پلاٹ بیٹی کے نام کیا
    تاریخ: 4 اپریل، 2026
    مشاہدات: 3
    حوالہ: 1091

    سوال

    جناب اس مسئلے میں ہماری رہنمائی فرمائیں میری دو شادی ہیں پہلی بیوی کا بڑا بیٹا گورنمنٹ سروس کرتا ہے گورنمنٹ نے ملازمین کے لیے ایک ہاؤسنگ اسکیم میں پلاٹ الاٹ کیے تھے ، ہم نے بیٹے سے کہا کہ ایک پلاٹ خرید کر ہمیں دے دو ،تمام اخراجات ہم ادا کریں گے اس نے پلاٹ خرید کر ہمارے نام کردیا اسکے اخراجات اور لیز وغیرہ سب ہم نے کروائی ۔ اس وقت ایک بیٹی کی شادی نہیں ہوئی تھی ہم نے سوچا کہ اسکی پلاٹ اسکے نام کردیتے ہیں کہیں بیٹے کی نیت خراب نہ ہوجائے پھر جب اسکی شادی کریں گے تو یہ پلاٹ بیچ کر جہیز دے دیں گے۔ ہم نے پلاٹ بیٹی کے نام کروادیا ۔یعنی کاغذات اسکے نام بنوادیے لیکن تھا میری ملکیت میں کیونکہ قبضہ میرا ہی تھا اب کچھ عرصے بعدپہلی بیگم کا انتقال ہوگیا ، ہم نے بیٹی کی شادی کردی لیکن پلاٹ نہیں بیچا۔اور جہیز بھی خوب دیا ۔ ایک دن بیٹی نے ہم سے کہا کہ یہ الماری جو آپ کے پاس ہے یہ میری ہے امی نے میرے لئے خریدی تھی ، ہم نے غصہ میں کہا کہ یہ الماری بھی لے جاؤ اور یہ پلاٹ بھی اور کاغذات پھینک دیے۔ اور اس نے اٹھائے اور چلی گئی ۔ اب ایک بیٹا جو ہمارے ساتھ رہتا ہے کہتا ہے کہ گھر ہمارا ہے ، ہم نے کسی بہانے سے بیٹی سے کاغذا ت لے لیے ہیں ، میری دوسری بیوی کا کہنا ہے کہ اس میں ہمارا کوئی حق نہیں ہے یہ پلاٹ بیٹی کا ہے اب آپ بتائیے کہ کیا ہم اس پلاٹ کو بیچ کر اپنے بیوی بچوں کے لیے گھر لے سکتے ہیں؟؟

    سائل: سلیم الحسن: شاہ فیصل کراچی


    بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

    اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ

    وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ:

    اگر معاملہ ایسا ہی ہے جیسا کہ سوال میں ذکر کیا گیا ہے تو اس صورت میں حکم شرع یہ ہے کہ آپ اس پلاٹ کو بیچ کر گھر بنواسکتے ہیں کیونکہ زندگی میں مکان،پلاٹ یا فلیٹ،یا کوئی اور چیز نام کردینا گفٹ یا ھبہ کے طور پر ہوتا ہے لہذا اگر کسی ایک شخص کو کوئی جگہ یا مکان یا پلاٹ گفٹ کیا جائے اور وہ موہوب لہ (یعنی جس کے لیے گفٹ کیا گیا ہے) کو اپنے قبضے میں لے لے، تو یہ ھبہ تام ہوجاتا ہے یعنی اس میں اس شخص کی ملکیت ثابت ہوجاتی ہے جس کے لیے وہ مکان ھبہ کیاگیاہے ۔اور اگر قبضہ نہ کرے تو وہ چیز سابقہ مالک کی ملکیت میں ہی باقی رہتی ہے ، وہ اس میں جیسا چاہے تصرف کرسکتا ہے، یہاں بعینہ یہی صورت موجود ہے لہذا آپ اس پلاٹ کو بیچ کر گھر بنواسکتے ہیں ،تنویرالابصار مع الدرالمختار میں ہے:وَ) شَرَائِطُ صِحَّتِهَا (فِي الْمَوْهُوبِ أَنْ يَكُونَ مَقْبُوضًا غَيْرَ مَشَاعٍ مُمَيَّزًا غَيْرَ مَشْغُولٍ)ترجمہ:اور ھبہ (گفٹ) کے موہوب ( گفٹ کی گئی چیز) میں صحیح ہونے کی شرائط یہ ہیں کہ وہ چیز قبضہ میں ہو، اور غیر مشاع ہو (یعنی ایسی مشترک چیز نہ ہو جس میں شریکوں کے حصے ممتاز نہ ہوں)اور ممیز ہو(یعنی جدا اور نمایاں ہو) اور غیر مشغول ہو۔( تنویر الابصار مع الدرالمختار کتاب الھبہ جلد 5ص688 )

    عالمگیریہ میں ہے : لایثبت الملک للموہوب لہ قبل القبض :ترجمہ:قبضہ سےقبل موہوب لہ کی ملکیت ثابت نہ ہوگی۔( فتاوٰی ہندیہ کتاب الھبۃ الباب الاول نورانی کتب خانہ پشاور جلد4 ص 374)

    سیدی اعلٰی حضرت قبضہ کاملہ کی وضاحت یوں فرماتے ہیں :قبضہ کاملہ کے یہ معنی کہ وہ جائیداد یا تو وقت ہبہ ہی مشاع نہ ہو (یعنی کسی اور شخص کی ملک سے مخلوط نہ ہو جیسے دیہات میں بغیر پٹہ بانٹ کے کچھ بسوے یا مکانات میں بغیر تقسیم جدائی کے کچھ سہام) اور واہب اس تمام کو موہوب لہ کے قبضہ میں دے دے۔(فتاویٰ رضویہ کتاب الھبہ جلد 19 ص 221 رضا فاؤنڈیشن لاہور)

    واللہ تعالٰی اعلم بالصواب

    کتبـــــــــــــــــــــــــــہ:محمد زوہیب رضا قادری

    الجواب الصحیح:ابوالحسنین مفتی وسیم اختر المدنی

    تاریخ اجراء:20 رجب المرجب 1440 ھ/28 مارچ 2019 ء