نکاح میں لڑکی کے والد کا نام نہ لیا
    تاریخ: 15 نومبر، 2025
    مشاہدات: 6
    حوالہ: 117

    سوال

    میرا نام احمر ہمایوںولد عبد الرحمٰن (مرحوم ) ہے میں نے اپنے بڑے بھائی خرم ہمایوںولد عبد الرحمٰن سے ان کی ایک بیٹیندارحمان کو پیدائش سے لے کر پالا مکمل پرورش کی کیونکہ میری کوئی اولاد نہیں تھی ۔ میں نے اس کو بہت محبت سے پالا مکمل تعلیم دلائی اور 21 اکتوبر 2020،کو اس کی شادی بھی کرادی ہے؟

    نکاح پڑھاتے وقت مولانا صاحب نےیہ الفاظ کہے :شاہ ویز ادریس ولد محمد ادریس (مرحوم)آپ کا نکاح ندا رحمان کے ساتھ احمر ہمایوں کی وکالت میں 50000 روپے مہر کے عوض طے ہوا ہے کیا آپ کو قبول ہے ؟ لڑکے نے کہا کہ میں اس نکاح کو قبول کیا اور نکاح کے فارم میں لڑکی کے ولدیتمیں میرانام لکھا گیاہے، اسی طرح اس لڑکی کے ہر کاغذات میں ولدیت کی جگہمیرا ہی نام تحریر ہے حتی کہ اس کو اپنےحقیقی والد کے بارے میں علم ہی نہیں ہے،لہذا معلوم یہ کرنا ہے کہ اس طرح اس کا نکاح درست ہو ا یا نہیں ؟ سائل:احمر ہمایوں : کراچی


    بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

    اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ

    پوچھی گئی صورت میں اگر نکاح کے وقت گواہانِ نکاح دلہن کو بغیر والد کے نام کے فقط ندا رحمان سےبھی جانتے اور پہچانتے ہیں تو یہ نکاح درست ہےکیونکہ نکاح میں مقصود لڑکا اور لڑکی کا متعین ہونا ہے اور جب لڑکی فقط نام سے ہی مجلس ِِنکاح میں متعین ہے تو اب والد کا نام لینے کی حاجت نہیں ،نیزنکاح نامہ میں متبنی (پرورش کرنے والا)والد کا نام لکھا ہونےسےنکاح پر کوئی فرق نہیں پڑتا،البتہ لڑکی کے تمام کاغذات میں حقیقی والد کی جگہ خود کا نام لکھوانا اور لڑکی کو خود کی طرف منسوب کرنا یہ سب ناجائز و حرام امور ہیں ۔

    ارشاد باری تعالیٰ ہے:وَمَا جَعَلَ اَدْعِيَآئَکُمْ اَبْنَآئَکُمْ ذٰلِکُمْ قَوْلُکُمْ بِاَفْوَاهِکُم وَاﷲُ يَقُوْلُ الْحَقَّ وَهُوَ يَهْدِی السَّبِيْلَ ‘‘.ترجمہ: اور نہ تمہارے منہ بولے بیٹوں کو تمہارے (حقیقی)بیٹے بنایا، یہ سب تمہارے منہ کی اپنی باتیں ہیں اور اللہ حق بات فرماتاہے اور وہی (سیدھا) راستہ دکھاتا ہے۔(الاحزاب:آیت : 4)

    یوں ہی دوسری آیت میں ارشاد ہے :ادْعُوْهُمْ لِاٰبَآئِهِمْ هُوَ اَقْسَطُ عِنْدَ اﷲِج فَاِنْ لَّمْ تَعْلَمُوْٓا اٰبَآءَ هُمْ فَاِخْوَانُکُمْ فِی الدِّيْنِ وَمَوَالِيْکُمْ ط.ترجمہ:تم اُن (مُنہ بولے بیٹوں) کو ان کے باپ (ہی کے نام)سے پکارا کرو، یہی اللہ کے نزدیک زیادہ عدل ہے، پھر اگر تمہیں ان کے باپ معلوم نہ ہوں تو (وہ)دین میں تمہارے بھائی ہیں اور تمہارے دوست ہیں۔(الاحزاب:آیت : 5)

    حدیث پاک میں بھی اس کے بارے میں سخت وعید سنائی گئی ہے:عَنْ سَعْدٍ قَالَ سَمِعْتُ النَّبِيَّ يَقُولُ: مَنِ ادَّعَی إِلَی غَيْرِ أَبِيهِ وَهُوَ يَعْلَمُ أَنَّهُ غَيْرُ أَبِيهِ فَالْجَنَّةُ عَلَيْهِ حَرَامٌ.ترجمہ:حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: جو اپنے باپ کے سوا کسی اور کے متعلق دعویٰ کرے اور وہ جانتا ہے کہ وہ اس کا باپ نہیں تو اس پر جنت حرام ہے۔( بخاري، الصحيح، 6: 2485، رقم: 6385، بيروت، لبنان: دار ابن کثير اليمامة، مسلم، الصحيح، 1: 80، رقم: 63، بيروت، لبنان: دار احياء التراث العربي)۔

    فتاوٰی شامی میں ہے: إذَا عَرَفَهَا الشُّهُودُ يَكْفِي ذِكْرُ اسْمِهَا فَقَطْ۔۔۔۔۔۔۔۔ لِأَنَّ ذِكْرَ الِاسْمِ وَحْدَهُ لَا يَصْرِفُهَا عَنْ الْمُرَادِ إلَى غَيْرِهِ ترجمہ:جب گواہان ِنکاح لڑکی کو پہچانتے ہوں تو(انعقاد ِنکاح کے لیے) محض لڑکی کا نام کافی ہے اسلیے کہ لڑکی کا نام تنہا لینا(والد کا نام نہ لینا) مرادکو اس کے غیر کی طرف نہیں پھیرتا۔(رد المختار علی الدرالمختار ،جلد:3،ص:26،دارالفکر بیروت)

    واللہ تعالٰی اعلم بالصواب

    کتبـــــــــــــــــــــــــــہ: محمد احمد امین قادری نوری

    الجواب الصحیح: مفتی وسیم اختر المدنی

    تاریخ اجراء: 12جمادی الاولی 1442 ھ/28دسمبر 2020 ء