نکاح کے استخارہ اور گھر والوں کو راضی کرنے کے لیے شرعی رہنمائی

    nikah ke istikhara aur ghar walon ko razi karne ke liye sharai rehnumai

    تاریخ: 25 ستمبر، 2026
    مشاہدات: 19
    حوالہ: 1798

    سوال

    میں اور جس شخص سے میرا رشتہ ہے، ہم دونوں ایک دوسرے سے نکاح کرنا چاہتے ہیں۔ ہماری نیت نکاح کی ہے اور ہم اپنے گھر والوں کی رضامندی بھی چاہتے ہیں۔ براہِ کرم بتائیں کہ اس سچویشن میں استخارہ اور نکاح کے حوالے سے ہمیں کیا کرنا چاہیے؟

    سائل: پوچھا گیا از Jannat | تاریخ 19/8/2026


    بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

    اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ

    پہلے مسنون طریقے سے استخارہ (دو رکعت نفل کے بعد مسنون دعا) اور بااعتماد یا تجربہ کار افراد سے مشورہ کریں، اور ساتھ ہی والدین کی رضامندی حاصل کرنے کے لیے حکمت، نرمی اور خاندان کے بااثر بزرگوں کا سہارا لیں کیونکہ اولیاء کو اعتماد میں رکھنا اور کفو (یعنی نسب یا پیشے یا چال چلن یاکسی بات میں مرد ایسا کم نہ ہو کہ اس سے نکاح ہونا عورت کے اولیاء یعنی باپ داداوغیرہ کے لئے شرمندگی و بدنامی کا عرفا سبب ہو) کا لحاظ رکھنا ضروری ہے۔ مزید برآں، جب تک باقاعدہ نکاح نہ ہو جائے شرعی حدود کا سخت لحاظ رکھیں، تنہائی اور گفتگو سے پرہیز کریں، پھر جیسے ہی گھر والے رضامند ہو جائیں تو کم از کم دو مسلمان مرد گواہوں (یا ایک مرد و دو عورتوں) کی موجودگی میں ایجاب و قبول کے ذریعے مسنون طریقے سے عقدِ نکاح انجام دیں ۔

    واللہ تعالی اعلم بالصواب

    کتبـــــــــــــــــــــــــــہ:ابو امیر خسرو سید باسق رضا

    الجـــــواب صحــــیـح:ابو الحسنین مفتی وسیم اختر المدنی

    تاریخ اجراء:2 ربیع الثانی 1448ھ/15 ستمبر 2026ء