pension gp fund ka hukm jab warisa mein sirf bhai hon
سوال
اس مسئلہ کے بارے میں فتویٰ چاہیے تھا کہ ایک شخص سرکاری ملازم تھا اور چند ماہ قبل اس کا انتقال ہو گیا۔ انتقال کے وقت نہ اس کی کوئی اولاد تھی، نہ والدین حیات تھے، نہ بیوی موجود ہے، اور اس کے ورثاء میں صرف اس کے 4سگے بھائی اور ایک بہن موجود ہے، کوئی دوسرا شرعی وارث نہیں۔مرحوم کی ملازمت کے سلسلے میں پنشن، بقایا جات اور دیگر مالی واجبات وصول ہونے ہیں، اور عدالت نے کسی مستند دارالافتاء سے شرعی فتویٰ طلب کیا ہے۔دریافت طلب امر یہ ہے کہ:کیا مرحوم کی پنشن اور بقایا جات شرعاً ترکہ شمار ہوں گے؟اور کیا مذکورہ صورت میں ان رقوم کے شرعی حقدار صرف مرحوم کے سگے بھائی ہی ہوں گے؟قرآن و سنت اور اصولِ وراثت کی روشنی میں مختصر و مدلل جواب عنایت فرمایا جائے۔
سائل: عابد علی میتلو( پنوعاقل)
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ
اگر حقیقتِ حال وہی ہے جیسا کہ بیان کیا گیا ہے کہ مرحوم کے ورثاء میں صرف چار بھائی اور ایک بہن ہیں، تو مرحوم کے چھوڑے ہوئے مال (ترکہ) کے وارث اس کے بھائی اور بہن ہوں گے۔
پنشن چونکہ حکومت کی طرف سے ملازم کو دی جانے والی خدمات کی بنیاد پر ملتی ہے، لہٰذا اس کی حیثیت ہبہ (گفٹ) اور تبرع والی ہے، یہ ترکہ نہیں۔ اگر مرحوم نے پنشن کے لیے کسی کو نامزد (نومینیٹ) نہیں کیا، تو حکومت ورثاء میں سے جسے چاہے دے سکتی ہے یا سب کو برابر تقسیم کر سکتی ہے۔ اسی طرح گریجویٹی کے لیے بھی یہی حکم ہے۔
جی پی فنڈ دراصل وہ رقم ہوتی ہے جو ملازم کی اپنی تنخواہ سے کٹوتی کر کے جمع کی جاتی ہے۔ یہ کٹوتی بعض اوقات لازمی (جبری) ہوتی ہے اور بعض صورتوں میں اختیاری بھی ہو سکتی ہے۔ عموماً اس جمع شدہ رقم کی ادائیگی ملازم کو ریٹائرمنٹ کے بعد یکمشت کی جاتی ہے۔ تاہم ملازم اپنی ملازمت کے دوران بھی ضرورت کے تحت اس فنڈ سے رقم حاصل کر سکتا ہے، لیکن ایسی صورت میں بعد میں اس رقم کی واپسی ضروری ہوتی ہے تاکہ ریٹائرمنٹ کے وقت مکمل رقم وصول کی جا سکے۔
جی پی فنڈ کی رقم پر ملازم کا حق ثابت ہو جاتا ہے، کیونکہ یہ اس کی اپنی کمائی سے جمع شدہ رقم ہوتی ہے۔ مزید یہ کہ ملازم کے انتقال کی صورت میں یہ رقم کسی ایک مخصوص وارث کے لیے مختص نہیں ہوتی، بلکہ شرعی و قانونی طور پر تمام ورثاء اس میں اپنے اپنے حصے کے مطابق حق دار ہوتے ہیں۔
دلائل وجزئیات:
اگرورثاء میں صرف بھائی اور بہن دونوں ہوں تو بھائی کو دو بہنوں کے برابر حصہ ملے گا،قرآن پاک میں ہے:یَسْتَفْتُوْنَكَؕ-قُلِ اللّٰهُ یُفْتِیْكُمْ فِی الْكَلٰلَةِؕ-اِنِ امْرُؤٌا هَلَكَ لَیْسَ لَهٗ وَلَدٌ وَّ لَهٗۤ اُخْتٌ فَلَهَا نِصْفُ مَا تَرَكَۚ-وَ هُوَ یَرِثُهَاۤ اِنْ لَّمْ یَكُنْ لَّهَا وَلَدٌؕ-فَاِنْ كَانَتَا اثْنَتَیْنِ فَلَهُمَا الثُّلُثٰنِ مِمَّا تَرَكَؕ-وَ اِنْ كَانُوْۤا اِخْوَةً رِّجَالًا وَّ نِسَآءً فَلِلذَّكَرِ مِثْلُ حَظِّ الْاُنْثَیَیْنِؕ-یُبَیِّنُ اللّٰهُ لَكُمْ اَنْ تَضِلُّوْاؕ-وَ اللّٰهُ بِكُلِّ شَیْءٍ عَلِیْمٌ۠ ترجمہ:اے محبوب تم سے فتویٰ پوچھتے ہیں تم فرما دو کہ اللہ تمہیں کلالہ میں فتویٰ دیتا ہے اگر کسی مرد کا انتقال ہو جو بے اولاد ہے اور اس کی ایک بہن ہو تو ترکہ میں سے اس کی بہن کا آدھا ہے اور مرد اپنی بہن کا وارث ہوگا اگر بہن کی اولاد نہ ہو پھر اگر دو بہنیں ہوں ترکہ میں ان کا دو تہائی اور اگر بھائی بہن ہوں مرد بھی اور عورتیں بھی تو مرد کا حصہ دو عورتوں کے برابر اللہ تمہارے لئے صاف بیان فرماتا ہے کہ کہیں بہک نہ جاؤ اور اللہ ہرچیز جانتا ہے۔(النساء:176)
صاحب معراج الدریہ عصبات کی ترتیب بیان کرتے ہیں :ثم جزء أبيه أي: الإخوة لأب وأم، ثم لأب، ثم بنوهم وإن سفلوا.ثم جزء جده أي: الأعمام لأب وأم، ثم هذا الترتيب فيرتبون في الميراث كذلك، وكذلك في ولاية النكاح، وإذا اجتمعت العصبات يقدم في الإرث بقربهم؛ لقوله ﷺ: «فَلِأَوْلَى عَصَبَةٍ ذَكَرٍ».ولأن العلة في إرثه إنما هي القرب، والعلة في الأقرب أكمل؛ فيقدم كما في النكاح.وقد روى عمرو بن شعيب عن أبيه عن جده أنه جعل المال للأخ لأب وأم، ثم للأخ لأب، ثم لابن الأخ لأب وأم، ثم لابن الأخ لأب، وساق ذلك في العمومة، ومن كان منهم لأبوين فهو أولى ممن كان لأب؛ لقوة قرابته، ولقوله : «إِنَّ أعيانَ بَنِي الأب والأم يتوارثون دونَ بَنِي العَلَّاتِ»، ولا يعلم فيه خلاف. ترجمہ:پھر باپ کی جزء:یعنی حقیقی بھائی ، پھر سوتیلے بھائی (صرف باپ کی طرف سے)، پھر ان کی اولاد اگرچہ کتنی ہی نیچے کیوں نہ چلی جائے۔پھر دادا کی جزء: یعنی حقیقی چچا ، پھر اسی ترتیب کے ساتھ۔ چنانچہ میراث میں بھی انہیں اسی ترتیب سے رکھا جائے گا، اور نکاح کی ولایت میں بھی یہی ترتیب ہوگی۔اور جب عصبات جمع ہوں تو میراث میں ان میں سے زیادہ قریبی کو مقدم کیا جائے گا:کیونکہ نبی ﷺ کا فرمان ہے: پھر (مال) سب سے قریبی مرد عصبہ کا ہوگا۔ اور اس لیے بھی کہ اس کے وارث بننے کی علت قرابت ہے، اور جو زیادہ قریبی ہو اس میں یہ علت زیادہ کامل ہوتی ہے، اس لیے اسے مقدم کیا جائے گا، جیسا کہ نکاح کی ولایت میں ہوتا ہے۔اور عمرو بن شعیب نے اپنے والد سے اور انہوں نے اپنے دادا سے روایت کیا ہے کہ نبی ﷺ نے مال کو پہلے حقیقی بھائی کے لیے قرار دیا، پھر سوتیلے بھائی کے لیے، پھر حقیقی بھائی کے بیٹے کے لیے، پھر سوتیلے بھائی کے بیٹے کے لیے، اور اسی طرح یہ ترتیب چچاؤں میں بھی جاری رکھی۔اور ان میں سے جو باپ اور ماں دونوں کی طرف سے ہو وہ اس سے زیادہ حق دار ہے جو صرف باپ کی طرف سے ہو؛ کیونکہ اس کی قرابت زیادہ قوی ہے۔ اور اس لیے بھی کہ نبی ﷺ نے فرمایا: "بلاشبہ باپ اور ماں دونوں کی طرف سے بھائی ایک دوسرے کے وارث ہوتے ہیں، نہ کہ صرف باپ کی طرف سے بھائیوں کی طرح۔"اور اس مسئلے میں کسی اختلاف کا علم نہیں۔(معراج الدریہ فی شرح الھدایہ:فصل فی العصبات،جلد:8،ص:946 مطبوعہ دارالکتب العلمیہ بیروت لبنان)
عصبہ جب تنہا ہوں تو کل مال کے حقدار بنتے ہیں جیساکہ سراجی فی المیراث ،فتاوی ھندیہ اور مجمع الانہر میں ہے الفاظ آخر الذکر کے ہیں:ثم العصبات من جہۃ النسب، والعصبۃ کل من یأخذ ما أبقتہ أصحاب الفرائض، وعند الإنفراد یحرز جمیع المال۔ ترجمہ: پھر عصبات نسب کی جہت سے ہوتے ہیں، اور عصبہ ہر وہ شخص ہے جو اصحابِ فرائض کے حصے دینے کے بعد باقی ماندہ مال لے۔ اور اگر وہ اکیلا ہو تو پورا مال اسی کو مل جاتا ہے۔( مجمع الأنہر : فصل في العصبات ،جلد:4؍ص:504 دار الکتب العلمیۃ بیروت)
ہبہ کی تعریف سے متعلق علامہ علاؤ الدین حصکفی رحمۃ اللہ علیہ در مختار میں فرماتے ہیں :تمليك العين مجانا أی بلا عوض ترجمہ : بغیر عوض دوسرے کو کسی چیز کے عین کا مالک بنانا ( ہبہ کہلاتا ہے ) ۔( در مختار مع رد المحتار ، کتاب الھبۃ ، جلد 8 ، صفحہ 567 ، مطبوعہ کوئٹہ )
مفتی اعظم پاکستا ن مفتی منیب الرحمٰن تفہیم المسائل میں لکھتے ہیں:پنشن حکومت کی طرف سے تبرع ہے ، یہ ترکہ نہیں ہے ،لہذا حکومت اپنے قواعد و ضوابط اور قانون کے مطابق ورثاء میں سے جسے چاہے ،دے سکتی ہے۔(تفہیم المسائل:جلد4،ص:386 )
واللہ اعلم بالصواب
کتبـــــــــــــــــــــــــــہ: عبدالخالق بن محمد عیسیٰ
الجواب الصحیح:ابو الحسنین مفتی وسیم اختر المدنی
تاریخ اجراء:1447 ھ/03مارچ 2026ء