متعدد عمرے کے بعد حلق نا کروانے کا حکم
    تاریخ: 10 مارچ، 2026
    مشاہدات: 4
    حوالہ: 1005

    سوال

    ایک شخص نے چار عمرے کیے ،پہلے عمرے کے بعد تو حلق کیا لیکن اس کے بعد جو تین عمرے کیے ان میں حلق نہیں کیا ،اس کا کہنا یہ ہے کہ جب میں نے دوسرا عمرہ مکمل کیا تو مجھے ایک صاحب نے کہا کہ اب حلق کی حاجت نہیں پہلے عمرے کا حلق کافی ہے پھر اسے بعد میں کسی نے بتایا کہ تو حلق ضروری تھا ۔اب پوچھی گئی صورت میں اس پر کتنے دم لازم ہوں گے جواب عنایت فرمائیں!!

    نوٹ:آخری عمرے کے بعد سائل نے حلق کروا لیا تھا ۔

    سائل: مولانا جواد ترابی صاحب


    بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

    اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ

    پوچھی گئی صورت میں اس شخص پر چار دم لازم ہو چکے ہیں جن کی ادئیگی حدود ِ حرم میں ہی کرنی ہو گی ۔

    چار دموں کی تفصیل :

    پہلا دم :دوسرے عمرے کے بعد حلق کیے بغیر احرام کھول دیا سو اس میں جتنی بھی جنایات (سلے ہوئے کپڑے ،سر منہ کو چھپانا ،خوشبو لگانا وغیرہا)ہوئیں، رفضِ احرام کی وجہ سے ہوئی لہذا سب کے لیے ایک ہی دم کافی ہے ۔

    دوسرا دم :دوسرے عمرےکے احرام میں ہوتےہوئے تیسرے عمرے کے احرام میں داخل ہوااور یوں دو احراموں کو ایک ساتھ جمع کر دیا نیز تیسرے عمرے کا احرام وقت سے پہلے باندھا ۔

    تیسرا دم :تیسرے عمرے کا احرام ،حلق کیے بغیر کھول دیا اور( موجبِ دم) جنایات کرتا رہا چونکہ جنایات خود کو احرام سے باہر سمجھ کر کرتا رہا اس لیے متعدد جنایات کے باوجود ایک ہی دم ہو گا ۔

    چوتھا دم :تیسرے عمرے کے احرام کو چوتھے عمرے کے احرام کے ساتھ جمع کرنے کی وجہ سے لازم ہوا ۔

    کنز الدقائق میں ہے :وَمَنْ فَرَغَ مِنْ عُمْرَتِهِ إلَّا التَّقْصِيرَ فَأَحْرَمَ بِأُخْرَى لَزِمَهُ دَمٌ۔ترجمہ:جو شخص اپنے عمرے سے فارغ ہو گیا مگر تقصیر نہیں کی پھر دوسرے عمرے کا احرام باند لیا تو اس پر دم لازم ہو گا ۔

    اس کے تحت تبیین الحقائق میں ہے :وَلَوْ أَحْرَمَ بِالْعُمْرَةِ، وَفَرَغَ مِنْهَا ثُمَّ أَحْرَمَ بِعُمْرَةٍ أُخْرَى قَبْلَ الْحَلْقِ لِلْأُولَى فَعَلَيْهِ دَمٌ أَيْ لِلْجَمْعِ بَيْنَهُمَا،وَأَصْلُ هَذَا أَنَّ الْجَمْعَ بَيْنَ إحْرَامَيْ الْحَجِّ أَوْ إحْرَامَيْ الْعُمْرَةِ بِدْعَةٌ۔ترجمہ: اور اگر کسی نے عمرہ کا احرام باندھا، پھر اسے مکمل کر لیا، پھر پہلے عمرہ کے حلق (بال منڈوانے) سے پہلے دوسری عمرہ کا احرام باندھ لیا، تو اس پر دم واجب ہے یعنی دونوں عمرے کو جمع کرنے کی وجہ سے۔ اور اس کی اصل (قاعدہ) یہ ہے کہ دو حج کے احرام یا دو عمرے کے احرام کو جمع کرنا بدعت ہے۔(تبیین الحقائق شرح کنز الدقائق ،باب اضافۃ الاحرام الی الاحرام ، جلد 02 صفحہ 401 ،مرکز اہلسنت برکات رضا)

    فتاوی ہندیہ میں ہے: ومن فرغ من عمرتہ الا التقصیر فاحرم باخری فعلیہ دم لاحرامہ قبل الوقت وھو دم جبر و کفارۃ کذا فی الھدایۃ.ترجمہ: اور جس نے اپنے عمرہ کے تمام اعمال مکمل کر لیے، سوائے بال کٹوانے (تقصیر) کے، پھر اس نے دوسرا عمرہ کا احرام باندھ لیا، تو اس پر دم واجب ہے، کیونکہ اس نے احرام وقت سے پہلے باندھا۔اور یہ دمِ جبر و کفّارہ ہے ، جیسا کہ ہدایہ میں ہے۔(فتاوی ہندیہ ،کتاب المناسک ،جلد 01،صفحہ280)

    شرح لباب المناسک لملا علی قاری میں ہے :إعلم أنهم اتفقوا في وجوب الدم بسبب الجمع بين إحرامي العمرة،(ولو طاف وسعي للأولى ولم يبق عليه إلا الحلق فأهل بأخرى لزمته) أي العمرة الأخرى اتفاقا ( ولا يرفضها) أي الأخرى،ترجمہ: جان لو کہ سب فقہاء اس بات پر متفق ہیں کہ دو عمرہ کے احراموں کو جمع کرنے کی وجہ سے دم واجب ہوتا ہے۔جس نے پہلے عمرے کا طواف اور سعی مکمل کر لی اور اس پر سوائے حلق کے کچھ باقی نہیں تھا پھر اس نے دوسرے عمرے کا احرام باندھ لیا تو دوسرا عمرہ اس پر بالاتفاق لازم ہو جائے گا اور یہ دوسرے عمرے کو ختم نہیں کرے گا ملخصاً۔( المسلک المتقسط فی المنسک المتوسط ،فصل فی الجمع بین العمرتین، صفحہ 293،ادار القران والعلوم الاسلامیہ کراچی )

    جب تک عمرے کے مناسک مکمل کرنے کے بعد قصر یا حلق نہ کر لی جائے تب تک محرم ، احرام سے نہیں نکلتا،لہذا اگر کوئی شخص حلق یا قصر کے بغیر احرام کھول دے تو وہ بدستور احرام میں رہے گا لہذا اس دوران خلاف ِاحرام جتنے امور کرے گا وہ جنایات شمار ہوں گی تاہم رفضِ احرام کی وجہ سےتمام جنایات پر ایک ہی کفارہ لازم آئے گا ۔

    چنانچہ المسلک المتقسط فی المنسک المتوسط میں ہے:’’ثم اعلم ان من جمع بین الحجتین أو العمرتین أو حجۃ و عمرۃ ولزمہ رِفض احداھما فرِفضھا،فعلیہ دم للرِفض ،وھل یلزمہ دم آخر للجمع أم لا؟فالمذکور فی عامۃ الکتب ان دم الجمع انما یلزمہ فیما اذا لم یرِفض احداھما،أما اذا رفضھا فلم یذکر فیھا الا دم الرِفض ،بل المفھوم منھا تصریحا وتلویحا عدم لزوم دم الجمع ‘‘ترجمہ:پھر جان لو کہ جو شخص دو حج یا دو عمروں یا حج اور عمرے کو جمع کرلے اور اس پر ان میں سے ایک کا احرام ختم کرنا لازم ہوا ،تو اس نے ایک احرام ختم کردیا، تو اس پر رِفض( ترک ) کا دم لازم ہوگا،مگر کیا اس پر ایک دم جمع کا بھی لازم ہوگا یا نہیں؟تو عامہ کتب میں جو مذکور ہے وہ یہ ہے کہ جمع کا دم اس صورت میں لازم ہوگا کہ جب وہ ان دو احراموں میں سے ایک کو ختم نہ کرے،بہرحال جب وہ ایک احرام کو ختم کردے تو اس صورت میں صرف رِفض

    ( ترک ) کے دم کے لازم ہونے کو ہی ذکر کیا گیا ہے ،بلکہ اس سے صراحۃ اور اشارۃ یہی سمجھا گیا ہے کہ اس صورت میں جمع کا دم لازم نہیں ہوگا۔ (المسلک المتقسط فی المنسک المتوسط ،صفحہ420،مطبوعہ مکۃ المکرمۃ)

    درمختار میں ہے: (ومن أتى بعمرة إلا الحلق فأحرم بأخرى ذبح) الأصل أن الجمع بين إحرامين لعمرتين مكروه تحريما فيلزم الدم ترجمہ: "اور جس نے عمرہ کے تمام اعمال کر لیے، سوائے حلق کے، پھر دوسری عمرہ کا احرام باندھ لیا، تو اس پر دم واجب ہے۔"اس کی اصل یہ ہے کہ دو عمرے کے احرام کو جمع کرنا مکروہِ تحریمی ہےاس لیے دم واجب ہے۔(الدرالمختار مع ردالمحتار، جلد2،صفحہ587، دارالفکر)

    اس کے تحت علامہ شامی علی الرحمہ فرماتے ہیں : فلو أحرم بعمرة فطاف لها شوطا أو كله أو لم يطف شيئا ثم أحرم بأخرى لزمه رفض الثانية وقضاؤها ودم للرفض؛ ولو طاف وسعى للأولى ولم يبق عليه إلا الحلق فأهل بأخرى لزمته ولا يرفضها وعليه دم الجمع، وإن حلق للأولى قبل الفراغ من الثانية لزمه دم آخر، ولو بعده لا؛ ترجمہ: اگر کسی نے ایک عمرے کا احرام باندھا، اس کے لیے ایک چکر یا پورے چکر طواف کیے، یا کچھ بھی طواف نہیں کیا، پھر دوسری عمرے کا احرام باندھ لیا، تو اس پر لازم ہے کہ دوسرا عمرہ ترک کرے (یعنی باطل سمجھے)، اور بعد میں اسے قضا کرے، اور ترک کرنے کے بدلے ایک دم (قربانی) دے۔اور اگر اس نے پہلے عمرے کا طواف اور سعی مکمل کر لی تھی، اور صرف حلق باقی تھا، اور اسی حالت میں دوسری عمرہ کا احرام باندھ لیا، تو دوسرا عمرہ لازم ہو جائے گا، باطل نہیں ہوگا، لیکن دونوں کو جمع کرنے کے سبب دم لازم ہوگا۔اگر اس نے پہلے عمرے کے لیے حلق دوسرے عمرہ کے مکمل ہونے سے پہلے کر لیا تو ایک اور دم لازم ہوگا، اور اگر بعد میں کیا تو نہیں ہوگا ۔ (ردالمحتارعلی الدرالمختار، جلد2،صفحہ587، دارالفکر)۔

    واللہ اعلم بالصواب

    کتبــــــــــــــــــــــــــہ:محمدیونس انس القادری

    الجـــــواب صحــــیـح:ابو الحسنین مفتی وسیم اختر المدنی

    تاریخ اجراء:29 جمادی الاولی 1447ھ/20نومبر2025ھ