namahram aurat ka peer se bilapardah mail jol
سوال
میری شادی 2019 میں ہوئی شادی کی پہلی رات ہی بیوی نے اپنے پیر صاحب کا تذکرہ کیا اور پھر ہر ماہ میں ایک دو بار پیر صاحب کے حوالےسے مجھ سے جھگڑتی تھی بعد ازاں 5 ماہ بعد مجھ سے جھوٹ بول کر اپنے گھر والوں کے ساتھ میری اجازت کے بغیر پیر صاحب سے ملنے چکوال پنجاب چلی گئی، پھر مزید پانچ ماہ بعد انکے پیر صاحب کراچی آئے تو اسکے والدین میری بیوی کو لینے آئے لیکن میں نے منع کردیا انہوں نے میرے گھر میں مجھے گالیاں دیں۔
مذکورہ صورت حال میں میرا سوال یہ ہے :
میری بیوی کا پیر کی بیعت کرنا اور اپنے پیر سے اس طرح ملنا کیسا اور میری اجازت کے بغیر جانے کا کیا حکم ہے؟
سائل: عبدالقدوس: کراچی
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ
اگر معاملہ ایسا ہی ہے تو حکم شرع یہ ہے کہ پیر بمعنٰی شیخ اتصال جس کے ہاتھ پر بیعت کرنے سے انسان کا سلسلہ حضور پر نور سید المرسلین ﷺتک متصل ہو جائے ،کی چار شرائط ہیں :
شرط اول:شیخ کاسلسلہ باتصال صحیح حضور اقدس ﷺتک پہنچتا ہو بیچ میں منقطع نہ ہو کہ اس کی وجہ سے اتصال ناممکن ہے ،بعض لوگ بلا بیعت محض بزعم ِوراثت اپنے باپ داد کے سجادے پر بیٹھ جاتے ہیں یا بیعت تو کی تھی مگر خلافت نہ ملی تھی بلا اذن مرید کرنا شروع کر دیتے ہیں ،یا سلسلہ ہی وہ ہو کہ قطع کردیا گیا ،اس میں فیض نہ رکھا گیا ،لوگ برائےہوس اس میں اذن وخلافت دیتے چلے آتے ہیں یا سلسلہ فی نفسہ صحیح تھا مگر بیچ میں کوئی شخص واقع ہوا جس میں بیعت کے بعض شرائط نہ تھے تو اس سے جو شاخ چلی وہ بیچ سے منقطع ہے ،تو ان صورتوں میں اس بیعت سے ہر گز اتصال نہ ہوگا،اور یہ بیل سے دودھ اور بانجھ سے بچہ مانگنے کے مترادف ہے ۔
شرط دوم :شیخ سنی صحیح العقیدہ ہو بد مذہب گمراہ کا سلسلہ شیطان تک پہنچے گا نہ کہ رسول اللہ ﷺ تک ،آج بہت سارے بد دین بلکہ بے دین اور بد عقیدہ لوگ جو منکر و دشمن اولیاءہیں اور مکاری کے لیئے پیری مریدی کا جال پھیلا رکھا ہے ۔
شرط سوم :عالم ہو ،یعنی علم فقہ اس کی اپنی ضرورت کے مطابق کافی اور لازم ہےکہ عقائد اہل سنت سے پورا واقف ہو ،کفر واسلام اورضلالت و ہدایت کے فرق کا خوب عارف ہو ،ورنہ آج بد مذہب نہیں تو کل ہو جائے گا ،صد ہا کلمات و حرکات ہیں جن سے کفر لازم آتا ہے اور جاہل جہالت کی وجہ سے ان میں پڑ جاتے ہیں ،پہلے تو ان کو خبر ہی نہیں ہوتی کہ ان سے قول ویا فعل ِ کفر صادر ہوتا ہے اور جب خبر ہی نہ ہو تو توبہ ناممکن ہے لہذا اسی میں مبتلا رہتے ہیں ،اور اگر کوئی خبر دے تو ایک سلیم الطبع جاہل تو ڈر جائے لیکن جو سجادہ نشین ہو اور ہادی و مرشد بن بیٹھا ہو ،اس کے دل میں جو اپنے لیئے عظمت ہوتو وہ کہاں اس کو توبہ قبول کرنے دیگا ،اوراگر کوئی توبہ بھی کرلے لیکن ان کفریات کی وجہ سے بیعت جو فسخ ہوئی ہے تو کسی کے ہاتھ پر بیعت کریگا ؟اور شجرہ اس جدید شیخ کے نام سے دیگا ؟اگر چہ شیخ اول ہی کا خلیفہ ہو ،اس کا نفس ایسا کہاں کر نے دیگا کہ وہ سلسلہ بند کرے اور مرید کرنا چھوڑ دے کیونکہ سلسلہ ٹوٹ چکا ہے ۔
شرط چہارم :فاسق معلن نہ ہو ،اس شرط پر حصول اتصال کا توقف نہیں مگر پیر کی تعظیم لازم ہے اور فاسق کی توہین واجب ہے تو دونوں کا اجتماع لازم آجائے گا جو کہ باطل ہے ۔
اگر پیر اوپر بیان کردہ شرائط کا حامل ہو تو عورایسے پیر سے عورت بیعت ہوسکتی ہے ، مگر خاص عورت کے حق میں چند شرائط اور ہیں:
1:پردہ کا مکمل خیال رکھا جائے گا ،کسی بھی صورت غیر پردگی نہ ہو خصوصاًنو جوان عورتوں کے لیے ۔
2: بیعت کے لیئے ہاتھ میں ہاتھ ہر گز نہیں دیا جا ئے گا ،بلکہ صرف زبانی بیعت لی جائے گی ۔
3: پیر کا کسی ایک عورت کے ساتھ خلوت ہر گز نہ ہو ،کہ حرام ہے ۔
4:عورت پیر کی کسی بھی قسم کی جسمانی خدمت ہر گز نہ کرے،کہ شرعا حرام ہے ۔
5: بیعت صرف طاعات ونیکی پر ہو ،دنیوی مقاصد کا اس میں ہر گز دخل نہ ہو۔
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنھا صحابیات سے رسول اللہ ﷺ کے بیعت لینے کی کیفیت کے بارے فرماتی ہیں :إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَمْتَحِنُهُنَّ بِهَذِهِ الْآيَة: (يَا أيُّها النبيُّ صلى الله عَلَيْهِ وَسلم إِذا جاءكَ المؤمناتُ يبايِعنَكَ)فَمَنْ أَقَرَّتْ بِهَذَا الشَّرْطِ مِنْهُنَّ قَالَ لَهَا: «قَدْ بَايَعْتُكِ» كَلَامًا يُكَلِّمُهَا بِهِ وَاللَّهِ مَا مَسَّتْ يَدُهُ يَدَ امْرَأَةٍ قَطُّ فِي الْمُبَايَعَةِ۔ترجمہ:رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم ان عورتوں کو (جو مکہ سے آتیں اور قبولیت اسلام کا اظہار کرتیں )اس آیت کریمہ کی روشنی میں پرکھتے تھے الایۃ:‘‘اے نبی !جب مؤمن عورتیں آپ ﷺ کے پاس بیعت کے لئےحاضر ہوں الخ’’چنانچہ ان میں سے جو عورت اس آیت میں مذکورہ شرائط کو ماننے کا اقرار کرتی آپ اس سے فرماتے کہ " میں نے تم کو بیعت کیا۔ " اور جو آپ گفتگو فرمانی ہوتی فرماتے۔ مگر اللہ کی قسم !کبھی ایسا نہیں ہوا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی عورت کو بیعت کیا ہو اور اس کے ہاتھ کوآپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ نے چھوا ہو۔(مشکاۃ المصابیح ،کتاب الجہاد،باب الصلح،الفصل الاول،رقم الحدیث:4045)
سیدی اعلٰی حضرت امام اہل سنت امام احمد رضاخان سے عورت کا پیر سے پردہ کے متعلق پوچھا گیا ۔سوال مع الجواب مذکورہ ہے:
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ اگر کوئی عورت جوان یا بڑھیا کسی عالم شریعت ، واقف طریقت جامع شرائط سے بیعت کرے اور اپنے پیر سے فیض لے حجاب شرعی تو ہو یعنی کل بدن چھپا ہوا بلا چہرے کے مگر حجاب عرفی نہ ہو تو یہ بیعت کرنے اور اس طریق سے فیض لینا جائز ہے یانہیں؟ بینوا توجروا۔
الجواب: پردہ کے باب میں پیرو غیر پیر ہر اجنبی کا حکم یکساں ہے جوا ن عورت کو چہرہ کھول کر بھی سامنے آنا منع ہے۔درمختار میں ہے کہ‘‘ تمنع المرأۃ الشابۃ من کشف الوجہ بین رجال لخوف الفتنۃ’’۔ترجمہ:جوان عورت کو اندیشہ فتنہ کی وجہ سے مردوں کے سامنے چہرہ کشائی سے روکا جائے۔
اور بڑھیا کے لئے جس سے احتمال فتنہ نہ ہو مضائقہ نہیں۔ ‘‘فیہ ایضااما العجوز التی لاتشتھی فلا بأس بمصافحتہا ومس یدھا ان امن’’ترجمہ:اسی کتاب میں یہ بھی مذکور ہے کہ ایسی بوڑھی عورت جو نفسانی یعنی جنسی خواہش نہ رکھتی ہو اس سے مصافحہ کرنے اور اس کے ہاتھ کو مس کرنے میں کوئی حرج نہیں بشرطیکہ اطمینان خاطر حاصل ہو۔
مگر ایسے خاندان کی نہ ہو جس کا یوں بھی سامنے آنا اس کے اولیاء (خاندان )کے لئے باعث ننگ وعار یا خود اس کے واسطے وجہِ انگشت نمائی ہو۔فانا قدامرنا ان ننزل الناس منازلھم کما فی حدیث ام المومنین الصدیقہ رضی اﷲ تعالٰی عنہا، وفی حدیث مرفوع‘‘ ایاک وما یسوء الاذن’’ترجمہ:اس لئے کہ ہمیں یہ حکم دیا گیا کہ ہم لوگوں سے ان کے مراتب کے مطابق سلوک کریں جیسا کہ ام المومنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالٰی عنہا کی حدیث میں آیا ہے اور ایک مرفوع حدیث میں ہے کہ اپنے آپ کو ان باتوں سے بچاؤ جو کانوں کو بری لگیں۔
پھر بغیر اجازتِ شوہر بیوی کا اس طرح دور دراز علاقے میں اپنے پیر سے ملنے جانا باعثِ گناہ و لائقِ عذابِ نار ہے، اور اگر اس معاملہ میں عورت کے والدین شریک ہیں تو وہ بھی گنہ گار ہیں،کہ یہ شوہر کی نافرمانی ہے اورشوہر کی نافرمانی گناہ کبیرہ اور جہنم میں لے جانے والا کام ہے ،خلاق عالم نے بیوی کو اس بات کا پابند کیا کہ وہ شوہر کی ہر صورت میں تابعدار اور فرمان بردار رہے جب تک کہ شوہر کسی خلاف شرع کام کا حکم نہ کرے ، قرآن مجید میں اللہ کریم نے شوہر کو بیوی کے لیے حاکم یعنی حکمران کہا ہے،رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں کہ اگر میں کسی کو حکم دیتا کہ کسی کو سجدہ کرے توبیوی کو حکم دیتا کہ شوہر کو سجدہ کرے۔
شاہ ولی اللہ محدث دہلی علیہ الرحمہ نے میں لکھتے ہیں :ان البیعۃ المتوارثۃ بین الصوفیۃ علی وجوہ ،احدہا ،بیعۃ التوبۃ ،من المعاصی، والثانی بیعۃ التبرک،فالوفاءبالبیعۃ فیھما ترک الکبائر ، وعدم الاصرار علی الصغائر ،والتمسک بالطاعات المذکورۃ من الواجبات ، والسنن الرواتب ۔ترجمہ:بیشک بیعت جو صوفیاءکے درمیان رائج ہے ،اس کی چند اقسام ہے ،ان میں سے ایک بیعت توبہ ہے گناہوں سے ،اور دوسری بیعت تبرک ہے اور ان دونوں پر پورا اترنا اس طرح ہو گا کہ کبائر سے بچا جائے اور صغائر پر اصرار نہ کیا جائے ،اورطاعات یعنی واجبات و سنن مؤکدہ کی پابندی کی جائے ۔(شفاء العلیل مع القول الجمیل فی بیان سواء السبیل،ص:28،طبع:ایچ ایم سعید کمپنی)۔
واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
کتبـــــــــــــــــــــــــــہ:محمد زوہیب رضا قادری
الجواب الصحیح:ابو الحسنین مفتی وسیم اختر المدنی
تاریخ اجراء: 04 جمادی الاولٰی 1443 ھ/09 دسمبر2021 ء