سوال
کرایہ دار نے 26 سال پہلے مکان پر قبضہ کر لیا تھا۔ 26 سال سے کیس عدالت میں چل رہا ہے۔ہماری عدالتوں کا کیا حال ہے یہ سب کو معلوم ہے۔پراپرٹی تقریبا 70 لاکھ کی ہے 26 سال کا کرایہ تقریبا 40 لاکھ بنتا ہے۔جس نے قبضہ کیا ہے مکان کا قبضہ ختم کرنے کا 16 لاکھ 50 ہزار طلب کر رہا ہے جس میں پانی اور بجلی کا بل تقریبا 75 ہزار بھی ہم ادا کریں گے۔قبضہ کرنے والے مسلمان ہیں مگر دین اور اسلام سے دور ہیں حالانکہ تعلیم یافتہ ہے اسکول ٹیچر ہے۔شریعت اس ڈیل کے بارے میں کیا کہتی ہے کیا اس طرح کی ڈیل کی شریعت میں اجازت ہے؟
سائل: اشرف حسین،کراچی۔
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ
کرایہ دار کا ناجائز قبضہ مالِ غیرمیں ظلم ہےجس کی معافی نہ ہوئی تو کل بروز قیامت ایسے شخص کیلئے سخت عذاب کی وعید ہے۔پھر ظلم بالائے ظلم یہ کہ ناجائز قبضے کا عوض مانگا جائے، جو شرعاً رشوت اور ناجائز ہے۔البتہ مسئلہ کے حل کیلئے یہ رقم دینی پڑ جائے اور کوئی راستہ نہ ہو تو دینے والے پر گناہ نہیں لیکن لینے والا ضرور مالِ حرام کھائے گا۔نیز کرایہ دار پر لازم ہے کہ اللہ عزوجل اور اس مالک مکان سے معافی طلب کرنے کے ساتھ ساتھ مالک کو مکان لوٹائے ،گزشتہ سالوں کا کرایہ ،پانی بجلی کا بل بھی ادا کرے، کیونکہ آمدنی کےحصول کیلئے بنائی گئی شے کے منافع غاصب کیلئے حلال نہیں ہوتے بلکہ انہیں مالک کو لوٹانا لازم ہوتا ہے۔
کرایہ دار کو چاہئے اللہ عزوجل کی پکڑسے ڈرےاور سچے دل سے معافی مانگے،اس کام میں بالکل دیر نہ کرے،اللہ تائب کی توبہ قبول کرنے والا ہے البتہ اگر تائب نہ ہوا اور مالک سے اپنا معاملہ درست نہ کیا (یعنی مکان نہیں لوٹایا)تو اللہ بے نیاز ہے اگر بخشش نہ ہوئی تو کیا بنے گاالعیاذ باللہ۔
دلائل وجزئیات:
کامل مسلمان ہمیشہ دوسروں کے حقوق دبانے یا انہیں تلف کرنے سے بچتا ہے،نبی آخر الزماں ﷺکافرمان ہے:"كُلُّ الْمُسْلِمِ عَلَى الْمُسْلِمِ حَرَامٌ مَالُهُ، وَعِرْضُهُ، وَدَمُهُ حَسْبُ امْرِئٍ مِنَ الشَّرِّ أَنْ يَحْقِرَ أَخَاهُ الْمُسْلِمَ".ترجمہ:مسلمان کی سب چیزیں (دوسرے) مسلمان پرحرام ہیں، اس کا مال،اس کی آبرو اور اس کا خون۔(سنن ابی داؤد،کتاب الادب،باب فی الغیبۃ،4/270،رقم:4882، المكتبة العصريۃ)
صحیح بخاری کی روایت ہے:" مَنْ كَانَتْ لَهُ مَظْلَمَةٌ لِأَخِيهِ مِنْ عِرْضِهِ أَوْ شَيْءٍ، فَلْيَتَحَلَّلْهُ مِنْهُ اليَوْمَ، قَبْلَ أَنْ لاَ يَكُونَ دِينَارٌ وَلاَ دِرْهَمٌ، إِنْ كَانَ لَهُ عَمَلٌ صَالِحٌ أُخِذَ مِنْهُ بِقَدْرِ مَظْلَمَتِهِ، وَإِنْ لَمْ تَكُنْ لَهُ حَسَنَاتٌ أُخِذَ مِنْ سَيِّئَاتِ صَاحِبِهِ فَحُمِلَ عَلَيْهِ".ترجمہ:جس کے ذِمّے اپنے بھائی کی عزّت یا کسی اور شے کے معاملے میں ظُلم ہو،ا سے لازم ہے کہ( قیامت کا دن آنے سے پہلے) یہیں دنیا میں اس سے معافی مانگ لے،کیونکہ وہاں (یعنی روزِ محشر اس کے پاس ) نہ دینار ہوں گے اور نہ دِرْہَم، اگر اس کے پاس کچھ نیکیاں ہوں گی، تو بقَدَر اُس کے حق کے ،اِس سے لے کر اُسے دی جائیں گی، اگر اس کے پاس نیکیاں نہ ہوئیں تو اُس(مظلوم ) کے گناہ اِس (ظالم)پررکھے جائیں گے۔(صحیح البخاری،كتاب المظالم والغصب،باب من كانت له مظلمة عند الرجل،3/129،رقم:2449،دار طوق النجاۃ)
علامہ ابو الحسن علی بن سلطان نور الدین الملا ّعلی قاری (المتوفی:1014ھ) فرماتے ہیں:"وان کانت مما یتعلق بالعباد فان کانت من مظالم الاموال فتتوقف صحۃ التوبۃ منہا مع ماقدمناہ فی حقوق اﷲ تعالٰی علی الخروج عن عہدۃ الاموال وارجاء الخصم بان یتحلل عنہم ایردھا الیہم اوالی من یقوم مقامہم من وکیل او وارث".ترجمہ:اگر ضائع کردہ حقوق کا تعلق بندوں سے ہو تو صحت تو بہ اس پر موقوف ہے جس کو ہم نے پہلے حقوق اللہ کے ضمن میں بیان کردیا ہے کہ اس کی صورت میں اموال کی ذمہ داری سے سبکدوش ہونا اور مظلوم کو راضی کرنا ضروری ہے جن کا مال غصب کیا گیا، وہ انہیں واپس کیاجائے یا ان سے معاف کرایا جائے اور وہ متعلقہ افراد موجود اوربقید حیات نہ ہوں تو ان کے ورثاء متعلقین اور قائم مقام افراد و وکلاء کے ذریعے اموال کی واپسی او ر معافی عمل میں لائی جائے۔(منح الروض شرح فقہ الاکبر،التوبۃ والشرائطہا،ص:158،مصطفی البابی)
علامہ علی بن محمد الشريف الجرجانی (المتوفى: 816ھ) رشوت کی تعریف بیان کرتے ہیں:"الرشوة: ما يعطى؛ لإبطال حق، أو لإحقاق باطل".ترجمہ:وہ مال جو حق کو باطل یا باطل کو حق کرنے کے لیے دیا جائے رشوت ہے ۔(التعریفات،باب الراء،ص:111، دار الكتب العلمية بيروت)
قرآن مجید میں ارشادباری تعالی ہے: وَلَا تَأْكُلُوا أَمْوَالَكُمْ بَيْنَكُمْ بِالْبَاطِلِ وَتُدْلُوا بِهَا إِلَى الْحُكَّامِ لِتَأْكُلُوا فَرِيقًا مِنْ أَمْوَالِ النَّاسِ بِالْإِثْمِ وَأَنْتُمْ تَعْلَمُونَ. ترجمہ:اور آپس میں ایک دوسرے کا مال ناحق نہ کھاؤاور نہ حاکموں کے پاس ان کا مقدمہ اس لئے پہنچاؤ کہ لوگوں کا کچھ مال ناجائز طور پر کھالو جان بوجھ کر۔(البقرۃ:188)
صدرالافاضل سیدمحمدنعیم الدین مرادآبادی علیہ الرحمہ اس آیت کے تحت فرماتے ہیں:’’اس آیت میں باطل طور پر کسی کا مال کھانا حرام فرمایا گیا خواہ لوٹ کر یا چھین کر چوری سے یا جوئے سے یا حرام تماشوں یا حرام کاموں یا حرام چیزوں کے بدلے یا رشوت یا جھوٹی گواہی یا چغل خوری سے یہ سب ممنوع و حرام ہے‘‘۔(تفسیر خزائن العرفان تحت سورۃ البقرۃ:188)
علامہ علی بن سلطان ملا علی قاری (المتوفی:1014ھ) حدیث مبارکہ کے تحت فرماتے ہیں: "الرِّشْوَةُ مَا يُعْطَى لِإِبْطَالِ حَقٍّ، أَوْ لِإِحْقَاقِ بَاطِلٍ، أَمَّا إِذَا أَعْطَى لِيَتَوَصَّلَ بِهِ إِلَى حَقٍّ، أَوْ لِيدْفَعَ بِهِ عَنْ نَفْسِهِ ظُلْمًا فَلَا بَأْسَ بِهِ".ترجمہ:رشوت وہ ہے جوکسی کاحق باطل کرنے یا باطل کو حق دلانے کیلئے دی جائے، لیکن اگر اس لئے دی جائے کہ اسکے ذریعے حق وصول ہو یا اپنے سے ظلم کو روکنے کیلئے ہو تو کوئی حرج نہیں۔(مرقاۃ المفاتیح،6/2437،رقم الحدیث:3753،دار الفکر)
بحالت مجبوری رشوت دینے والے پر گناہ نہیں البتہ لینے والا حرام ہی کھاتا ہے،علامہ کمال الدین محمد بن عبد الواحد ابن ہمام (المتوفی:861ھ) فرماتے ہیں: "أَخَذَ الْمَالَ لِيُسَوِّيَ أَمْرَهُ عِنْدَ السُّلْطَانِ دَفْعًا لِلضَّرَرِ أَوْ جَلْبًا لِلنَّفْعِ وَهُوَ حَرَامٌ عَلَى الْآخَرِ لَا الدَّافِعِ".ترجمہ: ضرر دور کر نے یا نفع حاصل کرنے کیلئےکسی سے مال لے تا کہ حاکم کے یہاں اس رشوت دینے والے کا کام بنا دے اور رشوت کی یہ قسم لینے والے کیلئے حرام ہے ،دینے والے والے کیلئے نہیں۔(فتح القدیر،7/255،دار الفکر،رد المحتار،کتاب القضاء،مطلب فی الکلام علی الرشوۃ والہدیۃ،5/362،دار الفکر)
علامہ سید محمد بن عمر ابن عابدین الشامی (المتوفی: 1252ھ) فرماتے ہیں:"دَفْعُ الْمَالِ لِلسُّلْطَانِ الْجَائِرِ لِدَفْعِ الظُّلْمِ عَنْ نَفْسِهِ وَمَالِهِ وَلِاسْتِخْرَاجِ حَقٍّ لَهُ لَيْسَ بِرِشْوَةٍ يَعْنِي فِي حَقِّ الدَّافِعِ".ترجمہ:ظالم بادشاہ کو اس لئے مال دینا کہ اپنی جان و مال کو اِسکے ظلم سے بچائے اور اپنا حق حاصل کرسکے تو یہ مال رشوت نہیں یعنی دینے والے کیلئے یہ رشوت نہیں۔(رد المحتار،کتاب الحظر والاباحۃ،فصل فی البیع،6/423،424،دار الفکر)
علامہ علی بن سلطان ملا علی قاری (المتوفی:1014ھ) حدیث مبارکہ کے تحت فرماتے ہیں: "الرِّشْوَةُ مَا يُعْطَى لِإِبْطَالِ حَقٍّ، أَوْ لِإِحْقَاقِ بَاطِلٍ، أَمَّا إِذَا أَعْطَى لِيَتَوَصَّلَ بِهِ إِلَى حَقٍّ، أَوْ لِيدْفَعَ بِهِ عَنْ نَفْسِهِ ظُلْمًا فَلَا بَأْسَ بِهِ".ترجمہ:رشوت وہ ہے جوکسی کاحق باطل کرنے یا باطل کو حق دلانے کیلئے دی جائے، لیکن اگر اس لئے دی جائے کہ اسکے ذریعے حق وصول ہو یا اپنے سے ظلم کو روکنے کیلئے ہو تو کوئی حرج نہیں۔(مرقاۃ المفاتیح،6/2437،رقم الحدیث:3753،دار الفکر)
کرایہ کیلئے دی جانے والے مغصوبہ شے کا نفع غاصب کیلئے حلال نہیں اسے لوٹانا واجب ہے،الدر المختار میں ہے:" (وَ) بِخِلَافِ (مَنَافِعِ الْغَصْبِ اسْتَوْفَاهَا أَوْ عَطَّلَهَا) فَإِنَّهَا لَا تُضْمَنُ عِنْدَنَا (إلَّا) (أَنْ يَكُونَ) (وَقْفًا) (أَوْ مَالَ يَتِيمٍ) (أَوْ مُعَدًّا) (لِلِاسْتِغْلَالِ) بِأَنْ بَنَاهُ لِذَلِكَ أَوْ اشْتَرَاهُ لِذَلِكَ قِيلَ أَوْ آجَرَهُ ثَلَاثَ سِنِينَ عَلَى الْوَلَاءِ".ترجمہ:بر خلاف غصب کے منافع کے چاہے وہ وصول کرلئے ہوں یا انہیں معطل چھوڑ دیا ہوہمارے نذدیک ان منافع کا ضمان نہیں سوائے یہ کہ شے مغصوبہ وقف ہو یا مال یتیم ہو یا اسے کرایہ حاصل کرنے کیلئے بنایا ہو،یعنی شے مغصوبہ کو غلہ حاصل کرنے کیلئے ہی بنایا گیا ہو یا اسے اسی مقصد کیلئے خریدا گیا ہو،ایک قول کے مطابق اسے مسلسل تین سال کے کرایہ پر دیا ہو،ملخصاً۔(الدر المختار،کتاب الغصب، 6/205،دار الفکر بیروت)
رد المحتار میں قنیہ کی عبارت ہے:"عِبَارَتُهَا وَلَوْ غَصَبَ دَارًا مُعَدَّةً لِلِاسْتِغْلَالِ أَوْ مَوْقُوفَةً أَوْ لِيَتِيمٍ وَآجَرَهَا وَسَكَنَهَا الْمُسْتَأْجِرُ يَلْزَمُهُ الْمُسَمَّى لَا أَجْرُ الْمِثْلِ قِيلَ لَهُ وَهَلْ يَلْزَمُ الْغَاصِبَ الْأَجْرُ لِمَنْ لَهُ الدَّارُ؟ فَكَتَبَ لَا وَلَكِنْ يَرُدُّ مَا قَبَضَ عَلَى الْمَالِكِ وَهُوَ الْأَوْلَى. ثُمَّ سُئِلَ: يَلْزَمُ الْمُسَمَّى لِلْمَالِكِ أَمْ لِلْعَاقِدِ؟ فَقَالَ: لِلْعَاقِدِ، وَلَا يَطِيبُ لَهُ بَلْ يَرُدُّهُ عَلَى الْمَالِكِ وَعَنْ أَبِي يُوسُفَ يَتَصَدَّقُ بِهِ اهـ".ترجمہ:قنیہ کی عبارت ہے : اگر کسی نے ایسا گھر غصب کیا جو کرایہ حاصل کرنے کے لئے تیار کیا گیا تھا یا موقوف تھا یا یتیم کا تھا اس نے اسے اجرت پر دیا اور کرایہ دار اس میں رہا اس پر طے شدہ کرایہ لازم ہو گا اجرت مثل لازم نہیں ہو گی۔ سوال کیا گیا: کیا غاصب پر اس کے لئے کرایہ لازم ہو گاجس کا وہ گھر ہے؟ آپ نے لکھا: نہیں ۔ لیکن وہ مالک کو وہ چیز لوٹا دے گا جس پر اس نے قبضہ کیا تھا یہ زیادہ بہتر ہے۔ پھر سوال کیا گیا: کیا معین اجرت مالک کے لئے لازم ہوگی یا عاقد کے لئے لازم ہوگی ؟ فرمایا : عاقد کے لئے وہ حلال نہیں بلکہ اسے مالک پر لوٹا دے گا۔ امام ابو یوسف رحمہ اللہ سے مروی ہے : وہ اسے صدقہ کر دے گا۔(رد المحتار، کتاب الغصب، 6/209،دار الفکر بیروت)۔
واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
کتبـــــــــــــــــــــــــــہ:ابو امیر خسرو سید باسق رضا
الجـــــواب صحــــیـح:ابو الحسنین مفتی وسیم اختر المدنی
تاریخ اجراء:15 ذو الحجہ1445 ھ/22 جون 2024ء