نا محرم کواپنا منہ بولا بھائی بنانا
    تاریخ: 21 فروری، 2026
    مشاہدات: 2
    حوالہ: 828

    سوال

    کسی عورت کا نامحرم کو اپنا منہ بولا بھائی بنانا کیسا؟ اگر شرعی طور پر جائز نہیں تو ایسی عورت کا کیا حکم ہے جس نے کسی نا محرم کو منہ بولا بھائی بنا رکھا ہو، اس عورت کے بچے اسکو منع کرتے ہیں اسکے باوجود بھی عورت باز نہیں آتی اس صورت میں یہ بچے گنہ گار ہونگے یا نہیں ؟ نیز بچوں کا ایسی عورت سے میل جول رکھنا کیسا؟

    سائل:عبداللہ : کراچی۔


    بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

    اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ

    متبنٰی یعنی منہ بولا رشتہ کچھ اصل نہیں رکھتا یعنی منہ بولی اولاد یا بہن بھائی کا اسلام میں تصور یہ نہیں کہ انہیں حقیقی اولاد یا حقیقی بہن بھائی کی طرح سمجھا جائے ،اور نہ ہی ان پر حقیقی اولاد اور بہن بھائی والے احکام جاری ہونگے،بلکہ اگر ان منہ بولے افراد سے کوئی ایسا رشتہ نہ ہو جس کے سبب یہ محارم سے ہوجائیں مثلاً رضاعت یا کوئی اور سببِ حرمت تو اس صورت میں ان کے احکام اجنبی کی مثل ہیں یعنی جس طرح اجنبی سے پردہ لازم ہے یونہی ان سے بھی پردہ لازم ہوگاکہ منہ بولی بہن یا منہ بولا بھائی بنانے سے ایک احترام کا رشتہ تو قائم ہوسکتا ہے مگر دونوں ایک دوسرے کے لیے غیرمحرم ہی رہیں‌ گے اور باہمی طور پر ایک دوسرے سے غیر ضروری گفتگو کرنا بھی جائز نہیں ہے۔

    اگر مذکورہ عورت منہ بولے بھائی سے پردہ نہیں کرتی ، بچوں کو منع کرنے کے باوجود منع نہیں ہوتی تو ایسی عورت کے حق میں یہ جائز نہیں کہ اس شخص یا کسی اور کو منہ بولا بھائی بنائے کہ منہ بولی اولاد یا بھائی بنانا فقط جائز ہے جبکہ نامحرم سے پردہ کرنا واجب ہے تو کیسی حماقت ہے کہ ایک جائز کام کرکےواجب ترک کرکے گناہ کا وبال سر لیا جائے لہذا اس عورت پر لازم ہے کہ فوراً اس رشتہ کو ترک کرے اور اس شخص سے پردہ کرے بصورتِ دیگر سخت گنہ گار ہوگی ،البتہ بچوں پر کچھ گناہ نہیں۔ بچے اپنی ماں سے تعلقات قطع نہ کریں بلکہ گاہے بگاہے سمجھائیں تلقین کریں بالخصوص اس حکم شرع کی طرف توجہ دلوائیں۔

    سیدی اعلٰی حضرت فرماتے ہیں: شریعت میں متبنی کوئی چیز نہیں۔ قال اﷲ تعالٰی وما جعل ادعیائکم ابنائکم.اللہ تعالٰی نے فرمایا: تمھارے نرے دعووں نے ان کو تمھارے بیٹے نہ بنادیا۔ (فتاوٰی رضویہ ، جلد 19 ص 356)

    تفسیر مظہری میں ہے:فلا يثبت بالتبني شىء من احكام النبوة من الإرث وحرمة النكاح وغير ذلك ترجمہ:منہ بولا بنانے سے نسبی اولاد والے احکام ثابت نہیں ہونگے مثلا وراثت، حرمتِ نکاح وغیرہ کا حکم۔(تفسیر مظہری ، جلد 7 ص 234)واللہ تعالٰی اعلم بالصواب

    کتبـــــــــــــــــــــــــــــه:محمد احمد امين نوري قادرري

    الجـــــواب صحــــيـح:ابو الحسنينن مفتي وسيم اخترالمدني

    تاريخ اجراء: 27 جمادی الثانی 1445ھ/ 10 جنوری 2024 ء