سوال
ایک شخص کا انتقال ہوا ، اسکی زوجہ پہلے ہی فوت ہوچکی ہے جبکہ ورثاء میں 6 بیٹے(احسان، عرفان، عمران، ریحان، عدنان، سلمان) اور 5 بیٹیاں(امیر بانو، یاسمین، زیباء، انجم، ہما) ہیں، بعد ازاں ایک بیٹے احسان کا انتقال ہوگیاجوکہ شادی شدہ تھا اسکے ورثاء میں ایک بیوی(امینہ) دو بیٹیاں (انعم، ماہ طیبہ) اور ایک بیٹا (معاذ) ہے۔ وراثت میں 74 لاکھ روپے ہیں ۔ تقسیم کیسے ہوگی اور ہر ایک کا رقم کی صورت میں کیا حصہ ہوگا۔
سائل:عرفان : کراچی۔
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ
جب کسی شخص کا انتقال ہوجائے تو سب سے پہلے اسکے مال سے اسکی تجہیز و تکفین کا بندوبست کیا جاتاہے پھر اگر اس پر کسی کا قرضہ ہوتو اسکے سارے مال سے اس قرضے کی ادائیگی کی جاتی ہے، اگر قرضے میں سارا مال چلا جائے فبہا۔ اب چونکہ مزید مال موجود ہی نہیں لہذا ورثاء کو کچھ نہیں ملے گا لیکن اگر قرض کی ادائیگی کے بعد مال بچ جائے تو دیکھیں گے کہ مرنے والے نے کسی غیر وارث کے لیے وصیت کی ہے تواس مابقی بعد اداء القرض (قرض کی ادائیگی کے بعد جو بچا اس)مال کے تین حصے کیے جائیں گے ،اس میں سے ایک حصہ سے وصیت پوری کی جائیگی اور بقیہ دو حصے اسکے ورثاء میں شریعت کے مقرر کردہ حصوں کے مطابق تقسیم کر دئیے جائیں گے۔السراجی فی المیراث میں ہے:قال علمائنا تتعلق بترکۃ المیت حقوق اربعۃ الاول یبدأ بتکفینہ وتجہیزہ ثم تقضی دیونہ من جمیع ما بقی من مالہ ثم تنفذ وصایاہ من ثلث ما بقی بعد الدین ثم یقسم الباقی بین ورثتہ ترجمہ: ہمارے علماء نے فرمایا کہ میت کے ترکے سے چار طرح کے حق متعلق ہوتے ہیں پہلا تجہیز و تکفین پھراسکے تمام مال سے اسکے قرض ادا کئے جائیں گے پھر قرض کی ادائیگی کے بعد جو مال بچا اس سے وصیت نافذ کی جائے گی، پھر جو مال بچے اسکو ورثاء میں تقسیم کردیا جائے گا۔(سراجی فی المیراث ص 5)
مالِ وراثت کی تقسیم کی تفصیل یہ ہے کہ کل رقم کو 272 حصوں میں تقسیم کیا جائے گا ۔
نوٹ : اس فتویٰ کی مزید تفصیل PDF کے ساتھ منسلک ہے۔