پچھلی امتوں سے سوالات قبر

    pichli ummaton se sawalat e qabar

    تاریخ: 11 جون، 2026
    مشاہدات: 19
    حوالہ: 1430

    سوال

    حضور علیہ الصلوۃ والسلام کی بعثت سے قبل جو لوگ مرگئے، قبر میں ان سے حضور علیہ الصلوۃ والسلام سے متعلق سوال کیا جائے گا یا نہیں ؟

    سائل: عارف نوارانی : کراچی


    بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

    اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ

    حضور نبی اکرم ﷺ کی ظاہری زندگی سے قبل اگلی امتوں سے سوال قبر کے سلسلے میں صحیح وراجح قول یہی ہے کہ اگلی امتوں سے سوال قبر نہیں ہوتا تھا بلکہ یہ اسی امت محمدیہ کے ساتھ خاص ہے، اور حضور کی بعثت کے بعد شروع ہوا جبکہ بعض علماء کا کہنا ہے کہ اگلی امتوں سے محض توحید کے متعلق سوال ہوتا تھااسکے علاوہ کوئی سوال نہیں ہوتا تھا۔

    فتاویٰ فقیہ ملت میں ہے کہ اگلی امتوں سے سوال قبر کے بارے میں اختلاف ہے علامہ ابن عابدین رحمۃ ﷲ تعالیٰ علیہ تحریر فرماتے ہیں :کہ اگلی امتوں سے سوال قبر ہوتا ہی نہ تھا جیسا کہ ردالمحتار جلد اول صفحہ 572 پر مرقوم ہے:"ان الراجح ایضا اختصاص السوال بھذہ الامۃ "ترجمہ: راجح یہ ہے کہ سوال ِ(قبر) اس امت کے ساتھ ہی خاص ہے۔

    جبکہ بعض علماءکے نزدیک اگلی امتوں سے قبر میں رب کی وحدانیت کے بارے میں سوال کیا جاتا تھا محمد بن سلیمان حبلی ریحاوی رحمۃ ﷲ تعالیٰ علیہ تحریر فرماتے ہیں :''سبیلی کل شخص من المکلفین او من بنی آدم فی قبرہ کان یسأل عن توحید ربہ الا من استثنی عن ذلک " ترجمہ: میرے نزدیک درست راستہ یہ ہے کہ مکلفین میں سے ہر شخص سے یا تمام بنی آدم سے قبر میں اسکے رب کی وحدانیت سے متعلق سوال ہوگا۔ مگر یہ کہ جو حضرات (جیسے انبیاء وغیرہ ) اس حکم سے مستثنٰی ہیں ۔(نخبۃ اللالی لشرح بدا الامالی صفحہ 118 بحوالہ فتاویٰ فقیہ ملت جلد اول کتاب الجنائز صفحہ 280 تا 281 )

    واللہ تعالٰی اعلم بالصواب

    کتبـــــــــــــــــــــــــــہ:محمد زوہیب رضا قادری

    الجواب الصحیح:ابو الحسنین مفتی وسیم اختر المدنی

    تاریخ اجراء:29 ذوالقعدہ 1443 ھ/29 جون 2022 ء