mutabanna ka masla o hukum
سوال
ماسٹر محمد ہاشم نے اپنا نومولود بچہ اپنے سگے بھائی محمد عثمان کو گود دے دیا، بچے کی پرورش ، تعلیم دیگر اخراجات عثمان نے ہی کئے حتٰی کہ شادی کے قابل ہوگیا۔ مسئلہ یہ ہے کہ اب بچے کی نکاح کے وقت ولدیت میں کس کانام لیا جائے گا ، اصلی والد کا یا جس نے پرورش کی اسکا؟ نیز وراثت و دیگر معاملات کا حکم بھی ارشاد فرمائیں۔
سائل:ظہور احمد : کراچی
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ
لے پالک بچے کی ولدیت میں نکاح کے وقت اور علاوہ ازیں دیگر تمام مواقع پر اسکے اصلی والد کا نام لکھنا اور اسی سے پکارنا ضروری و لازم ہے،قال اللہ تبارک و تعالی :ادْعُوهُمْ لِآبائِهِمْ هُوَ أَقْسَطُ عِنْدَ اللَّهِ ۔ترجمہ: انہیں انکے پاپ ہی کا کہہ کر پکا رویہ اللہ کے نز دیک زیادہ ٹھیک ہے ۔(سورۃالاحزاب :5)
اس آیت مبارکہ کے تحت احکا م القرآن للجصاص میں ہے: فیہ حظر اطلاق اسم الابوۃ من غیر جہۃ النسب۔ترجمہ :اس آیت مبارکہ میں ولدیت کی نسبت، نسبی والد کے علاوہ کی طرف کر نے کی ممانعت ہے۔(احکا م القرآن للجصاص قدیمی کتب خانہ ،ج:3 ص:521)
حدیث پاک میں بھی اس کے بارے میں سخت وعید سنائی گئی ہے:عَنْ سَعْدٍ قَالَ سَمِعْتُ النَّبِيَّ يَقُولُ: مَنِ ادَّعَی إِلَی غَيْرِ أَبِيهِ وَهُوَ يَعْلَمُ أَنَّهُ غَيْرُ أَبِيهِ فَالْجَنَّةُ عَلَيْهِ حَرَامٌ.ترجمہ: حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: جو اپنے باپ کے سوا کسی اور کے متعلق دعویٰ کرے اور وہ جانتا ہے کہ وہ اس کا باپ نہیں تو اس پر جنت حرام ہے۔( بخاري، الصحيح، 6: 2485، رقم: 6385، بيروت، لبنان: دار ابن کثير اليمامة، مسلم،الصحيح، 1: 80، رقم: 63، بيروت، لبنان: دار احياء التراث العربي)
یونہی وراثت وغیرہ کے معاملات بھی نسبی والد سے جاری ہونگے، جس نے اس بچے کو پالا ہے اسکی وراثت سےکوئی حصہ نہیں ملے گا مگر یہ کہ پالنہار وصیت کرجائے تو وہ وصیت اسکے حق میں درست ہے اور کل مال کے ایک تہائی سے وصیت پوری کی جائے گی ۔
چناچہ تفسیر مظہری میں ہے:فلا يثبت بالتبني شىء من احكام النبوة من الإرث وحرمة النكاح وغير ذلك ترجمہ:منہ بولا بنانے سے نسبی اولاد والے احکام ثابت نہیں ہونگے مثلا وراثت،نکاح وغیرہ کا حکم۔(تفسیر مظہری ، جلد 7 ص 234)
واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
کتبـــــــــــــــــــــــــــہ:محمد زوہیب رضا قادری
الجواب الصحیح:ابو الحسنین مفتی وسیم اختر المدنی
تاریخ اجراء:13 ربیع الاول 1444 ھ/10 اکتوبر 2022 ء