سوال
میرے شوہر آرمی میں ہیں چند سال پہلے جب سوات آپریشن چل رہا تھا تو انکی وہاں ڈیوٹی لگی اس وقت میں نے سات بکروں کی منت مانی پھر کچھ عرصہ بعد واپس آئے ،تو اس وقت میں نے ایک بکرا صدقہ کیا اور اسکا گوشت ہم نے بھی کھایا ،جسکے بعد پریشانیاں بہت آئیں ؟ اب سوال یہ ہے کہ یہ گوشت کھانا جائز تھا یا نہیں؟ اگر نہیں تو اب اسکا کیا حل ہے؟
سائل: محمد سلطان :تلہ گنگ
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ
نذر اور منت کے جانور کا گوشت کھانا ،نذر ماننے والے کے لیے جائز نہیں ہے بلکہ سارا کا سارا گوشت صدقہ کرنا واجب ہے،اگر کھایا تو گنہ گار ہوگا اور جتنا گوشت استعمال کیا اسکی قیمت فقراء پر صدقہ کرنا واجب ہے۔
بدائع الصنائع میں ہے: ولا يجوز له أن يأكل من دم النذر شيئا.وجملة الكلام فيه أن الدماء نوعان نوع يجوز لصاحب الدم أن يأكل منه وهو دم المتعة والقران والأضحية، وهدي التطوع إذا بلغ محله.ونوع لا يجوز له أن يأكل منه وهو دم النذر والكفارات وكل ما لا يجوز له أن يأكل منه يجب عليه التصدق به بعد الذبح.(ملخصا)ترجمہ:نذر کے جانور میں سے کچھ کھانا جائز نہیں ہے، اور اس بارے میں حاصل کلام یہ ہے کہ جانور دو طرح کے ہیں ، پہلی قسم یہ کہ جس جانور کا گوشت بندے کو کھانا جائز ہے ، اور وہ متعہ،قران، قربانی کے جانور گوشت اور نفلی صدقہ کے جانور کا گوشت جبکہ اپنے محل پر پہنچ جائے۔
اور دوسری قسم یہ ہے کہ جس جانور کا کھانا مرد کے لیے جائز نہیں ہے اور نذر ،کفارہ کے جانور کاگوشت۔ اور ہر وہ جانور کہ جس کا گوشت کھانا جائز نہ ہوذبح کرنے کے بعد اسکے سارےگوشت کو صدقہ کرنا واجب ہے ۔(بدائع الصنائع، کتاب الحج،فصل سبب وجوب الحج ،جلد 2 ص 225)اسی میں ہے: إلا أن فيما لا يجوز له أكله ويجب عليه التصدق به، يتصدق بثمنه؛ لأن ثمنه مبيع واجب التصدق به، لتعلق حق الفقراء به،ترجمہ:مگر یہ کہ نذر ماننے والے کو گوشت کھانا جائز نہیں تھا، اس جانور کو صدقہ کرنا واجب تھا (اور اس نے بیچ دیا) تو اسکی قیمت صدقہ کرے گا کیونکہ اسکا ثمن در اصل وہ مبیع ہے جس میں فقراء کا حق متعلق ہوچکا ہے۔(المرجع السابق)
واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
کتبـــــــــــــــــــــــــــہ:محمد زوہیب رضا قادری
الجواب الصحیح:ابوالحسنین مفتی وسیم اختر المدنی
تاریخ اجراء:08 شوال المکرم 1440 ھ/12 جون 2019 ء