سوال
1: ہمارے والد کا انتقال ہوگیا ہے، ورثاء میں ایک بیوی، دو بیٹے اور 4 بیٹیاں ہیں۔والد کاا یک مکان ہےجسکی قیمت 30 لاکھ ہے،شرعی طور پر کس کا کتنا حصہ ہوگا؟
2: والد کی پنشن کا حقدار کون ہوگا اسکی بھی شرعی رہنمائی فرمائیں۔
3:تین بہنوں اور والدہ کا مطالبہ ہےکہ یہ مکان خالی کرو، ہم اسے فی الحال رینٹ پر دیں گے، پھر جب بکے گا تو آپ اپنا حصہ لے لینا ۔ کیاان کا یہ مطالبہ درست ہے؟
4: ہمارے نانا کا بھی وصال ہوگیا ہے انکی تین بیٹیاں اورایک بیٹا ہے ، مکان کی قیمت ایک کروڑ روپے ہے۔وراثت کی تقسیم کیسے ہوگی نیز یہ کہ نانا کی وراثت سے ملنے والے مال میں سے اولاد کاماں سے حصہ کا تقاضا کرنا جائز ہے یا نہیں ؟
سائل:عاصم:کراچی
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ
1: جب کسی شخص کا انتقال ہوجائے تو سب سے پہلے اسکے مال سے اسکی تجہیز و تکفین کا بندوبست کیا جاتاہے پھر اگر اس پر کسی کا قرضہ ہوتو اسکے سارے مال سے اس قرضے کی ادائیگی کی جاتی ہے، اگر قرضے میں سارا مال چلا جائے فبہا۔ اب چونکہ مزید مال موجود ہی نہیں لہذا ورثاء کو کچھ نہیں ملے گا لیکن اگر قرض کی ادائیگی کے بعد مال بچ جائے تو دیکھیں گے کہ مرنے والے نے کسی غیر وارث کے لیے وصیت کی ہے تواس مابقی بعد اداء القرض (قرض کی ادائیگی کے بعد جو بچا اس)مال کے تین حصے کیے جائیں گے ،اس میں سے ایک حصہ سے وصیت پوری کی جائیگی اور بقیہ دو حصے اسکے ورثاء میں شریعت کے مقرر کردہ حصوں کے مطابق تقسیم کر دئیے جائیں گے۔السراجی فی المیراث میں ہے:قال علمائنا تتعلق بترکۃ المیت حقوق اربعۃ الاول یبدأ بتکفینہ وتجہیزہ ثم تقضی دیونہ من جمیع ما بقی من مالہ ثم تنفذ وصایاہ من ثلث ما بقی بعد الدین ثم یقسم الباقی بین ورثتہ: ترجمہ: ہمارے علماء نے فرمایا کہ میت کے ترکے سے چار طرح کے حق متعلق ہوتے ہیں پہلا تجہیز و تکفین پھراسکے تمام مال سے اسکے قرض ادا کئے جائیں گے پھر قرض کی ادائیگی کے بعد جو مال بچا اس سے وصیت نافذ کی جائے گی، پھر جو مال بچے اسکو ورثاء میں تقسیم کردیا جائے گا۔(سراجی فی المیراث ص 5)
وراثت کی تقسیم کی تفصیل یہ ہے کہ کل مالِ وراثت کے64حصے کئے جائیں گے جس میں سے بیوی کو 8 حصے،ہر بیٹے کو الگ الگ 14حصے ملیں گے، جبکہ ہر بیٹی کو 7حصے ملیں گے۔رقم کی صورت میں زوجہ کو 3لاکھ75 ہزار ، ہر بیٹے کو6 لاکھ56 ہزار2 سو 50 روپے ملیں گےاور ہر بیٹی کو873لاکھ 28ہزار 1 سو 25سو روپے ملیں گے۔
المسئلۃ بھذہ الصورۃ
مسئلہ :864=8x
مــیـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــت
بیوی بیٹا بیٹا بیٹی بیٹی بیٹی بیٹی
1/8 عصبــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــہ
1 7
8 14 14 7 7 7 7
مذکورہ تقسیم اللہ کے مقرر کردہ حصوں کے مطابق ہے،بیویوں کے بارے میں ارشاد ہے قال اللہ تعالیٰ:وَلَهُنَّ الرُّبُعُ مِمَّا تَرَكْتُمْ إِنْ لَمْ يَكُنْ لَكُمْ وَلَدٌ فَإِنْ كَانَ لَكُمْ وَلَدٌ فَلَهُنَّ الثُّمُنُ۔ترجمہ کنز الایمان :تمہارے ترکہ میں عورتوں کا چوتھائی ہے اگر تمہارے اولاد نہ ہو پھر اگر تمہارے اولاد ہو تو ان کا تمہارے ترکہ میں سے آٹھواں ۔
لڑکے لڑکیوں کے بارے میں ارشاد فرمایا:یُوصِیکُمُ اللَّہُ فِی أَوْلَادِکُمْ لِلذَّکَرِ مِثْلُ حَظِّ الْأُنْثَیَیْنِ۔ترجمہ کنز الایمان :اللہ تعالی تمہیں حکم دیتا ہے تمھاری اولاد کے بارے کہ بیٹے کا حصہ دو بیٹیوں برابر ہے۔
السراجی فی المیراث ص19میں ہے:ومع الابن للذکر مثل حظ الانثیین۔ترجمہ: اور للذکر مثل حظ الانثیین کے تحت بیٹی کو بیٹے کے حصے کا نصف ملے گا۔
2:پنشن کی رقم کا حکم یہ ہے کہ حکومت جو پنشن دے رہی ہے،وہ خود ورثاء میں سےکسی فردکونامزد(Nominate)کردے(عموما اس رقم میں بیوہ کو ہی نامزد کیا جاتا ہے۔)تو صرف وہی فرد اس رقم کامالک ہوگا اسکے علاوہ کسی کو اس رقم سے مطالبہ کا حق نہیں ۔
لیکن اگرحکومت یاادارہ سب وارثوں کےلیےدےتوسب وارث اس میں برابر شریک ہوں گےلیکن یہ تقسیم، میراث کی وجہ سے نہیں ہوگی،بلکہ یہ حکومت یاادارہ کی طرف سےانکوانعام دیناشمارہوگا۔
3:بہنوں اور ماں کا یہ مطالبہ جائز نہیں ہے کیونکہ اس گھر میں ان کی طرح آپکا بھی حق ہے لہذا اگر آپ اس مکان کو کرایہ پر دینے پر راضی نہیں تو لازم ہے کہ یا تو وہ مکان بیچ کر آپکا حصہ دیں یا یہ کہ آپکے حصے کی رقم اپنے پلے سے ادا کرکے مکان کرایہ پر دیں لیکن آپکی اجازت کے بغیر اس مکان کو کرایہ پر دینا جائز نہیں ہے۔کیونکہ وراثت کا مال تمام ورثاء کو بطور شرکت ملک حاصل ہوتا ہے، اور شرکت الملک میں تمام ورثاء ایک دوسرے کےحصہ میں اجنبی کی طرح ہوتے ہیں کوئی بھی وارث دوسرے کے حصے میں اسکی اجازت کے بغیر تصرف نہیں کرسکتا ۔ تنویر الابصار مع الدر المختار میں ہے: شَرِكَةُ مِلْكٍ، وَهِيَ أَنْ يَمْلِكَ مُتَعَدِّدٌ عَيْنًا أَوْ دَيْنًا أَوْ بِإِرْثٍ أَوْ بَيْعٍ أَوْ غَيْرِهِمَا،وَكُلٌّ أَجْنَبِيٌّ فِي مَالِ صَاحِبِهِ۔ترجمہ: شرکت ملک یہ ہے کہ متعدد اشخاص عین یا دین میں یا وراثت میں یا بیع یا کسی اور چیز میں مشترکہ مالک ہوجائیں ،ان میں سے ہر ایک دوسرے کے حصہ میں
اجنبی ہوگا۔(تنویر الابصار مع الدر المختار ،کتاب الشرکۃ جلد 4 ص 299،300)
تبیین الحقائق شرح کنز الدقائق میں ہے: وَكُلُّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا أَجْنَبِيٌّ فِي نَصِيبِ صَاحِبِهِ حَتَّى لَا يَجُوزَ لَهُ أَنْ يَتَصَرَّفَ فِيهِ إلَّا بِإِذْنِهِ۔ ترجمہ:ان میں سے ہر ایک دوسرے کے حصہ میں اجنبی کی طرح ہے حتٰی کی ایک کو دوسرے کے حصے میں اسکی اجازت کے بغیر تصرف کرنا جائز نہیں ہے۔(تبیین الحقائق شرح کنز الدقائق کتاب الشرکۃ جلد 3 ص 313)
4:نانا کے ورثاء اگر صرف یہی ہیں جو سوال میں ذکر کئے گئے ہیں تو اس صورت میں حکمِ شرع یہ ہے کہ امور متقدمہ علی الارث(یعنی انکے مال سے انکی تجہیز و تکفین کے اخراجات ، اگر ان پر قرض ہو تو اسکی ادائیگی، اگر کوئی جائز وصیت ہو تو کل مال کے ایک تہائی سے اس وصیت کا نفاذ کیا جائے گا)کے بعد جو مال بچے اسکو پانچ حصوں میں تقسیم کیا جائے گا ، ہر بیٹی کو ایک حصہ اور بیٹے کو دو حصے دیئے جائیں گے۔ یعنی 40 لاکھ بیٹے کو اور ہر بیٹی کو 20 لاکھ روپے ملیں گے۔
نیز نانا کی وراثت سے ملنے والی وراثت خاص والدہ کی ہے اولاد کا اس میں سے حصے کا مطالبہ کرنا جائز نہیں ہے۔
واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
کتبـــــــــــــــــــــــــــہ:محمد زوہیب رضا قادری
الجواب الصحیح:ابوالحسنین مفتی وسیم اختر المدنی
تاریخ اجراء:17ربیع الاول 1442 ھ/04 نومبر 2020 ء