سوال
میں نے اپنی بیوی کو کہا میں تمہارے ساتھ نہیں رہنا چاہتا اور تمہیں طلاق دے رہا ہوں ، طلاق طلاق طلاق،یہ طلاق لو، تین بار ایسا کہا۔ کیا اس سے طلاق ہوگئی یا نہیں؟
سائل: دانش بن نذیر بیگم
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ
اگر واقعی ایسا ہے جیسا کہ سوال میں مذکور ہے تو آپکی بیوی پر تین طلاقیں واقع ہوچکی ہیں ،اور وہ آپ کے لیے حرمت مغلظہ کے ساتھ حرام ہوچکی ہے۔کیوں کہ آپ نے طلاق کی نسبت بیوی کی طرف کردی جس کی وجہ سے انہیں طلاق واقع ہوچکی ہے ۔ کیونکہ طلاق دینے میں ایقاع یعنی طلاق کا واقع کرنا ضروری ہے اور ایقاع بغیر وقوع کے ممکن نہیں اور وقوع طلاق کے لیے طلاق کی نسبت لفظوں میں یا نیت میں عورت کی طرف ہونا ضروری و لازم ہے ، جوکہ یہاں موجود ہے۔سیدی اعلیٰ حضرت نے اس باب کی مکمل تفصیل اپنے فتاویٰ و جد الممتار میں شرح و بسط سے ذکر فرمائی ہے چناچہ آپ رقمطراز ہیں :
وذٰلک لان الطلاق لاوقوع لہ الابالا یقاع ولا ایقاع الاباحداث تعلق الطلاق بالمرأۃ ولایتاتی ذلک الابالاضافۃ ولو فی النیۃ،ترجمہ: کیونکہ طلاق کا وقوع بغیر واقع کرنے(ایقاع) کے نہیں ہوتا اور ایقاع اس وقت تک نہیں ہوسکتا جب تک طلاق کا تعلق بیوی سے نہ کیاجائے اور یہ اضافت کے بغیر ممکن نہیں اس لئے اضافت ضروری ہے خواہ نیت میں ہو(یا لفظوں میں)(فتاویٰ رضویہ جلد 12 ص 338)
فتاوی عالمگیری میں ہے :''اذا قال لامراتہ : انت طالق و طالق وطالق ولم یعلقہ بالشرط ان کانت مدخولۃ طلقت ثلاثا ''ترجمہ: جب مرد نے اپنی بیوی کو کہا تجھے طلاق ہے اور طلاق ہے اور طلاق ہے،اور طلاق کو کسی شرط کے ساتھ معلق نہیں کیا ،اگر بیوی مدخولہ ہے تو اس پر تین طلاق واقع ہوگئیں۔( فتاوی عالمگیری ج1ص390)
اب وہ عدت گزارنا شروع کردیں اور طلاق یافتہ کی عدت تین حیض ،اگر حیض نہیں آتے تو تین مہینےعدت ہے اور اگر عورت حاملہ ہوتو مذکورہ تمام صورتوں میں عدت وضع حمل ہوگی۔
ارشاد باری تعالیٰ ہے: وَالْمُطَلَّقٰتُ یَتَرَبَّصْنَ بِاَنْفُسِہِنَّ ثَلٰثَۃَ قُرُوْء : ترجمہ:طلاق والیاں اپنے کو تین حیض تک روکے رہیں۔ (البقرہ 288)
والائی یَئِسْنَ مِنَ الْمَحِیْضِ مِنْ نِّسَآئِکُمْ اِنِ ارْتَبْتُمْ فَعِدَّتُہُنَّ ثَلٰثَۃُ اَشْہُرٍوالائی لم یَحِضْنَ وَ اُولَاتُ الْاَحْمَالِ اَجَلُہُنَّ اَنْ یَّضَعْنَ حَمْلَہُنَّ : ترجمہ:اور تمھاری عورتوں میں جوحیض سے نا امید ہوگئیں اگر تم کو کچھ شک ہو تو اُن کی عدت تین مہینے ہے اور اُن کی بھی جنھیں ابھی حیض نہیں آیا ہے اور حمل والیوں کی عدت یہ ہے کہ اپنا حمل جن لیں۔(الطلاق: 04)
ا ب اگر اپنے پہلے شوہر کے ساتھ دوبارہ ایک ساتھ رہنا چاہیں تو اس کے لئے اللہ تعالی کے حکم حلالہ شرعی پر عمل کرنا ہوگا ،ارشاد باری تعالی ہے:
فَإِنْ طَلَّقَہَا فَلَا تَحِلُّ لَہُ مِنْ بَعْدُ حَتَّی تَنْکِحَ زَوْجًا غَیْرَہُ فَإِنْ طَلَّقَہَا فَلَا جُنَاحَ عَلَیْہِمَا أَنْ یَتَرَاجَعَا إِنْ ظَنَّا أَنْ یُقِیمَا حُدُودَ اللَّہِ وَتِلْکَ حُدُودُ اللَّہِ یُبَیِّنُہَا لِقَوْمٍ یَعْلَمُونَ: ترجمہ کنز الایمان:پھر اگر تیسری طلاق دے دی تو وہ عورت اس کے لئے حلال نہ ہوگی جب تک دوسرے خاوند کے پاس نہ رہے ،پھر وہ دوسرا اسے طلاق دے دے تو ان دونوں پر گناہ نہیں کہ آپس میں مل جائیں ،اگر سمجھتے ہوں کہ اللہ کی حدیں نبھائیں گے اور اللہ یہ حدیث ہیں جنہیں بیان کرتا ہے دانش مندوں کےلئے ''،( البقرہ 230)
امام اہل سنت الشاہ امام احمد رضا خان رحمہ اللہ تعالیٰ حلالہ کی وضاحت میں فرماتے ہیں :
'' حلالہ کے یہ معنیٰ ہیں کہ اس طلاق کے بعد عورت حیض والی ہے تو اسے تین حیض ختم ہوجائیں اور اگر حیض والی نہیں مثلا نو برس سے کم عمر لڑکی ہے یا پچپن برس سے زائد عمر کی عورت ہے اور اسکی طلاق کے بعد تین مہینے کامل گزر جائیں یا اگر حاملہ ہے تو بچہ پیدا ہولے ،اس وقت اس طلاق کی عدت سے نکلے گی اسکے بعد دوسرے شخص سے نکاح بر وجہ صحیح کرے۔۔۔۔۔۔وہ اس سے ہم بستری بھی کرے اور اس کے بعدطلاق دے اور اس طلاق کی عدت گزر لے کہ تین حیض ہوں اور حیض نہ آتا ہو تو تین مہینے اور حمل رہ جائے تو بچہ پیدا ہونے کے بعد پہلا شوہر اس سے نکاح کر سکتا ہے''۔ ( فتاوی رضویہ کتاب الطلاق جلد 12ص 84)
خلاصہ یہ ہے کہآپ کی بیوی کو تین طلاقیں واقع ہوچکی ہیں ،دوبارہ نکاح بغیر حلالہ شرعی کے نہ ہوگا اگر کسی اور سے نکاح کرچاہیں تو عدت گزارنے کے بعد جس سے چاہیں نکاح کرسکتی ہیں ۔
واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب
کتبـــــــــــــــــــــــــــہ:محمد زوہیب رضا قادری
الجواب الصحیح:ابوالحسنین مفتی وسیم اختر المدنی
تاریخ اجراء: 30 شعبان المعظم1440 ھ/06 مئی 2019 ء