سوال
میں کرائے کی دکان میں گھی ،آئل،چینی ،آٹا وغیرہ کا کاروبار کرتا تھا ،جس میں مجھے نقصان ہوا ،اور کاروبا رختم ہوگیا ،تو میں نے از سر نو کاروبار کرنے کیلئے کسی شخص سے 30000ہزار روپے لیئے اور اس کے پاس اپنے موٹر بائیک کے کاغذات رکھوائے ،اور طے یہ ہوا کہ میں اس تیس ہزار سے کاروبار کروں گا اور منافع میں سے روزانہ کی بنیاد پر 300سو روپے میں ان کو دیا کروں گا ۔اور تقریبا تین مہینے تک میں ان کو پیسے دیتا رہا اور اس کے بعد اپنی طرف سے بھی دیتا رہا ،لیکن اب سامان ختم ہوچکا ہے اور جو کچھ بچا کچاتھا وہ دکان کے کرائے اور دیگر قرضہ جات میں دے دیئے ہیں ۔اور روزانہ کی بنیاد پر 300روپے کے حساب سے مجھے 9000روپے دینے ہیں ۔اور ان کا مطالبہ ہے کہ میرے پیسے مجھے لوٹاؤ۔براہ کرم رہنمائی فرمائیں ۔
سائل:شاہد امیر:ملیر ،کراچی
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ
اگر دو آدمی کاروبار کرنا چاہیں اور ان میں سے ایک کا پیسہ ہو اور دوسرا اس پیسہ سے کاروبار کرے ،ایسا کاروبار شرعا "مضاربہ" کہلاتا ہے۔اور اس کے صحیح ہونے کے لیے چند شرائط ہیں جو کہ درج ذیل ہیں ۔
(1)راس المال(مضاربہ کے لئے دیا جانے والامال)ثمن (سونا ،چاندی یا کرنسی ) ہو ۔کوئی سامان نہ ہو جیسے گھر ،گاڑی وغیرہ۔
(2)راس المال(مضاربہ کے لئے دیا جانے والامال)نقد ہو ،قرضہ نہ ہو۔
(3)اس مال کو مضارب (اس مال سے کاروبار کرنے والا)کے حوالے کرنا ضروری ہے۔
(4) مضارب کا حصہ نفع سے دیا جائے اصل مال سے نہ دیا جائے۔
(5) نفع دونوں کے درمیان تقسیم ہو۔
(6)دونوں کے درمیان منافع کی تقسیم فیصد میں ہونا ضروری ہے یعنی%30یا%50فیصد وغیرہ ۔
(7)رب المال(پیسہ دینے والا)اور مضارب میں سے ہر ایک کا منافع عقد (contract)کے وقت ہی معین کیا جانا ضروری ہے ۔
ان شرائط میں سے کسی ایک کی خلاف ورزی ہو جائے تو مضاربہ فاسد ہو جائے گا ،جس کے بعد مضارب (کاروبار کرنے والے)کو مارکیٹ ویلیو کے مطابق اس کے کام کی اجرت ملے گی۔ اور سارا منافع اور سامان وغیرہ رب المال(پیسہ دینے والا)کے ہونگے۔
چونکہ آپ لوگوں جوعقد (contract)کیاہے وہ مضاربہ ہی کا ہے اور اس میں رب المال(پیسہ دینے والا)نےمنافع فکس کیا ہے ۔یعنی منافع میں سے روزانہ کی بنیاد پر 300سو روپےرب المال کو دیا جائے گا ،جس کی وجہ سے شروع میں ہی مضاربہ فاسد ہوگیا تھا،اور آپ کو کاروبار کرنا نہیں چاہیئے تھالیکن اب عقد(contract)کے وقت سے لیکر کاروبار کے ختم ہونے تک جتنے بھی اخرجات آئے ہیں ان سب کو منہا کرلیا جائے اس کے بعد مضارب (یعنی آپ)کو اسطرح کے کام کی جو اجرت بنتی ہے وہ آپ کو دی جائے ،اور اگر اس اجرت کی مقدار آپ لے چکے ہیں تو ٹھیک ہے ورنہ کم ہونے کی صورت میں آپ کی اجرت پوری کی جا ئے گی ،اور زیادہ لینے کی صورت میں آپ کواجرت مثل سے زائد رقم لوٹانا ہوگی ۔اور باقی سارا منافع اور سامان وغیرہ رب المال(پیسہ دینے والا)کا ہو گا۔
تنویر الابصار مع الدر المختار میں ہے:وَشَرْعًا:عَقْدُ شَرِكَةٍ فِي الرِّبْحِ بِمَالٍ مِنْ جَانِبِ رَبِّ الْمَالِ وَعَمَلٍ مِنْ جَانِبِ الْمُضَارِبِ وَشَرْطُهَاأُمُورٌ سَبْعَةٌ كَوْنُ رَأْسِ الْمَالِ مِنْ الْأَثْمَانِ وَكَوْنُ رَأْسِ الْمَالِ عَيْنًا لَا دَيْنًاوَكَوْنُهُ مُسْلَمًا إلَى الْمُضَارِبِ لِيُمْكِنَهُ التَّصَرُّفَ وَكَوْنُ الرِّبْحِ بَيْنَهُمَا شَائِعًا فَلَوْ عَيَّنَ قَدْرًا فَسَدَتْ وَكَوْنُ نَصِيبِ كُلٍّ مِنْهُمَا مَعْلُومًا عِنْدَ الْعَقْدِ. (ملخصاً)۔ترجمہ:مضاربہ کی شرعی تعریف یہ ہے کہ:ایسا عقد (contract)جس سے حاصل ہونے والا منافع مشترک ہو بایں طور کہ ایک بندہ کا مال ہوگا اور ایک بندہ کام کریگا ۔اور اس کے صحیح ہونے کے سات شرائط ہیں :کاروبار کے لیئے دیاجانے والا مال کرنسی (روپے،ڈالر ،سونا چاندی وغیرہ)کی صورت میں ہو،راس المال(مضاربہ کے لیئے دیا جانے والامال)نقد ہو نہ کہ قرضہ،راس المال کو مضارب (اس مال سے کاروبار کرنے والا)کے حوالے کیا گیا ہوتاکہ وہ اس سے کاروبار کر سکے،منافع ان دونوں کے درمیان فیصد میں ہو(یعنی%30یا%50فیصد وغیرہ ) اور انہوں نے کچھ فکس کیا تو مضاربہ فاسد ہو جائے گااوررب المال(پیسہ دینے والا)اور مضارب میں سے ہر ایک کا منافع عقد (contract)کے وقت ہی معین کیا جانا ضروری ہے ۔( تنویر الابصار مع الدر المختار (کتاب المضاربہ،ج:6،ص؛245،طبع: دار الفکر ، بیروت)
اسی طرح الہدایۃ شرح بدایۃ المبتدی میں ہے:فإن شرط زيادة عشرة فله أجر مثله" لفساده فلعله لا يربح إلا هذا القدر فتنقطع الشركة في الربح، وهذا لأنه ابتغى عن منافعه عوضا ولم ينل لفساده، والربح لرب المال لأنه نماء ملكه، ولا تجاوز بالأجر القدر المشروط عند أبي يوسف خلافا لمحمد ، ويجب الأجر وإن لم يربح في رواية الأصل لأن أجر الأجير يجب بتسليم المنافع أو العمل وقد وجد(ملخصاً)ترجمہ:اور اگر مضارب نے منافع کے ساتھ دس زیادہ دینے کی شرط لگائی تو اس کے لیئے اجرت مثل ہو گی ،کیو نکہ اس نے کاروبار کو فاسد کیا اور یہ ایسا ہوگیا کہ اسے اتنا ہی منافع ہو ا ہے جتنے کی اس شرط لگائی ہے ،جس کی وجہ سے منافع میں دونوں کا شریک ہوجا نا ختم ہوگیا ، اور یہ اس لئے ہے کہ اس نے اپنے منافع کو چھوڑ دیا ہے اس مخصوص عوض کے بدلےاور عوض اسےملا ہی نہیں مضاربہ کے فساد کی وجہ سے،توسارا منافع رب المال(پیسہ دینے والا)کا ہوگا کیونکہ اسی کے مال سے حاصل ہوا ہے ،اور امام ابو یوسف کے نزدیک مارکیٹ ویلیو کے مطابق اجرت کی مقدار مقرر کر دہ سے بڑھ جائے تو مقرر کردہ کے مطابق دیا جائے گا ،بر خلاف امامحمد کے،اورمبسوط کی روایت کے مطابق مضارب کے لیئے اجرت مثل واجب ہو گی اگر چہ منافع نہ ہوا ہو ،اس لیئے ملازم کی اجرت واجب ہو جاتی ہے جب وہ اپنی خدمات پیش کرے یا کام کرے ،اور وہ یہاں پایا گیا ہے ۔ (الہدایۃ شرح بدایۃ المبتدی(کتاب المضاربۃ،ج3ص:201،داراحیاء التراث العربی،لبنان)
واللہ تعالی اعلم بالصواب
کتبـــــــــــــــــــــــــــہ:عبد المصطفی ظہور احمد
الجواب الصحیح:ابوالحسنین مفتی وسیم اختر المدنی
تاریخ اجراء:26جمادی اولی 1440 ھ/01فروری 2019ء