سوال
اگر پرندے اس نیت سے پالے جائیں کہ ان کی اچھی دیکھ بھال کر کے اور افزائش نسل کر کے ذریعہ معاش بنایا جائے تو کیا شرعی اعتبار سے یہ کام جائز ہے ۔اور حاصل ہونے والی کمائی بھی جائز ہے ۔
سائل : شعیب احمد
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ
پرندوں کا کاروبار کرنا جائز ہے ،اسی طرح انہیں شوقیہ رکھنا بھی جائز ہے ۔لیکن اس میں ضروری ہے کہ ان کے دانے، پانی کا بھر پورانتطام ہو ،اسی طرح مختلف موسموں(سرما ،گرما،وغیرہا)میں حدت ،شدت،اور ٹھندک سے بچاؤ کا مکمل اہتمام ہو۔
شوقیہ رکھنے میں ایسا نہ ہو کہ تمام اوقات اسی کام میں مشغول ہو اور لہوو لعب میں گزارتا رہے ،یوں کہ اس کام کی وجہ سے امور دینی جیسے نماز وغیرہا،اور حقوق العباد سے غافل ہونا پڑے۔
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ کےچھوٹے بھائی حضرت ابو عمیر کے پاس ایک چڑیا کی طرح پرندہ تھا۔جس سے وہ کھلتے تھے۔نبی کریم علیہ الصلاۃ والسلام جب ان کے پاس تشریف لاتے تو خوش طبعی کرتے ہوئےاس پرندے کے متعلق فرماتے کہ اے ابو عمیر! اس پرندے کا کیا ہوا؟ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ پرندے رکھناجائز ہے،اگر ناجائز ہوتا تونبی علیہ الصلاۃ والسلام ضرور منع فرما دیتے۔
حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ مروی ہےفرماتے ہیں:إِنْ كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيُخَالِطُنَا، حَتَّى يَقُولَ لِأَخٍ لِي صَغِيرٍ: يَا أَبَا عُمَيْرٍ، مَا فَعَلَ النُّغَيْرُ ۔ترجمہ:نبی علیہ الصلاۃ والسلام ہمارے ساتھ گھل مل جاتے تھے یہاں تک کہ میرے چھوٹے بھائی سے فرماتے: اے ابو عمیر! نغیر(چڑیا جیسا پرندہ جس کی چونچ سرخ ہوتی ہے) کا کیا بنا؟ وہ بچہ اس پرندہ سے کھیلتا تھا۔(صحیح البخاري، رقم الحدیث :6129)
حافظ ابن حجر عسقلانی علیہ الرحمہ فتح الباری میں اس حدیث کی شرح کرتےہوئے فرماتے ہیں:إن في الحديث دلالة على جواز إمساك الطير في القفص ونحوه، ويجب على من حبس حيواناً من الحيوانات أن يحسن إليه ويطعمه ما يحتاجه لقول النبي ۔ ترجمہ :اس حدیث سے پرندے کو پنجرے وغیرہ میں بند کرنے کے جواز پر دلیل ملتی ہے۔ پرندے کو رکھنے والے پر واجب ہے کہ وہ اس کے کھانے وغیرہ کا خصوصی اہتمام کرے۔(فتح البارى، 10: 584، دار المعرفة بيروت)
ان پرندوں کی خرید و فروخت بھی جائز ہے اس لیے کہ یہ زیرِ ملیکت ہونے کے ساتھ ساتھ مقدور التسلیم بھی ہیں۔فتاوی ہندیہ میں ہے: والصحيح انه يجوز بيع کل شئي ينتفع به.،،،،،والطير جائز عندنا معلما کان أو لم يکن..ترجمہ : صحیح یہی ہے کہ ہر وہ چیز جس سے نفع اٹھایا جا سکتا ہو اسکی تجارت جائز ہے۔ اور پرندوں کی خرید و فروخت جائز ہے خواہ سیکھائے ہوئے ہوں یا نہ ہوں۔ملخصا(الفتاوی الهندية، جلد 03 :صفحہ 11، دار الفکر بیروت)
واللہ اعلم بالصواب
کتبــــــــــــــــــــــــــہ:محمد یونس انس القادری
الجـــــواب صحــــیـح:ابو الحسنین مفتی وسیم اختر المدنی
تاریخ اجراء:08رجب1443 ھ/10فروری2022ء