پگڑی کا مکان اور مناسخہ
    تاریخ: 4 اپریل، 2026
    مشاہدات: 3
    حوالہ: 1090

    سوال

    ہمارے والد صاحب کا پگڑی کا گھر تھا، انکا انتقال ہوچکا ہے، انتقال کے وقت انکی ایک بیوی(رابعہ) 5 بیٹے (عبدالمجید، عبدالعزیز، عبدالرزاق، عبدالقادر، عبدالرؤف) اور 2 بیٹیاں(خاتون، فریدہ)حیات تھی۔ بعد ازاں انکی بیوی (رابعہ ) کا انتقال ہوگیا۔ انکے ورثاء یہی ہیں جو اوپر مذکور ہوئےاسکے بعد عبدالمجید کا انتقال ہوا ، وہ شادی شدہ لاولد تھے،انکی بیوی (فریدہ)موجود ہیں ۔ پھر ایک اور بیٹے عبدالعزیز کا انتقال ہوا وہ بھی شادی شدہ تھے انکے ورثاء میں ایک بیوی(پروین) اور 2 بیٹے(آصف، خرم) ہیں۔ پھر ایک بیٹی (فریدہ )کا انتقال ہوا، جو کہ غیر شادی شدہ تھیں، پھر ایک اور بیٹے (عبدالرزاق )کا انتقال ہوا،وہ بھی شادی شدہ نہ تھے۔پھر دوسری بیٹی (خاتون)کا انتقال ہواانکے ورثاء میں شوہر(جاوید) ایک بیٹا(جنید) اور ایک بیٹی (سومیا)ہے۔ پھر ایک اور بیٹے (عبدالرؤف)کاانتقال ہوا انکے ورثاء میں بیوی (صائمہ)موجود ہے جبکہ انکی کوئی اولاد نہیں تھی۔وراثتی مکان سے کس کس کو حصہ ملے گا اور کتنا ؟ شرعی رہنمائی فرمائیں۔ نیز ایک بھائی عبدالرزاق نے وصیت کی تھی کہ میرے بعد والد کا یہ مکان عبدالرؤف اور انکی زوجہ کو ملے۔

    سائل:عبدالقادر: کراچی


    بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

    اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ

    یہاں دو امر ہیں:

    1: والد کے پگڑی کے مکان کی تقسیم:

    2: عبدالرزاق کی وصیت کا حکم:

    ہر ایک کا حکم الگ الگ درج ذیل ہے:

    1: والد کے پگڑی کے مکان کی تقسیم:

    پگڑی کی خرید و فروخت کے بارے میں موجودہ دور کے علماءکے دو گروہ ہیں، بعض عدمِ جواز کے قائل ہیں اور بعض جواز کے۔ عدمِ جواز کے قائلین کی دلیل یہ ہے کہ پگڑی ''حقِ قبضہ'' کی بیع کا نام ہے اور ''حق ''مال نہیں ہے ، جبکہ بیع کے لئے مال ہونا لازم ہےلہذا اس دکان یا مکان کے بجائے فقط اس پر حقِ قبضہ کی بیع ہونے کی بناء پر ناجائز ہے ۔

    جبکہ دیگر مفتیان بلکہ خود ہمارے نزدیک اسکی بیع جائز ہے ،(جس کی تفصیل ہمارے دیگر فتاوٰی میں موجود ہے۔) لہذا جس نے بھی دوکان یا مکان پگڑی پر خریدا وہ اسکا مالک ہوجائے گا اور بعد از وصال وہ مکان اسکے ورثاء کے مابین انکے شرعی حصص کے مطابق تقسیم ہوگی۔لہذا یہاں بھی یہ مکان ورثاء کے مابین انکے شرعی حصص کے مطابق تقسیم ہوگا جسکی تفصیل درج ذیل ہے:

    کل حصص: 67200

    ہر وارث کا حصہ: عبدالقادر فریدہ(زوجہ عبدالمجید) پروین آصف خ رم جاوید جنید سومیا صائمہ

    36064 2800 1610 5635 5635 2576 5152 2576 5152

    نوٹ :اس فتویٰ کی مزید تفصیل PDF کے ساتھ منسلک ہے۔