امام صاحب کا رکشہ چلانا کیسا

    imam sahib ka rickshaw chalana kaisa

    تاریخ: 1 جولائی، 2026
    مشاہدات: 1
    حوالہ: 1535

    سوال

    امام صاحب رکشہ چلا سکتے ہیں؟ اس میں شرعی اجازت ہے؟ نماز کے اوقات کار میں کسی قسم کی کمی نہیں ہوتی۔

    سائل: محمد سنان عطاری


    بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

    اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ

    امام صاحب کا رزقِ حلال کیلئے رکشہ چلانا یا کوئی بھی دوسرا جائز پیشہ اختیار کرنا نہ صرف شرعاً جائز ہے، بلکہ بعض صورتوں میں مستحسن بھی ہے، بشرطیکہ اس سے منصبِ امامت کے فرائض، علمی وجاہت اور مروت میں خلل واقع نہ ہو۔کیونکہ ہر وہ پیشہ جو بذاتِ خود حلال ہے (جیسے تجارت یا اجارہ)، اسے اختیار کرنا کسی کیلئے بھی ناجائز نہیں۔ رکشہ چلانا درحقیقت اجارہ (خدمات کے بدلے اجرت) کی ایک قسم ہے جو شرعاً مباح ہے۔ چونکہ سائل نے صراحت کی ہے کہ نماز کے اوقاتِ کار میں کمی نہیں ہوتی، لہٰذا فرائضِ امامت میں بظاہر کوئی خلل واقع نہیں ہو رہا۔

    البتہ امام صاحب کو چاہیے کہ درج ذیل امور کا خاص لحاظ رکھیں:

    (۱) اوقات کی پابندی: نماز کے طے شدہ اوقات کی مکمل پابندی یقینی بنائیں۔

    (۲) نظافت و طہارت: مسجد میں آتے وقت لباس اور بدن کی صفائی ستھرائی کا ایسا اہتمام کریں کہ پسینے یا رکشے کے دھوئیں کی بو سے مقتدیوں کو تکلیف نہ ہو، کیونکہ مقتدیوں کو کراہت محسوس ہونا شرعاً ناپسندیدہ ہے۔

    (۳) وقار اور مروت کا تحفظ: امام صاحب کا یہ عمل ان کی علمی وجاہت اور منصب کے وقار میں ایسی کمی نہ لائے جو خلافِ مروت قرار پائے۔ کیونکہ ایسے کام جو خلافِ مروت ہوں، وہ انسان کو مردود الشہادۃ (جس کی گواہی قبول نہ کی جائے) بنا دیتے ہیں، اور جو شخص مردود الشہادۃ ہو اس کی امامت درست نہیں رہتی۔

    دلائل و جزئیات:

    قرآن مجید میں انہیں ’’مرد‘‘کہا گیا جنہیں تجارت ، عبادت سے غافل نہیں کرتی ، ارشاد ہوا: رِجَالٌ-لَّا تُلْهِیْهِمْ تِجَارَةٌ وَّ لَا بَیْعٌ عَنْ ذِكْرِ اللّٰهِ وَ اِقَامِ الصَّلٰوةِ وَ اِیْتَآءِ الزَّكٰوةِ -یَخَافُوْنَ یَوْمًا تَتَقَلَّبُ فِیْهِ الْقُلُوْبُ وَ الْاَبْصَارُ. ترجمہ: وہ مرد جنہیں غافل نہیں کرتا کوئی سودا اور نہ خرید و فروخت اللہ کی یاد اور نماز برپا رکھنے اور زکوٰۃ دینے سے ڈرتے ہیں اس دن سے جس میں الٹ جائیں گے دل اور آنکھیں ۔ (النور: 37)

    امام اہلسنت رحمہ اللہ سے سوال ہوا کہ دکاندار آدمی اُس کی امامت جائز ہے یا نہیں؟اس کے جواب میں آپ علیہ الرحمہ نے ارشاد فرمایا:’’جائز چیز بیچنا اور جائز طور بیچنا کچھ حرج نہیں رکھتا، نہ اُسکے سبب امامت میں کوئی خلل آئے ،ہاں اگر ناجائز چیز بیچے یا مکروفریب کذب یا عقود فاسدہ مثل ربٰو وغیرہ کا ارتکاب کرے تو آپ بھی فاسق اور فاسق کے پیچھے نماز مکروہ‘‘۔ (فتاوی رضویہ، 6/623، رضا فاؤنڈیشن لاہور)

    فقیہ ملت مفتی جلال الدین احمد امجدی (المتوفی:1422ھ) فرماتے ہیں:’’ہر سنی صحیح العقیدہ صحیح الطہارۃ والقرأۃ غیرفاسق معلن جس میں کوئی بات ایسی نہ ہو کہ لوگوں کے لئے نفرت کا باعث ہو اور جماعت کے لئے قلت کا سبب ہو اس کے پیچھے بلاکراہت نماز جائز ہے خواہ وہ کسی برادری کا ہو کہ امامت کسی برادری کے ساتھ خاص نہیں ہے اور وہ شخص جو ذات کا درزی ہے اور سلائی کا پیشہ کرتا ہے اگر کپڑے کی چوری یا کوئی دوسری شرعی خرابی اس میں نہیں ہے تو اس کے پیچھے نماز پڑھنا جائز ہے‘‘۔ (فتاوی فیض ارسول، 1/296، شبیر برادرز لاہور)

    فتاوی شرعیہ مفتی عبد الواجد رحمہ اللہ فرماتے ہیں:’’ملازمت شرعی عیب نہیں ۔لہٰذا زیداگر صالح امامت ہوتواس کی امامت واقتدا جائز ودرست ہے ‘‘۔ (فتاوی ادارہ شرعیہ، 3/354، شبیر برادرز لاہور)

    ترکِ مروت کی تعریف کے متعلق علامہ محمد علاء الدین آفندی (المتوفی: 1306ھ) لکھتے ہیں: "وفي معين المفتي: رفض المروءة ارتكاب ما يعتذر منه ويضعه على رتبته عند أهل الفضل".ترجمہ: اور معین المفتی میں ہے کہ مروت کو ترک کرنے سے مراد ایسے کاموں کا ارتکاب کرنا ہے جن پر (بعد میں) معذرت کرنی پڑے اور جو انسان کو اہل فضل کے نزدیک اس کے مرتبے سے گرا دیں۔ (قرة عيون الأخيار تکملہ رد المحتار علی الدر المختار، 7/529، دار الفکر، بیروت)

    مروت کے منافی افعال اور گواہی پر ان کے اثرات کے متعلق امام عبد اللہ بن محمود موصلی (المتوفی: 683ھ) لکھتے ہیں: "(ولا من يفعل شيئا من الأفعال المستخفة كالبول والأكل على الطريق) لأنه يسقط المروءة فلا يتحاشى عن الكذب، وكذا من يمشي في السوق بالسراويل وحده".ترجمہ: اور ایسے شخص کی گواہی قبول نہیں کی جائے گی جو ہلکے اور گھٹیا کام کرے جیسے راستے میں پیشاب کرنا یا کھانا، کیونکہ یہ مروت کو گرا دیتا ہے تو ایسا شخص پھر جھوٹ سے بھی نہیں بچتا، اور اسی طرح وہ شخص جو بازار میں صرف پاجامے میں چلے۔ (الاختیار لتعلیل المختار، کتاب الشہادات، 2/142، مطبوعہ دار الکتب العلمیہ)

    صدر الشریعہ حضرت علامہ مفتی محمد امجد علی اعظمی (المتوفی:1367ھ) فرماتے ہیں:’’جو شخص حقیر و ذلیل افعال کرتا ہو اُس کی شہادت مقبول نہیں جیسے راستہ پر پیشاب کرنا۔ راستہ پر کوئی چیز کھانا۔ بازار میں لوگوں کے سامنے کھانا۔ صرف پاجامہ یا تہبند پہن کر بغیر کرتہ پہنے یا بغیر چادر اوڑھے گزرگاہ عام پر چلنا۔ لوگوں کے سامنے پاؤں دراز کر کے بیٹھنا۔ ننگے سر ہو جانا جہاں اس کو خفیف و بے ادبی و قلت حیا تصور کیا جاتا ہو‘‘۔ (بہار شریعت، 2/949، مکتبۃ المدینۃ کراچی)

    تنفیر عوام کراہت ِ لاتا ہے، امام اہلسنت امام احمد رضا خان علیہ رحمۃ الرحمن (المتوفی:1340ھ) فرماتے ہیں:’’فان من مسائل کراھۃ الامام مفرعۃ علی ھذا الاصل وھوان من کان فیہ تنفیر الناس وقلۃ رغبتھم فامامتہ مکروھۃ کولد بغی و ابرص شاع برصہ وغیرہما۔ کیونکہ کراہتِ امامت کے بعض مسائل اس ضابطہ پر مبنی ہیں وہ ضابطہ یہ ہے کہ ہر وہ شخص جس کے ساتھ لوگوں کو نفرت اور قلتِ رغبت ہواس کی امامت مکروہ ہے مثلاً ولد الزنا اور برص والا ایساشخص کہ جس کا مرضِ برص پھیل گیا ہو وغیرہما ‘‘۔(فتاوی رضویہ، 6/462، رضا فاؤنڈیشن لاہور) ۔

    واللہ تعالی اعلم بالصواب

    کتبـــــــــــــــــــــــــــہ:ابو امیر خسرو سید باسق رضا

    الجواب الصحیح:ابو الحسنین مفتی وسیم اختر المدنی

    تاریخ اجراء:25 ذو القعدہ 1447ھ/13 مئی 2026ء