وراثت، ھبہ، وصیت کا مسئلہ
    تاریخ: 10 مارچ، 2026
    مشاہدات: 4
    حوالہ: 1007

    سوال

    1:میرے داد ا کا انتقال ہوا ورثاء میں ایک بیوی دو بیٹے دو بیٹیاں ہیں، میراث کی تقسیم کیسے ہوگی شرعی رہنمائی فرمائیں۔

    2: والد صاحب نے اپنی تمام اولاد کو گاڑی لے کر دی میں نے کہامجھے بھی لے کر دو تو انہوں نے مجھے بھی لے کر دی لیکن وہ انکے نام پر ہے جبکہ قبضہ میرا ہی رہا۔ کیا یہ بھی میراث میں تقسیم ہوگی؟

    3: والد صاحب نے مرض الوفات میں (وینٹی لیٹر پر جانے سے دو دن قبل) کہا کہ اکاؤنٹ میں جتنے پیسے ہیں تم دونوں بیٹے لے لینا، اور کاروبار وغیرہ میں لگانا کیا وہ بھی میراث میں تقسیم ہوگا؟ والد صاحب اپنی زندگی میں بیٹیوں کو بول چکے ہیں کہ کاروبار بیٹوں کا ہے کاروبار میں تمہارا کوئی حق نہیں ہے ۔ اسکا کیا حکم ہوگا؟نیز بہن کا کہنا ہے کہ میرے اخراجات بھی آپ اٹھائیں کیونکہ اس پیسوں اور کاروبار میں میرا حصہ بھی ہے، جبکہ والد نے واضح طور پر کہا تھا کاروبار کے مالک صرف بیٹے ہیں۔

    4: ایک آفس کی جگہ ہے جو والد صاحب نے خریدی اور بہن کے نام کی لیکن اس پر قبضہ ہمارا ہے ، کیا ہم قبضہ چھوڑنے کے عوض پیسے لے سکتے ہیں؟جبکہ اس جگہ کا رینٹ اور پراپرٹی ٹیکس بھی ہم ہی ادا کررہے ہیں۔

    سائل:مصطفٰی جلیل : کراچی


    بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

    اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ

    1: اگر ورثاء یہی ہیں تو تقسیم کا طریقہ یہ ہے کہ کل مالِ وراثت کو 48 حصوں میں تقسیم کیا جائے گا جس میں سے بیوی کو 8 حصے، ہر بیٹے کو 14 حصے اور ہر بیٹی کو7 حصے ملیں گے۔

    المسئلہ بھذہ الصورۃ

    مسئلہ :848=6x

    مــیـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــت

    بیوی بیٹا بیٹا بیٹی بیٹی

    8/1 عصبــــــــــــــــــــــــــــــــــــــہ

    1 7

    6 14 14 7 7

    مذکورہ تقسیم اللہ کے مقرر کردہ حصوں کے مطابق ہے،بیویوں کے بارے میں ارشاد ہے قال اللہ تعالیٰ :وَلَهُنَّ الرُّبُعُ مِمَّا تَرَكْتُمْ إِنْ لَمْ يَكُنْ لَكُمْ وَلَدٌ فَإِنْ كَانَ لَكُمْ وَلَدٌ فَلَهُنَّ الثُّمُنُ۔ترجمہ کنز الایمان : تمہارے ترکہ میں عورتوں کا چوتھائی ہے اگر تمہارے اولاد نہ ہو پھر اگر تمہارے اولاد ہو تو ان کا تمہارے ترکہ میں سے آٹھواں ۔

    لڑکے لڑکیوں کے بارے میں ارشاد فرمایا:یُوصِیکُمُ اللَّہُ فِی أَوْلَادِکُمْ لِلذَّکَرِ مِثْلُ حَظِّ الْأُنْثَیَیْنِ ۔ ترجمہ کنز الایمان : اللہ تعالی تمہیں حکم دیتا ہے تمھاری اولاد کے بارے کہ بیٹے کا حصہ دو بیٹیوں برابر ہے۔(سورۃ النساء آیت نمبر 10، 11)

    2: یہ گاڑی خالصتاً بیٹے کی ملکیت ہے جسے والد نے دی پھر قبضہ بھی دے دیا ، اسے میراث میں تقسیم نہیں کیا جائے گا کیونکہ یہ از روئے شرع ھبہ ہے جو ازقبضہ کاملہ کامل و تام ہوجاتا ہےجس کے بعد اس چیز میں موہوب لہ(جسے وہ چیز دی گئی ) کی ملکیت ہوجاتی ہے، بعد ثبوتِ ملکیت کسی کو کوئی دعوٰی تقسیم وراثت کا روا نہیں۔

    تنویرالابصار میں ہے: وَ) شَرَائِطُ صِحَّتِهَا (فِي الْمَوْهُوبِ أَنْ يَكُونَ مَقْبُوضًا غَيْرَ مَشَاعٍ مُمَيَّزًا غَيْرَ مَشْغُولٍ)ترجمہ:اور ھبہ (گفٹ)کے موہوب ( گفٹ کی گئی چیز)میں صحیح ہونے کی شرائط یہ ہیں کہ وہ چیز قبضہ میں ہو، اور غیر مشاع ہو (یعنی ایسی مشترک چیز نہ ہو جس میں شریکوں کے حصے ممتاز نہ ہوں)اور ممیز ہو(یعنی جدا اور نمایاں ہو) اور غیر مشغول ہو(یعنی اس میں کسی اور کا کوئی حق متعلق نہ ہو)۔( تنویرالابصار مع الدرالمختار کتاب الھبہ جلد 5ص688)

    اسی میں ہے:تتم الھبۃ بالقبض الکامل۔ترجمہ:مکمل قبضہ کے بعد ھبہ تام ہوتاہے ۔( تنویر الابصار مع الدر المختار کتاب الھبہ جلد 5 ص 692)

    سیدی اعلٰی حضرت قبضہ کاملہ کی وضاحت یوں فرماتے ہیں : قبضہ کاملہ کے یہ معنی کہ وہ جائیداد یا تو وقت ہبہ ہی مشاع نہ ہو یعنی کسی اور شخص کی ملک سے مخلوط نہ ہو جیسے دیہات میں بغیر پٹہ بانٹ کے کچھ بسوے یا مکانات میں بغیر تقسیم جدائی کے کچھ سہام۔ اور واہب اس تمام کو موہوب لہ کے قبضہ میں دے دے، یا مشاع ہو تو اس قابل نہ ہو کہ اسے دوسرے کی ملک سے جدا ممتاز کرلیں تو قابل انتفاع رہے جیسے ایک چھوٹی سی دکان دو شخصوں میں مشترک کہ آدھی الگ کرتے ہیں تو بیکار ہوئی جاتی ہے ایسی چیز کا بلا تقسیم قبضہ دلادینا بھی کافی وکامل سمجھا جاتاہے، یا مشاع قابل تقسیم بھی ہو تو واہب اپنی زندگی میں جدا ومنقسم کرکے قبضہ دے دے کہ اب مشاع نہ رہی۔ یہ تینوں صورتیں قبضہ کاملہ کی ہیں۔(فتاویٰ رضویہ کتاب الھبہ جلد 19 ص 221 رضا فاؤنڈیشن لاہور)

    3: یہ سارے پیسے میراث میں تقسیم ہونگے،کیونکہ والد کے یہ الفاظ'' تم دونوں بیٹے لے لینا، اور کاروبار وغیرہ میں لگانا'' وصیت کے حکم میں ہیں، اور کیونکہ بحکمِ حدیث وارث کے حق میں وصیت جائز ہی نہیں کہ نبی کریم علیہ ا لصلوۃ التسلیم نے فرمایا:لاوصیۃ لوارث ۔ ترجمہ: وارث کے لئے وصیت نہیں ہے۔ (ابنِ ماجہ ، حدیث نمبر 2714)

    یہی حکم کاروبار کا بھی ہے یعنی اسکی تقسیم بھی میراث کے اعتبار سے ہوگی نہ یہ کہ صرف بھائیوں کا حصہ ہوگا۔کہ یہ بھی وصیت ہے جو وارثوں کے حق میں باطل ہے۔

    وصیت کے بارے میں بدائع الصنائع میں ہے:(وَمِنْهَا) أَنْ لَا يَكُونَ وَارِثُ الْمُوصِي وَقْتَ مَوْتِ الْمُوصِي، فَإِنْ كَانَ لَا تَصِحُّ الْوَصِيَّةُ لِمَا رُوِيَ عَنْ أَبِي قِلَابَةَ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - عَنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنَّهُ قَالَ «إنَّ اللَّهَ تَبَارَكَ وَتَعَالَى أَعْطَى كُلَّ ذِي حَقٍّ حَقَّهُ، فَلَا وَصِيَّةَ لِوَارِثٍ»ترجمہ:ور موصیٰ لہ ( جس کے لیے وصیت کی جارہی ہے ) کی شرط یہ بھی ہے کہ وہ موصی(وصیت کرنے والے) کی موت کے وقت اسکا وارث نہ ہو، اگر وارث ہوگا تو اسکے حق میں وصیت صحیح نہیں ہے، کیونکہ حضرت ابو قلابہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد رمایا کہ اللہ تعالی نے ہر وارث کو اس کا مکمل حق دے دیا ہے لہذا وارث کے حق میں وصیت نہیں ہے۔(بدائع الصنائع کتاب الوصایا فصل فی شرائط رکن الوصیۃ جلد 7 ص 337)

    ثانیا اگر وصیت مان بھی لی جائے تو اسکے لئے دیگر تمام ورثاء (بیوی اوربیٹیوں ) کی اجازت ضروری ہےبغیر انکی اجازت کے ہرگز نافذ نہ ہوگی۔

    تنویر الابصار میں ہے :(وَتَجُوزُ بِالثُّلُثِ لِلْأَجْنَبِيِّ وَإِنْ لَمْ يُجِزْ الْوَارِثُ ذَلِكَ لَا الزِّيَادَةَ عَلَيْهِإلَّا أَنْ تُجِيزَ وَرَثَتُهُ بَعْدَ مَوْتِهِ)ترجمہ:اور ایک تہائی مال میں اجنبی شخص(جو وارث نہ بن رہا ہو)کے لئے وصیت جائز ہے، اگر چہ ورثاء اسکی اجازت نہ دیں ، اور ایک تہائی سے زائد کی جائز نہیں ہے مگر یہ کہ موصی(وصیت کرنے والے )کی موت کے بعد دیگر ورثاء جائز قرار دیں تو اب ثلث سے زائد میں بھی جائز ہوجائے گی۔(تنویر الابصار مع الدرالمختار کتاب الوصایا جلد 6ص165)

    عالمگیری میں ہے :وَلَا تَجُوزُ الْوَصِيَّةُ لِلْوَارِثِ عِنْدَنَا إلَّا أَنْ يُجِيزَهَا الْوَرَثَةُ۔ترجمہ:اور ہمارے نزدیک وارث کے لیے وصیت کرنا جائز نہیں ہے مگر یہ کہ اس وصیت کو دیگر ورثاء جائز قرار دیں تو اب وارث کے لیے بھی وصیت جائز ہے۔ (فتاویٰ عالمگیری کتاب الوصایا باب فی بیان تفسیرہ جلد 6ص90)

    4: نام کردینا شرع میں ھبہ کا حکم رکھتا ہے، جس کے لئے قبضہ ضروری ولازم ہے ،اگر صرف فائل ٹرانفسر کی حقیقی قبضہ نہیں دیا جیساکہ ظاہر ہےتو یہ قبضہ، قبضۂِ شرعی نہیں ہے، تو ھبہ تام نہ ہوا،لہذا وہ آفس اصل مالک یعنی باپ کی ملک میں ہی باقی ہے ، اب یہ آفس اوپر ذکر کردہ طریقہ کے مطابق تقسیم ہوگا۔

    واللہ تعالٰی اعلم بالصواب

    کتبـــــــــــــــــــــــــــہ:محمد زوہیب رضا قادری

    الجواب الصحیح:ابوالحسنین مفتی وسیم اختر المدنی

    تاریخ اجراء:27 صفر المظفر 1445ھ/ 14 ستمبر 2023 ء