mushtarka makan ki taqseem ka hukum
سوال
ہم پانچ بھائی (ندیم ، وسیم ، شاہنواز ، سرفراز ، رمیز ) اور تین بہنیں (نرگس فاطمہ، نسرین فاطمہ ، ناہید فاطمہ ) ہیں اور والد والدہ حیات ہیں۔ والد صاحب نے ایک مکان خریدا، جس وقت مکان خرید ا گیا تھا تب تین بھائی اور والد صاحب کمانے والے تھے والد صاحب اور تین بیٹے خرچہ برابر کا دیتے تھے جس سے کمیٹی ڈال کر مکان لیا ۔ اس وقت مکان کی قیمت 6 لاکھ روپے تھی اور مکان 1 + GROUND تھا۔ اس رقم میں بڑی بہن نرگس نے 35 ہزار روپے ملائے تھے اور شادی شدہ نہیں تھیں۔
میرے دو بڑے بھائی (ندیم ، وسیم ) اور شادی شدہ بہن ( نرگس فاطمہ ) نے مل کر مکان پر 20 لاکھ روپے لگائے اورتمام ورثاء کی اجازت کے ساتھ اپنا اپنا فلور بنوایا پھر تینوں اپنی اپنی فیملی کے ساتھ اپنے اپنے فلور پر رہائش پزیر ہیں اب وہ تینوں یہ کہتے ہیں کہ ہم نے 20 لاکھ روپے لگائے ہیں تو ہم اس کا ڈبل یعنی 40 لاکھ روپے لیں گے وہ تینوں آپس میں تقسیم کر لیں گے پھر باقی رقم سے پانچ بھائی تین بہنیں ماں باپ کا حصہ تقسیم ہوگا ۔ مکان میرے نام پر ہے میں خود اپنی فیملی کے ساتھ ایک کمرے میں زندگی گزار رہا ہوں اور دوسرے کمرے میں میرے ماں باپ چھوٹے بھائیوں کے ساتھ رہتے ہیں میں کسی غلط فیصلے سے ڈرتا ہوں۔
اس وقت مکان کی قیمت 1 کروڑ اور 30-25 لاکھ روپے ہے۔ اور مکان کی کنڈیشن 3+ RCCہے۔ شرعی تقسیم کیسے ہوگی۔
سائل:شاہ نواز : کراچی
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ
اگر معاملہ ایسا ہی جیساکہ ذکر کیا گیا تو حکمِ شرع یہ ہے کہ جن دو بھائیوں اور ایک بہن نے اس مکان پر باجازت تعمیرات کی وہ تعمیرات خاص انکی ہی ملک ہیں ان میں کسی بھی طرح کی تقسیم کا مطالبہ درست نہیں ہے۔ اسکے علاوہ جو اصل مکان ہے اگر خریدتے وقت سب کی طرف سے مشترکہ ملکیت کے طور پر خریدا گیا تھا تو اس کی تقسیم میں بھی صرف ان لوگوں کا حصہ ہوگا کہ جنہوں نے مکان خریدتے وقت پیسے ملائے تھے، لہذا جس نے جس قدر پیسے ملائے تھے وہ اصل مکان میں اتنی مقدار کا مالک ہوگا۔(جسکی تفصیل نیچے آرہی ہے) اسکے علاوہ والدہ اور دیگر بہن بھائیوں کا حصہ نہ ہوگا۔ کیونکہ یہ مکان وراثتی نہیں ہے کہ وراثتی مکان وہ ہوتا کہ کوئی شخص اپنی ذاتی ملکیت کا مکان چھوڑ کر انتقال کر جائے۔ جبکہ یہاں تمام مالکان حیات ہیں۔ لہذا اصل مکان کی تقسیم فیصدی اعتبار سے تمام مالکان کے مابین ہوگی جسکا طریقہ درج ذیل ہے۔
کل رقم: 600000/=
بیٹی کی رقم: 35000 فیصدی تناسب: 5.833٪
تین بیٹوں میں سے ہر بیٹے کی الگ الگ رقم : 141250 فیصدی تناسب: 23.541٪
والد کی رقم : 141250 فیصدی تناسب: 23.541٪
ـــــــــــــــــــــــ ـــــــــــــــــــــ
ٹوٹل رقم: 600000/= ٹوٹل فیصد: 99.99%
اصل مکان جو خریدتے وقت تھا آج کی مارکیٹ ویلیو کے اعتبار سے اسکی تقسیم اوپر دیئے گئے فیصدی حصے کی نسبت سے تقسیم کی جائے گی۔
بعد میں کی جانے والی تعمیرات کے حوالے سے سیدی اعلٰی حضرت لکھتے ہیں :فی العقود الدریۃ من کتاب العاریۃ سئل فی رجل بنی بمالہ لنفسہ قصرا فی دار ابیہ باذنہ ثم مات ابوہ عنہ و عن ورثۃ غیرہ فھل یکون القصر لبانیہ الجواب نعم کما صرح بذٰلک فی حاشیۃ الاشباۃ۔ترجمہ: العقود الدریۃ میں کتاب العاریۃ کے بیان میں مذکور ہے، ایک ایسے شخص کے متعلق سوال کیا گیا جس نے اپنے باپ کی اجازت سے اس کی زمین پر اپنے مال سے اپنے لئے گھر بنایا پھر باپ اس سمیت دیگر ورثاء کو چھوڑ کر فوت ہوگیا تو یہ عمارت اس بانی کی ہوگی۔الجواب، ہاں۔ جیسا کہ اس کی تصریح الاشباہ میں ہے۔(فتاوٰی رضویہ،کتاب الوکالۃ ،جلد 19 ص 224 رضا فاؤنڈیشن ،لاہور)
الاشباہ کے الفاظ یہ ہیں : كُلُّ مَنْ بَنَى فِي أَرْضِ غَيْرِهِ بِأَمْرِهِ فَالْبِنَاءُ لِمَالِكِهَا۔ترجمہ:جس نے غیر کی زمین میں اسکی اجازت سے تعمیرات کی تو تعمیرات مالک ِ زمین کی ہوگی۔
اسکے تحت حاشیہ حموی میں ہے:ھذا اذا اطلق او عینہ للمالک فلو عینہ لنفسہ فھو لہ۔ترجمہ:یہ اس وقت ہے جب اس نے تعمیرات مطلق رکھی یا مالک کے لئے انہیں متعین کردیا لیکن اگر اس نے اپنے لئے تعیین کردی تو وہ تعمیرات اسکی ہوگی۔(حاشیۃ الحموی علی الاشباہ ، ج 2 ص 100)
مال مشترک کی تقسیم کی حوالے سے مجلۃ الاحکام میں ہے:تَقْسِيمُ حَاصِلَاتِ الْأَمْوَالِ الْمُشْتَرَكَةِ فِي شَرِكَةِ الْمِلْكِ بَيْنَ أَصْحَابِهِمْ بِنِسْبَةِ حِصَصِهِمْ۔ ترجمہ:شرکۃ الملک میں مال مشترک کی تقسیم تمام لوگوں میں ان کے حصوں کی نسبت سے ہوگی۔( مجلۃ الاحکام الفصل الثانی فی بیان کیفیۃ التصرف ج1ص206 مادہ نمبر 1073 )
درر الحکام فی شرح مجلۃ الاحکام میں ہے:إذا كانت حصص الشريكين متساوية أي مشتركة مناصفة فتقسم بالتساوي وإذا لم تكن متساوية بأن يكون لأحدهما الثلث وللآخر الثلثان فتقسم الحاصلات على هذه النسبة؛ لأن نفقات هذه الأموال هي بنسبة حصصهما۔ترجمہ: جب دو شریکوں کے حصے مساوی ہوں یعنی مشترکہ نصف نصف ہو تو برابر برابر تقسیم کی جائے گی۔اور جب متساوی نہ ہو بایں طور کہ ان میں سے ایک کا ثلث اور دوسرے کے دو ثلث ہوں تو حاصلات اسی نسبت سے تقسیم کیے جائیں گے کیونکہ ان اموال کے نفقات انکے حصوں کے نسبت سے ہیں۔ (ایضاً مادہ 1077)
البتہ اگر تمام مالکان (والد تین بیٹے اور بیٹی)یہ چاہیں کہ جو ورثاء یعنی والدہ اور بھائی بہن اس مکان میں ملکیت نہیں رکھتے انہیں بھی حصہ دیا جائے تو اس میں بھی حرج نہیں بلکہ مستحسن ہے کہ انہیں بھی ، کہ نیکی ہے بلکہ صلہ رحمی ہے جو افضل نیکیوں میں سے ہے۔ قال اللہ تعالٰی ھل جزاء الاحسان الاالاحسان۔ ترجمہ نیکی کا بدلہ صرف نیکی ہی ہے۔(الرحمان: 60)
ہاں ۔۔۔۔۔۔! اگر تمام افراد کسی مشترکہ بات پر اتفاق کرتے ہوئے صلح کرلیں کہ وہ سب بھائی اور بہن کو جنہوں نے رقم لگائی تھی 40 لاکھ لینے پر راضی ہوجائیں اور اسکے عوض اپنے حصے سے دستبردار ہوجائیں تو یہ بھی درست ہے اس صورت میں انکو چالیس لاکھ دے کر باقی سب کا سب تمام ورثاء میں(بشمول ان بھائیوں اوربہن کے ) برابر برابر تقسیم کیا جائےگا۔
واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
کتبـــــــــــــــــــــــــــہ:محمد زوہیب رضا قادری
الجواب الصحیح:ابوالحسنین مفتی وسیم اختر المدنی
تاریخ اجراء: 18 جمادی الثانی 1445ھ/ 01 جنوری2024 ء