سوال
میں نے اپنی بیٹی کی شادی فروری 2020 میں ہوئی تھی اوراسکا شوہر شادی کے پہلےدن سے یہ کہہ کر کنڈوم استعمال کررہا ہے کہ ابھی بچےنہیں چاہئیں،اس کی وجہ سے میری بیٹی کی صحت خراب ہورہی ہے ۔کیا ایسا کرنا شرعاً درست ہے ، کیا اس نے حق زوجیت ادا کردیا ہے اور کیا ولیمہ کرنا درست ہے ؟سائلہ:قمر النساء: کراچی۔
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ
بیوی کی اجازت سےکنڈوم کا استعمال درج ذیل صورتوں میں بلا کراہت جائزہے:
1: رزق کی تنگی کے سبب نہ ہو۔
2: اولاد کی پرورش کے اخراجات سے بچنے کے لئے نہ ہو۔
3:شدید مجبوری ہو مثلا حمل ٹھہر جانے کی صورت میں شیر خوار بچے کو ضرر کا اندیشہ ہویا ماہر ڈاکٹر کی تشخیص کے مطابق عورت حمل کا بار برداشت کرنے کے قابل نہ ہو۔
نیزکنڈوم کے استعمال کے ساتھ حق زوجیت بھی ادا ہوگیا،اورولیمہ بھی درست ہوگیا۔
لہذا اگر کنڈوم کے استعمال سے عورت کی صحت خراب ہورہی ہے تو وہ اپنے شوہر کو منع کر سکتی ہے کہ یہ اسکا شرعی حق
فی زمانہ جس مقصد کےلئے کنڈوم کا استعمال کیاجاتا ہے، پہلے زمانے میں لوگ اس مقصد کے لئے عزل کیا کرتے تھے۔ عزل کہتےہیں کہ بیوی سے جماع کے دوران انزال کے وقت آلہ خاص کوباہر نکال لینا،تاکہ منی رحم میں نہ جائے اور حمل نہ ٹھہرے۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے دور میں گو کہ کنڈوم یا لوپ وغیرہ نہ تھا، مگر عزل کی صورت پائی جاتی تھی،اور بعض حضرات عزل کیا کرتے تھے،صحابہ کرام کو اس بارے میں تشویش ہوئی اور انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم سے اس بابت مسئلہ دریافت کیا۔
چنانچہ بخاری شریف میں ہے: أَنَّ أَبَا سَعِيدٍ الخُدْرِيَّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَخْبَرَهُ: أَنَّهُ بَيْنَمَا هُوَ جَالِسٌ عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّا نُصِيبُ سَبْيًا، فَنُحِبُّ الأَثْمَانَ، فَكَيْفَ تَرَى فِي العَزْلِ؟ فَقَالَ «أَوَإِنَّكُمْ تَفْعَلُونَ ذَلِكَ؟ لاَ عَلَيْكُمْ أَنْ لاَ تَفْعَلُوا ذَلِكُمْ، فَإِنَّهَا لَيْسَتْ نَسَمَةٌ كَتَبَ اللَّهُ أَنْ تَخْرُجَ إِلَّا هِيَ خَارِجَةٌ۔ترجمہ:حضرت ابو سعید خدری فرماتے ہیں کہ ایک روز وہ آقا کریم ﷺکی خدمت میں موجود تھے۔تو انہوں نے نبی کریم ﷺ سے عرض کی یارسول اللہ!لڑائی میں ہم لونڈیوں کے پاس جماع کےلیےجاتےہیں۔ ہمارا ارادہ انہیں بیچنے کابھی ہوتا ہے۔ تو آپﷺعزل کر لینے کےمتعلق کیافرماتے ہیں؟اس پر آپ ﷺنے فرمایا،اچھا تم لوگ ایسا کرتے ہو؟ اگر تم ایسا نہ کرو پھربھی کوئی حرج نہیں۔ اس لیے کہ جس روح کی بھی پیدائش اللہ تعالیٰ نے قسمت میں لکھ دی ہے وہ پیدا ہوکرہی رہےگی۔(صحیح بخاری ،کتاب البیوع ، باب بیع الرقیق ،ج:3،ص:83،رقم:2229،دار طوق النجاۃ)
بیوی کی اجازت اس لئے ضروری ہےکہ اس سے جنسی تسکین میں فرق پڑتا ہے، کہیں اس کی وجہ سے بیوی اور شوہر کے درمیان ناچاقی نہ پیدا ہوجائے، چنانچہ فتاوی ھندیہ میں ہے: العزل ليس بمكروه برضا امرأته الحرة۔ترجمہ:عزل کرنا اپنی آزاد منکوحہ کی اجازت کے ساتھ مکروہ نہیں ہے۔(فتاوی ھندیہ-کتاب النکاح -الباب التاسع فی نکاح الرقیق۔جلد:1-ص:335-دارالفکر بیروت لبنان)
اسی طرح کنزالدقائق میں ہے : العزل ليس بمكروه برضا امرأته الحرة۔ترجمہ:عزل کرنا اپنی آزاد منکوحہ کی اجازت کے ساتھ مکروہ نہیں ہے
اور تبیین الحقائق میں ہے:فَإِنَّ لَهَا حَقًّا فِي الْوَلَدِ فَيُشْتَرَطُ رِضَاهَا ترجمہ:بے شک آزاد عورت (بیوی) کیلئے اولاد میں حق ہےلہذاعزل کیلئے اسکی اجازت مشروط ہے ۔(تبیین الحقائق شرح کنزالدقائق،جلد:2،ص:166،ناشر :المطبعۃ الکبری الامیریۃ ،القاھرۃ)
البتہ رزق کی تنگی کے سبب یا اولاد کی پرورش کے اخراجات سے بچنے کے لئے ہوتو کراہت سے خالی نہیں۔ کیونکہ اس میں کفار کی مشابہت بھی ہے اور قرآن مجید کی مخالفت بھی ہے کیونکہ قرآن مجید کے مطابق مالی تنگی کے ڈر سے بچوں کو قتل کرنا ممنوع ہے،چناچہ اللہ رب العزت کا فرمان ہے: وَلَا تَقْتُلُوا أَوْلَادَكُمْ خَشْيَةَ إِمْلَاقٍ ۖ نَّحْنُ نَرْزُقُهُمْ وَإِيَّاكُمْ ۚ إِنَّ قَتْلَهُمْ كَانَ خِطْئًا كَبِيرًا۔ترجمہ کنزالایمان: اور اپنی اولاد کو قتل نہ کرو مفلسی کے ڈر سے ہم تمھیں بھی اورانہیں بھی روزی دیں گے بےشک ان کا قتل بڑی خطا ہے۔(الإسراء31)
پھر مزید یہ کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کے فرمان کے خلاف بھی ہے۔کیونکہ حدیث پاک میں فرمایا کہ کثیر اولاد والی عورت سے شادی کرو کیونکہ قیامت کے روز یہ کثرت دیگر امتوں پر میرے لئے فخر کا باعث ہوگی جیسا کہ نسائی شریف کی حدیث ہے : عَنْ مَعْقِلِ بْنِ يَسَارٍ، قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: إِنِّي أَصَبْتُ امْرَأَةً ذَاتَ حَسَبٍ وَمَنْصِبٍ، إِلَّا أَنَّهَا لَا تَلِدُ، أَفَأَتَزَوَّجُهَا؟ فَنَهَاهُ، ثُمَّ أَتَاهُ الثَّانِيَةَ، فَنَهَاهُ، ثُمَّ أَتَاهُ الثَّالِثَةَ، فَنَهَاهُ، فَقَالَ: «تَزَوَّجُوا الْوَلُودَ الْوَدُودَ، فَإِنِّي مُكَاثِرٌ بِكُمْ» ترجمہ: حضرت معقل بن یسار رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی رسول اللہﷺ کے پاس آیا اور کہنے لگا: مجھے ایک خاندانی اور مرتبے والی عورت ملی ہے مگر وہ بانجھ ہے۔ تو کیا میں اس سے شادی کرلوں؟ آپ نے اسے منع فرمایا‘ پھر وہ دوبارہ آپ کے پاس آیا تو آپ نے پھر منع فرمایا‘ پھر وہ تیسری بار آیا۔ تو آپ نے پھر روک دیا۔ تب آپ نے فرمایا: ’’ایسی عورتوں سے شادی کرو جو زیادہ بچے جننے والی‘ خوب محبت کرنے والی ہوں۔یقینا میں تمہاری کثرت کی وجہ سے فخر کروں۔(سنن النسائی ،کتاب النکاح،باب كَرَاهِيَةُ تَزْوِيجِ الْعَقِيمِ،جلد:6،ص:65،رقم:3227،مکتبہ مطبوعات الاسلامیہ حلب)
نیز یہ بات بھی ذہن نشین رہنی چاہئےکہ خدا نے جو تقدیر میں لکھ دیا ہےاسے کوئی ٹال نہیں سکتا، اس قسم کی باتیں صرف تدابیر میں آتی ہیں۔اس لئے ایسے معاملات میں دین و شریعت کی روح اور اسلام کے مزاج پر قائم رہنے کی حتی المقدور کوشش ہونی چاہئے، غیروں کے طریقے اور مغربیت پرستی میں سوائے نقصان کے کچھ نہیں ہے۔
ولیمہ کے حوالے سے اعلحضرت امام احمد رضا خان فاضل بریلوی فتاوی رضویہ شریف میں لکھتے ہیں:شب زفاف کی صبح کو احباب کی دعوت ولیمہ ہے۔(فتاوی رضویہ ،جلد :11،ص:256،رضا فاؤنڈیشن لاہور)
واللہ تعالی ا علم بالصواب
کتبـــــــــــــــــــــــــــہ: محمد احمد امین قادری نوری عفی عنہ
الجواب الصحیح:مفتی وسیم اختر المدنی
تاریخ اجراء 22ذو القعدہ 1441 ھ/14جولائی 2020