حرام کام کے لیے سافٹ ویئر یا لوگو تیار کرنا کیسا؟
    تاریخ: 11 نومبر، 2025
    مشاہدات: 4
    حوالہ: 78

    سوال

    ہمارا کام software developmentاور کمپنیز کے logoاورویب سائٹز بنانے کا ہے اور ہمارے کسٹمر اکثر غیر ملکی ہوتے ہیں ۔تو اگر کوئی غیر ملکی شراب یا جوئے یا موسیقی وغیرہ کے کلب یا اسٹور کا سوفٹ وئر بنواتا ہے یالوگو بنواتا ہے تو ایسی صورت میں ہمارا اسے یہ کام کرکے دینا کیسا۔یعنی جو سوفٹ ویئر اور لوگو وغیرہ بنے گا وہ صرف اس کلب یا اسٹور کے لیے ہی ہوگا کسی اور جگہ اس کا استعمال نہیں ہوسکتا۔شریعت اس بارے میں کیا کہتی ہے؟

    عبد اللہ:کراچی

    بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

    اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ

    صورتِ مستفسرہ میں جو کام(شراب خانہ،موسیقی اور جوئے کا کلب)ذکر کیے گئے ہیں ،شریعت مطھرہ میں ان کاموں کو کرنا جس طرح کسی مسلمان کے لیے جائز نہیں ایسے کسی غیر مسلم کے لیے بھی یہ کام ناجائز و حرام ہیں ،کیونکہ صحیح قول کے مطابق کفار بھی فروعات کے مکلّف ہیں اور ناجائز کاموں کو کرنے کے لیے سوفٹ وئیر اور لوگو وغیرہ بنا کر دینا ان کاموں میں معاونت ہے اور ناجائز کاموں پر معاونت بھی ناجائز ہوتی ہے ۔

    لہذاشراب یا جوئے یا موسیقی وغیرہ کے کلب یا اسٹور کو سوفٹ ویئر بنا کر بیچنا گناہ پر معاونت کی وجہ سے ناجائز ہے اور اس کی خریدوفروخت مکروہ تحریمی ہے۔اور اس سے حاصل ہونے والی کمائی کو صدقہ کیا جائے گا۔

    اللہ عزوجل قرآن کریم میں ارشاد فرماتا ہے: وَلَا تَعَاوَنُوۡا عَلَی الۡاِثْمِ وَالْعُدْوَانِ وَاتَّقُوا اللہَ اِنَّ اللہَ شَدِیۡدُ الْعِقَابِ .ترجمہ کنز العرفان:اور گناہ اور زیادتی پر باہم مدد نہ کرواور اللہ سے ڈرتے رہو، بیشک اللہ شدید عذاب دینے والا ہے۔(پارہ 6، سورۃ المائدہ،آیت2)

    امام اہلسنت مجدد دین وملت الشاہ امام احمد رضا خان علیہ رحمۃالرحمٰن فرماتے ہیں: شریعت مطہرہ کا قاعدہ ہے کہ جس بات سے حرام کو مدد پہنچے اسے بھی حرام فرمادیتی ہے۔ (فتاویٰ رضویہ ،ج 23 ،ص 461، رضا فاؤنڈیشن، لاھور)

    اسی طرح ایک اور مقام پر فرماتے ہیں : موچی کو نیچری وغیرہ فاسقانہ وضع کا جوتا بنانے یا درزی کو ایسی وضع کے کپڑے سینے پر کتنی ہی اجرت ملے اجازت نہیں، کہ معصیت پر اعانت ہے۔

    خانیہ میں متصل عبارت مذکورہ ہے: وکذا الاسکاف اوالخیاط اذا استوجر علی خیاطۃ شیئ من زی الفساق ویعطی لہ فی ذٰلک کثیراجر لایستحب لہ ان یعمل لانہ اعانۃ علی المعصیۃ ، اقول: ولایستحب ہھنا للنہی لاجل التشبیہ المذکور و بدلیل الدلیل ففی الخانیۃ مسئلۃ الطبل لایجوز لانہ اعانۃعلی المعصیۃ؎ وفی اوائل شہادات الہندیۃ عن المحیط الاعانۃ علی المعاصی من جملۃ الکبائرترجمہ:اوریہی حکم ہے موچی اور درزی کا کہ جب اسے کسی ایسی چیز کے لینے اور بنانے پر اُجرت دی جائے جو فاسقوں کی وضع اور شکل کا لباس ہو، اور اس میں اسے زیادہ اجرت دینے کا وعدہ کیا جائے تو اس کے لئے جائز نہیں کہ وہ یہ کام کرے اس لئے کہ گناہ پر یہ دوسرے کی امداد کرناہے۔ اھ اقول (میں کہتاہوں کہ) یہاں ''لایستحب'' بمعنی نہی ہے تشبیہ مذکور کی وجہ سے، اور دلیل کی دلیل کی وجہ سے چنانچہ فتاوٰی قاضی خاں میں طبلہ بجانے کے متعلق ہے کہ جائز نہیں اس لئے کہ یہ گناہ پر امداد دینا ہے اور فتاوٰی عالمگیری کی بحث ''اوائل شہادات'' میں محیط سے نقل کیا کہ گناہ کے کاموں میں کسی کی امداد کرنا کبیرہ گناہوں میں شامل ہے۔(فتاوٰی رضویہ ،جلد :21،ص:210،رضا فاؤنڈیشن لاہور )

    کفار بھی فروعات کے مکلّف ہیں۔چنانچہ بدائع الصنائع میں ہے: حرمۃ الخمر والخنزیر ثابتۃ فی حقھم کما ھی ثابتۃ فی حق المسلمین،لانھم مخاطبون بالحرمات وھو الصحیح عند اھل الاصول.ترجمہ:شراب اور خنزیر کی حرمت غیر مسلموں کے حق میں بھی بالکل اسی طرح ثابت ہے ،جس طرح مسلمانوں کے حق میں ثابت ہے ،کیونکہ وہ بھی محرمات کے مکلف ہیں اور یہی اہلِ اصول کے نزدیک صحیح ہے۔( بدائع الصنائع، کتاب السیر، جلد 6، صفحہ 83، مطبوعہ کوئٹہ)

    فتاوی رضویہ میں ہے: صحیح یہ ہے کہ کفار بھی مکلّف با لفروع ہیں ۔(فتاوی رضویہ، جلد 16، صفحہ 382، رضا فاؤنڈیشن، لاھور)

    بیع مکروہ اگرچہ بیع باطل یا بیع فاسد نہیں ہے کہ اصل اور وصف کے اعتبار سے درست ہےاور بائع اور مشتری بیع کرنے کے سبب ثمن و مبیع کے مالک بھی ہوجاتے ہیں۔ لیکن امر خارج (گناہ پر اعانت)کے سبب ممانعت کی وجہ سےاس کی کمائی ملک خبیث ہوتی ہے۔اور ملک خبیث کی کمائی کا حکم یہ ہےکہ اسے صدقہ کیاجائے گا۔

    بیع مکروہ کے حکم کی بابت درر الحکام شرح غرر الاحکام میں ہے: حُكْمُ الْبَيْعِ مَكْرُوهٌ (أَنَّهُ لَا يَفْسُدُ) ؛ لِأَنَّ النَّهْيَ بِاعْتِبَارِ مَعْنًى مُجَاوِرٍ لِلْبَيْعِ لَا فِي صُلْبِهِ وَلَا فِي شَرَائِطِ صِحَّتِهِ وَمِثْلُ هَذَا النَّهْيِ لَا يُوجِبُ الْفَسَادَ بَلْ الْكَرَاهَةَ (وَلَا يَجِبُ فَسْخُهُ)ترجمہ:بیع مکروہ کا حکم یہ ہے کہ یہ فاسد نہیں ہوتی،اس لیے کہ اس بیع کی ممانعت ایسے معنی کے اعتبار سےہے جو بیع سے متصل ہےنہ کہ بیع کی اصلاور اسکی شرائط کی درستگی سے اس کا کوئی تعلق ہے۔اور اس طرح کی ممانعت فساد کو واجب نہیں کرتی بلکہ صرف کراہت کا حکم ہوتا ہے اور اس کو فسخ کرنا بھی واجب نہیں ہے(دررالحکام شرح غرر الاحکام،جلد:2،ص:178،داراحیاء الکتب العربیہ)

    اور بیع مکروہ سے حاصل ہونے والے ثمن کی بابت شرح مختصر الطحاوی للجصاص میں ہے: قال أبو جعفر: (فإن باعه: جاز بيعه، وتصدَّق بثمن ما باعه). ترجمہ:امام جعفر طحاوی رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ فرماتےہیں:پس اگراسے(قربانی کے جانور میں سے کوئی چیزجیسے کھال،گوشت وغیرہ)کوئی فروخت کردے اس کی بیع جائز ہے اور اس سے حاصل ہونے والی کمائی کو صدقہ کیا جائے گا۔

    اس کے تحت علامہ جصاص علیہ الرحمۃلکھتےہیں:وإنما جاز بيعه؛ لأنه في ملكه، جائزُ التصرف فيه، ألا ترى أنه يجوز هبته وصدقته، ولأن النهي لم يتناول معنى في نفس العقد، فصار كالبيع عند أذان الجمعة، وكالنهي عن تلقي الجلب، وبيع حاضر لباد، والنهي عن بيع الطعام في دار الحرب، كل ذلك قد ورد فيه نهي، ولم يمنع جواز العقد، إذ لم يتناول النهي معنى في العقد.وإنما أمر بأن يتصدق بثمن ما باع؛ لأنه لما كان منهيًا عن بيعه، وأخذ ثمنه، حصل ذلك له من وجه محظور، فأمر بالصدقة به ترجمہ: اور اس کی بیع اس لیے جائز ہےکہ وہ اس کی ملکیت میں ہے۔ تصرف کرنا اس میں جائز ہے ،کیا تو نہیں دیکھتا بے شک اس کا ہبہ اور صدقہ کرنا جائز ہے۔اور اس لیے کہ نہی نفس عقد میں کسی معنی کو شامل نہیں ہے ۔تو یہ ایسے ہی ہے جیسے جمعہ کی اذان کے وقت بیع کرنے کی ممانعت،اور تلقی جلب کی ممانعت،شہری کا دیہاتی سے بیع کی کرنے کی ممانعت،اور دارالحرب میں کھانے بیچنے کی ممانعت اور اسی طرح ہر وہ جس میں ممانعت وارد ہوئی ہو ،لیکن عقد کا جائز ہونا ممنوع نہ ہو۔اس لیے کہ نہی عقد میں کسی معنی کو شامل نہیں ہے۔اور بیچنے کے سبب حاصل ہونے والی کمائی کو صدقہ کرنے کا حکم اس لیے دیا گیا ہےکیونکہ جب بیع سے ممانعت ہے اور اسنےاس کا ثمن لیا۔یہ ثمن اسےممانعت کے طورپر حاصل ہواپس اسے صدقہ کرنے کا حکم دیاجائے گا۔(شرح مختصرالطحاوی للجصاص،جلد:7،ص:341،دارالبشائر الاسلامیۃ)

    اسی طرح بدائع الصنائع میں ہے: فَإِنْ بَاعَ شَيْئًا مِنْ ذَلِكَ نَفَذَ عِنْدَ أَبِي حَنِيفَةَ وَمُحَمَّدٍ.ويَتَصَدَّقُ بِثَمَنِهِ لِأَنَّهُ اسْتَفَادَهُ بِسَبَبٍ مَحْظُورٍ وَهُوَ الْبَيْعُ فَلَا يَخْلُو عَنْ خُبْثٍ فَكَانَ سَبِيلُهُ التَّصَدُّقَ ملخصاترجمہ:پس اگر کچھ حصہ قربانی کے جانور سےبیچ دیایہ بیع طرفین کے نزدیک نافذ ہے۔اور وہ اس کے ثمن (کمائی)کو صدقہ کردے گا اسلیے کہ اس نےایک ممنوع طریقے سے استفادہ حاصل کیا اور وہ بیع ہے پس وہ خباثت سے خالی نہیں۔ اور اس کی سبیل صرف صدقہ کرنا ہے۔ (بدائع الصنائع،جلد:5،ص:81،دارالکتب العلمیۃ)

    درمختار میں ہے: شعر الخنزير) لنجاسة عينه فيبطل بيعه ابن كمال (و) إن (جاز الانتفاع به) لضرورة الخرز؛ حتى لو لم يوجد بلا ثمن جاز الشراء للضرورة وكره البيع فلا يطيب ثمنه. ترجمہ:عین نجس ہونے کی وجہ سے خنزیر کے بالوں کی بیع باطل ہے ۔اگر چہ سلائی کی ضرورت کے لیے اس سے فائدہ اٹھانا جائز ہے ،یہاں تک کہ بغیر دام کے خنزیر کے بال نہ ملتے ہوں تو ضرورت کی وجہ سے انکی خریداری جائز ہے اور بیع مکروہ ہے پس اس کا ثمن (کمائی)حلال نہ ہوگا۔(رد المحتار علی الدر المختار،جلد:5،ص:72،دارالفکر بیروت)

    واللہ تعالٰی اعلم بالصواب

    کتبـــــــــــــــہ: محمد احمد امین قادری نوری

    الجواب صحیح : ابوالحسنین مفتی وسیم اختر المدنی

    تاریخ اجراء:17ربیع الاوّل 1444ھ/14اکتوبر2022 ء