سوال
میں منرل واٹر کا کام کررہا ہوں ۔پانی فلٹر کرکے منرل ڈال کر بیچتا ہوں۔مجھے کسی نے بتایا ہے کہ پانی کا کام جائز نہیں ۔کیا یہ بات درست ہے نیز اس کی کمائی حلال ہے یا حرام؟
سائلہ:سمیع اللہ خان:کراچی
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ
صورت مستفسرہ میں اگر پانی کو کسی برتن،ٹینک،حوض ،بوتل اور کین وغیرہ میں جمع کیا جاتا ہے اور اس کے بعد اس میں منرلز ڈال کر فروخت کیا جاتا ہے تو اس طرح پانی کو فروخت کرنا جائز ہے اور اس کی کمائی بھی حلال ہے۔
مسئلے کی تفصیل یہ ہے کہ جو پانی کسی برتن وغیرہ میں جمع کرلیا جائے تو جمع کرنے والا اس پانی کا مالک ہوجاتا ہے اور اس کے لیے اس پانی کو فروخت کرنابھی جائزہو تا ہے ۔لیکن اگر پانی اپنی اصل جگہ مثلاً دریا وغیرہ میں موجود ہے تو اس وقت وہ کسی کی ملک نہیں ہوتا اور اس وقت اس کو فروخت کرنا بھی جائز نہیں۔
مجمع الانھر فی شرح ملتقی الابحر میں ہے: (وَمَا أُحْرِزَ مِنْ الْمَاءِ بِحَبٍّ وَكُوزٍ وَنَحْوِهِ لَا يُؤْخَذُ إلَّا بِرِضَى صَاحِبِهِ وَلَهُ) أَيْ لِصَاحِبِ الْمَاءِ الْمُحْرَزِ (بَيْعُهُ) أَيْ بَيْعُ الْمَاءِ لِأَنَّهُ مَلَكَهُ بِالْإِحْرَازِ . ترجمہ: ور جو پانی ،مٹکا، کوزہ وغیرہ کسی برتن میں جمع کرکے محفوظ کرلیا گیا، اسے مالک کی مرضی کے بغیر نہیں لیا جائے گا اور اس یعنی محفوظ کردہ پانی کے مالک کے لئے اسے بیچنا یعنی پانی کو بیچنا جائز ہے ،کیونکہ احراز کرنے کی وجہ سے وہ اس کا مالک ہوگیا(مجمع الانھر شرح ملتقی الابحر،جلد:2،ص:563،داراحیاء التراث العربی)
شرح مختصر الطحاوی للجصاص میں ہے: لا خلاف في جواز بيع الماء الذي أحرزه صاحبه في إناء . ترجمہ:کوئی اختلاف نہیں ہے اس پانی کی خریدوفروخت کے جائز ہونے میں جسے اس کے صاحب نےبرتن میں جمع کرلیا ہو۔(شرح مختصر الطحاوی للجصاص،جلد:3،ص:455،دارالبشائر الاسلامیۃ)
فتاوٰی ھندیہ میں ہے: لَا يَجُوزُ بَيْعُ الْمَاءِ فِي بِئْرِهِ وَنَهْرِهِ . ترجمہ:پانی کی خرید وفروخت کنویں اور نہر میں جائز نہیں ہے۔
اسی میں آگے ہے: فَإِذَا أَخَذَهُ وَجَعَلَهُ فِي جَرَّةٍ أَوْ مَا أَشْبَهَهَا مِنْ الْأَوْعِيَةِ فَقَدْ أَحْرَزَهُ فَصَارَ أَحَقَّ بِهِ فَيَجُوزُ بَيْعُهُ وَالتَّصَرُّفُ فِيهِ.ترجمہ:پھر جب وہ پانی کو لے اور کسی برتن یا برتن جیسی کسی چیز میں میں ڈال لے تواس نے اسے جمع کرلیا پس وہ اس کا حقدار ہوگیا اب اس کے لیے اسے بیچنا اور اس میں تصرف کرنا جائز ہے۔(فتاوٰ ی ھندیہ،جلد:3،ص:121، دارا لفکر بیروت)
واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
کتبـــــــــــــــہ: محمد احمد امین قادری نوری
الجواب صحیح : ابوالحسنین مفتی وسیم اختر المدنی
تاریخ اجراء:11جمادی الاول1443 ھ/16دسمبر2021 ء