ورثا میں ایک بھائی اور بھتیجی
    تاریخ: 10 مارچ، 2026
    مشاہدات: 6
    حوالہ: 1008

    سوال

    رحمت علی کو اپنے والد کی وراثت سے 24 ایکڑ زرعی زمین ملی ۔یہ تین بھائی ہیں مختیار احمد، رشید احمداور ایک یہ خود اور دو بہنیں رحمت بی بی اور رشیدہ بی بی ہیں دونوں بہنیں اس کی زندگی میں ہی انتقال کر گئی ہیں اور سی طرح رشید احمد بھی رحمت کی زندگی میں ہی فوت ہوگیا جو ایک بیٹی کا باپ تھا۔بیٹی کا نام راحت بنتِ رشید ہے ۔سوال یہ ہے کہ رحمت علی کی وراثت تقسیم کرنا ہے اس وقت ورثاء میں صرف اسکا ایک بھائی مختیار احمداور ایک بھتیجی دخترِ رشید احمد ہے۔کیا وراثت میں دخترِ رشید احمد یعنی رحمت کی بھتیجی کو حصہ ملے گا؟نیز وراثت کی تقسیم کیسے ہوگی؟اس حوالے سے شرعی رہنمائی فرمائیں۔

    سائل:وحید مختیار: دوڑ ضلع شہید بے نظیر آباد


    بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

    اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ

    اگر معاملہ ایسا ہی ہے جیساکہ سوال میں ذکر کیا گیا تو صورت مستفسرہ کا حکم یہ ہے کہ رحمت علی کی بھتیجی یعنی دخترِ رشید احمد کورحمت علی کی وراثت سے کوئی حصہ نہیں ملے گا۔ کیونکہ مسائل میراث کا اصول ہے کہ تقسیم وراثت میں ابتدا اصحابِ فرائض سے کی جاتی ہے،اگر وہ نہ ہوں تو عصبہ نسبی،اگر وہ نہ ہوں توعصبہ سببی ، اگر وہ نہ ہوں تو عصبہ سببی کے عصبہ نسبی اور پھر ردعلی ذوی الفروض ، پھر اس کے بعد ذوی الارحام کا حصہ ہوتا ہے۔اور بھتیجی ذوی الارحام میں سے ہے جبکہ بھائی عصبہ نسبی میں سے ہے لہذا عصبہ نسبی یعنی بھائی کے ہوتے ہوئے ذوی الارحام یعنی بھتیجی کو حصہ نہیں ملے گا۔ یونہی دوسرا، اصول یہ ہے کہ قریبی رشتہ دار کی موجودگی میں دور والا رشتہ دار محروم رہتا ہے۔چناچہ السراجی فی المیراث میں ہے:فیبدا باصحاب الفرائض،ثم بالعصبات من جھۃ النسب، ثم بالعصبہ من جھۃ السبب، ثم عصبتہ علی الترتیب ، ثم الرد علی ذوی الفروض النسبیہ،ثم ذوی الارحام۔ترجمہ: وراثت میں ابتدا اصحابِ فرائض سے کی جاتی ہے،اگر وہ نہ ہوں تو ان کے بعد عصبہ نسبی،اگر وہ نہ ہوں تو ان کے بعد عصبہ سببی ، اگر وہ نہ ہوں تو ان کے بعد عصبہ سببی کے عصبہ نسبی اور پھر ردعلی ذوی الفروض ، پھر اس کے بعد ذوی الارحام۔( السراجی فی المیراث ص16مطبوعہ مکتبۃ البشرٰی)

    اسی میں ہے:یرجحون بقرب الدرجۃ،اعنی اولاھم بالمیراث جُزْء ُ المیت۔۔۔ثم جُزْء ابیہ ،ای الاخوۃ،ثم بنوھم :ترجمہ:وراثت کا زیادہ حق قریبی رشتہ دار رکھتے ہیں یعنی میت کا جز ۔۔۔پھر اس کے باپ کا جز یعنی اس کا بھائی پھر اس کےا ٓگے جو ہوں۔( السراجی فی المیراث ص54مطبوعہ مکتبۃ البشرٰی)

    تنویرالابصار مع الدرالمختار کتاب الفرائض باب العصبات جلد6ص774پر ہے :وَیُقَدَّمُ الْأَقْرَبُ فَالْأَقْرَبُ مِنْہُمْ۔ترجمہ: اور (میت کے رشتے داروں میں سے) قریب کے رشتے دار کو وراثت دینے میں مقدم کیاجائے گا پھر جو اسکے بعد زیادہ قریب ہو اسکو مقدم کیاجائے گا ۔( تنویرالابصار مع الدرالمختار کتاب الفرائض باب العصبات جلد6ص774)

    لہذا رحمت علی کی ساری وراثت مختیار احمد کو ملے گی۔کیونکہ مختیار احمد میت کے عصبات میں سے ہیں اور عصبہ دیگر ورثاء کی عدم موجودگی میں میت کے تمام مال کا مستحق بن جاتا ہے۔السراجی فی المیراث میں ہے :والعصبۃ : کل من یاخذ ما ابقتہ اصحاب الفرائض وعند الانفراد یحرز جمیع المال :ترجمہ:اور عصبہ ہر وہ شخص ہے جو اصحاب فرائض سے باقی ماندہ مال لے لے اور جب اکیلا ہو (دیگر ورثاء نہ ہوں)تو سارے مال کا مستحق ہوجائے ۔( السراجی فی المیراث ص54مطبوعہ مکتبۃ البشرٰی)

    واللہ تعالٰی اعلم بالصواب

    کتبـــــــــــــــــــــــــــہ:محمد زوہیب رضا قادری

    الجواب الصحیح:ابوالحسنین مفتی وسیم اختر المدنی

    تاریخ اجراء:20 ربیع الثانی 1441 ھ/18 دسمبر 2019ء