Naqd o Udhaar Ki Qeemat Mein Farq Ka Hukm
سوال
میں ایک جائیدادخریدنا چاہ رہا ہوں جو کہ نقد کی صورت میں 50 لاکھ میں، اورچھ مہینے کےادھار کی صورت میں 60 لاکھ میں مل رہی ہے،کیا شرعا ایسا جائز ہے یا نہیں؟ شرعی رہنمائی فرمائیں۔
سائل:فیصل:کراچی
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ
ادھار اور نقد کی صورت میں قیمت میں تفاوت شرعا ممنوع نہیں ہے، لہذا یہ جائز ہے کہ کسی چیز کی نقد میں قیمت کم ہو اور ادھار میں زائد ہو۔ لیکن اس میں شرط یہ ہے کہ 1:ادھار کی رقم اور مدت متعین ہو ۔2:رقم کی ادائیگی میں تاخیر کی صورت میں کسی طرح کا کوئی جرمانہ یا متعین کردہ قیمت سے اضافی رقم دینے کی شرط نہ ہو۔
نقد و ادھار ہر صورت میں بیع جائز ہے۔
تنویرالابصار مع الدرالمختار میں ہے:وصح بثمن حال ومؤجل الی معلوم۔ترجمہ:نقد اور ادھار میں بیع مقرر مدت ہو تو جائز ہے۔(تنویر الابصار مع الدرالمختار جلد 4 ص 531)
نقد کی صورت میں کم اور ادھار کی صورت میں نقد سے زائد قیمت لینا سود نہیں ہے جیساکہ فتح القدیر میں ہے: تح القدیر میں ہے: ان كون الثمن على تقدير النقد ألفا وعلى تقدير النسيئة ألفين ليس في معنى الربا۔ ترجمہ:کسی چیز کی قیمت نقد کی صورت میں ایک ہزار اور ادھار کی صورت میں دو ہزار ہو ، تو یہ سود کی صورت نہیں ہے ۔( فتح القدیر ، کتاب البیوع ، باب البیع الفاسد ، جلد 6 ، صفحہ 410 ، مطبوعہ کوئٹہ )
بدائع الصنائع میں ہے: لواشتری شيئا نسيئة لم يبعه مرابحة حتی يبيّن لان للاجل شبهة المبيع وإن لم يکن مبيعا حقيقة لانه مرغوب فيه الاتری ان الثمن قد يزاد لمکان الاجل ترجمہ:اگر ایک چیز قرض پر خریدی، اسے فائدہ لے کر، اس وقت تک آگے نہ بیچے جب تک اس کی وضاحت نہ کر دے کیونکہ مدت، مبیع (بکاؤ مال)کے مشابہ ہے، گو حقیقت میں مبیع نہیں، کیونکہ مدت کی رعایت بھی رغبت کا باعث ہوتی ہے، دیکھتے نہیں کہ مدت مقررہ کی وجہ سے کبھی قیمت بڑھ جاتی ہے۔( بدائع الصنائع ،فصل فی بیان ما یجب بیانہ فی المرابحۃ ج5 ص 224)
سیدی اعلٰی حضرت سے سوال ہوا غلہ تجارتی کو ادھار میں موجودہ نرخ سے زیادہ قیمت پر بیع کرنا درست ہے کہ نہیں ؟تو آپ جواب دیتے ہوئے ارشاد فرماتے ہیں: درست ہے ۔( فتاویٰ رضویہ ، جلد 17 ، صفحہ 275 ، رضا فاؤنڈیشن ، لاھور )
مفتی اعظم پاکستان مفتی منیب الرحمان صاحب تفہیم المسائل جلد2 ص328 میں لکھتے ہیں: '' مختلف افراد،کمپنیاں اور ادارے نئی الیکٹرانک اشیاء کی اقساط پر خرید وفروخت کا کاروبار کرتے ہیں ، فریقین میں قیمت جو ظاہر ہے رائج الوقت مارکیٹ ویلیو سے زیادہ ہوتی ہے ،طے ہوجاتی ہے اور یہ بھی طے ہوجاتا ہے کہ ماہانہ اقساط اور ادائیگی کتنی مدت میں ہوگی اور مسلم فیہ یا مبیع خریدار کے حوالے کرکے اس کی ملک میں دے دیا جاتا ہے تو یہ عقد شرعا صحیح ہے ، بشرطیکہ اس میں یہ شرط شامل نہ ہو کہ اگر خدا نخواستہ مقررہ مدت میں اقساط کی ادائیگی میں تاخیر ہوگئی اور ادائیگی کی اضافی مدت کے عوض قیمت میں کسی خاص شرح سے کوئی اضافہ ہوگا ۔ اور اگر تاخیر مدت کی عوض قیمت میں اضا فہ کردیا تو یہ سود ہے اور حرام ہے ۔ فی نفسہ حدود شرع کے اندر اقساط کی بیع جائز ہے۔
واللہ اعلم بالصواب
کتبـــــــــــــــــــــــــــہ:محمد زوہیب رضا قادری
الجواب الصحیح:ابو الحسنین مفتی وسیم اختر المدنی
تاریخ اجراء:21ربیع الثانی 1442 ھ/07 دسمبر 2020 ء