مذکورہ مکان والدہ کی ملکیت سے نکل چکا ہے، لہذا وارثین میں بہنوں کا اس گھر میں قضاءًحق نہیں۔البتہ، والدین کیلئے شرعی حکم یہ ہے کہ زندگی میں اولاد کو تحفہ دیتے وقت برابری قائم رکھیں؛ اگرچہ وراثت کی طرح بیٹے کو دگنا اور بیٹی کو اِکہرا (ایک) دینا بھی جائز ہے، لیکن افضل برابری ہے، بلکہ حدیث مبارکہ سے تو بیٹی کو زیادہ دینے کا مستحب ہونا بھی ثابت ہے۔ چونکہ والدہ نے بیٹیوں کو مکمل محروم کر کے پورا گھر بیٹوں کے نام کر دیا،کہ یہاں اگرچہ بیع کے ذریعے ملکیت منتقل کی گئی ہے لیکن اگر اس جگہ کی بازاری قیمت سے کم پر یہ مکان فروخت کیا گیا تو یہ محابات کہلاتا ہے اور یہ بھی ہبہ کی ایک صورت ہے، لہذااس میں دیگر اولاد کو محروم کرنا پایا جارہا ہے، اس لیے ان کا یہ فعل شرعاً گناہ اور ناانصافی پر مبنی تھا، جس پر وہ عند اللہ مواخذے کی مستحق تھیں (دعا ہے کہ اللہ پاک ان کی اس لغزش کو معاف فرمائے)۔ اب چونکہ مکان کے اصل مالکان دونوں بھائی ہیں، اس لیے اس کی رقم پر بہنوں کا لازمی شرعی حقِ وراثت تو نہیں، لیکن اگر بھائی اس کو بطور وراثت تقسیم کردیں تو امید ہے کہ ان کی والدہ مواخذہ سے بچ جائیں گی۔

    نیز اہم ترین بات یہ ہے کہ بہنوں کا شرعی حقِ وراثت نہ ہونے کا یہ حکم صرف اسی مخصوص گھر تک محدود ہے۔ اس مکان کے علاوہ نقد رقم، زیورات، بینک اکاؤنٹ یا کوئی بھی دوسرا سامان جو انتقال کے وقت والدہ مرحومہ کی حقیقی ملکیت میں تھا، وہ سب ان کا اصل ترکہ شمار ہوگا۔ اس ترکے میں سے سب سے پہلے مرحومہ کے کفن دفن کے اخراجات، اگر ان پر کوئی قرض ہو تو اس کی ادائیگی، اور اگر انہوں نے کسی غیر وارث کیلئے جائز وصیت کی ہو تو اسے ایک تہائی مال سے پورا کیا جائے گا۔ اس کے بعد بچ جانے والے پورے ترکے کے کل 7 حصے کیے جائیں گے، جن میں سے 4 حصے بیٹوں کو ملیں گے (یعنی لئیق احمد کو 2 حصے اور محمد عتیق کو 2 حصے) اور باقی 3 حصے تینوں بیٹیوں میں اس طور پر تقسیم ہوں گے کہ زرین، نوشین اور افشین میں سے ہر ایک بیٹی کو علیحدہ علیحدہ 1 حصہ دیا جائے گا۔

    دلائل و جزئیات:

    بیٹیوں یا بہنوں کو حصہ نہ دینا زمانہ جاہلیت کا دستور ہے،چنانچہ سورۃ الفجر میں ارشاد ہوا:وَتَأْکُلُونَ التُّرَاثَ أَکْلًا لَمًّا وَتُحِبُّونَ الْمَالَ حُبًّا جَمًّا.ترجمہ: اور میراث کا مال ہپ ہپ کھاتے ہو اور مال کی نہایت محبت رکھتے ہو۔(الفجر :19-20)

    کسی وارث کو میراث نہ دینے کے بارے میں حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا:" مَنْ فَرَّ مِنْ مِيرَاثِ وَارِثِهِ، قَطَعَ اللَّهُ مِيرَاثَهُ مِنَ الْجَنَّةِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ".ترجمہ: جو وارث کو میراث دینے سے بھاگے ،اللہ قیامت کے دن جنت سے اس کی میراث قطع فرما دے گا۔(سنن ابن ماجہ، کتاب الوصایا،باب الحیف فی الوصیۃ،2/902،رقم:2703، دار إحياء الكتب العربية)‎ (شعب الایمان،10/340، رقم:7594، مکتبۃ الرشد)

    کسی ایک اولادکو مال دینے اور بلاوجہِ شرعی دوسروں کو بالکل محروم کردینے کے متعلق امام اہلسنت رحمہ اللہ فرماتے ہیں:” اگر کوئی شخص غیر محجور (وہ شخص جسے بیع و شراء ، صدقہ و ہبہ وغیرہا تصرفات کی اجازت ہوتی ہے)اپنی ساری جائیداد ایک ہی بیٹے کو دےد ے اور باقی اولاد کو کچھ نہ دے، تو یہ تصرف بھی قطعاً صحیح و نافذ ہے، اگرچہ عند اللہ گنہگار ہو گا،گنہگاری کو عدمِ نفاذ سے کچھ علاقہ نہیں۔درمختار میں ہے:ولووہب فی صحتہ کل المال للولد جاز واثم . اگر اپنی صحت میں تمام مال بیٹے کو ہبہ کردیا تو جائز ہے اور گنہگار ہوگا‘‘۔ (فتاوی رضویہ،19/237، رضا فاؤنڈیشن لاھور)

    بیٹے بیٹیوں کے حصہ وراثت کی تقسیم میں ارشاد باری تعالی ہے:یُوصِیکُمُ اللَّہُ فِی أَوْلَادِکُمْ لِلذَّکَرِ مِثْلُ حَظِّ الْأُنْثَیَیْنِ.ترجمہ: اللہ تعالی تمہیں حکم دیتا ہے تمہاری اولاد کے بارے کہ بیٹے کا حصہ دو بیٹیوں برابر ہے۔(النساء : 11)

    ورثاء اسی چیز کےمستحق ہوتے ہیں، جو مرنے والے کی ملک ہو، چنانچہ امام اہلسنت امام احمد رضا خان علیہ رحمۃ الرحمن (المتوفی:1340ھ) فرماتے ہیں:”ورثاء اس چیز کے مستحق ہوتے ہیں، جو مورث کی ملک اوراس کاترکہ ہو‘‘۔ (فتاوی رضویہ،17/306،رضافاؤنڈیشن،لاھور)

    اسی بارےمیں ایک اورمقام پرارشادفرماتےہیں:”ارث متعلق نہ شود جز بترکہ وترکہ نیست جزآنکہ ہنگام موت مورث درملک اوست.یعنی میراث کاتعلق ترکہ کے ماسوا کے ساتھ نہیں ہوتا اورترکہ سوائے اس شے کے نہیں جو مورث کی موت کے وقت اس کی ملکیت میں ہو۔(فتاوی رضویہ،26/109،رضافاؤنڈیشن،لاھور)

    ایجاب و قبول کے بعد بیع کے لزوم اور عدمِ اختیار پر امام برہان الدین مرغینانی (المتوفی: 593ھ) رقمطراز ہیں: "اذا حصل الايجاب والقبول لزم البيع، ولا خيار لواحد منهما". ترجمہ: جب ایجاب و قبول ہو جائے تو بیع لازم ہو گئی اور بائع اور مشتری کسی کو بھی یکطرفہ طور پر معاہدے سے پھرنے کا اختیار نہیں۔ (الہدايۃ ، کتاب البیوع، 3/23، دار احياء التراث العربي ، بيروت)

    امام احمد رضا خان محدثِ بریلوی (المتوفی: 1340ھ) ارشاد فرماتے ہیں:’’بیع ایجاب وقبول سے تمام ہوجاتی ہے، اور جب بیع صحیح شرعی واقع ہولے تو اس کے بعد بائع یا مشتری کسی کو بے رضامندی دوسرے کے ، اس سے یوں پھر جانا روا نہیں، نہ اس کے پھر نے سے وہ معاہدہ جو مکمل ہوچکا، ٹوٹ سکتا ہے، زید پر لازم ہے کہ مال فروخت شدہ تمام وکمال خریدار کو دے‘‘۔ (فتاویٰ رضویہ، 17/87، رضا فاؤنڈیشن، لاہور)

    مفتی امجد علی اعظمی (المتوفی: 1367ھ) لکھتے ہیں:’’جب ایجاب وقبول دونوں ہوچکے تو بیع تمام ولازم ہوگئی۔ اب کسی کو دوسرے کی رضا مندی کے بغیر رَدکردینے کا اختیارنہ رہا‘‘۔ (بہارِ شریعت، 2/622، مکتبۃ المدینہ، کراچی)

    اولاد میں برابری سے متعلق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: "سَوُّوا بَيْنَ أَوْلَادِكُمْ فِي الْعَطِيَّةِ فَلَوْ كُنْتُ مُفَضِّلًا أَحَدًا لَفَضَّلْتُ النِّسَاءَ".ترجمہ: اپنی اولادوں میں تحفہ دینے میں برابری کرو، اگر میں کسی ایک کو فضیلت دیتا تو عورتوں (یعنی بیٹیوں) کو فضیلت دیتا۔(المعجم الکبیر للطبرانی، 11/354، الرقم: 11997، مكتبة ابن تيمية القاهرۃ)

    مارکیٹ ریٹ سے کم قیمت پر بیع کے محابات اور اس کے ہبہ کے مانند ہونے پر علامہ ابو الفضل عبد اللہ بن محمود الموصلی (المتوفی:683ھ) فرماتے ہیں: "والناقص في البيع محاباة وهي كالهبة".ترجمہ: اور بیع میں (قیمت کو مارکیٹ ریٹ سے) کم کرنا محابات (رعایت) ہے اور یہ (حکم میں) ہبہ کی طرح ہے۔ (الاختیار لتعلیل المختار، کتاب الوصایا، 5/71، دار الکتب العلمیۃ) ۔

    واللہ تعالی اعلم بالصواب

    کتبـــــــــــــــــــــــــــہ:ابو امیر خسرو سید باسق رضا

    الجواب الصحیح:ابو الحسنین مفتی وسیم اختر المدنی

    تاریخ اجراء:30 ذو القعدہ 1447ھ/18 مئی 2026ء