Biwi ka izdwaji taluq se mana karnay ke ahkam
سوال
السلام علیکم اگر زوجہ کا ازدواجی حقوق ادا کرنے کا دل نہ کرے تو شوہر کیا کرے اور وہ بھی کافی کافی ٹائم تک۔
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ
ازدواجی تعلق میں بیوی کا طویل عرصے تک محض "دل نہ کرنے" کی بنیاد پر کنارہ کشی اختیار کرنا ایک ایسا عمل ہے جو شرعی اور سماجی دونوں لحاظ سے سنگین نتائج کا حامل ہے۔ شرعی نقطہ نظر سے نکاح کا ایک بنیادی مقصد شوہر اور بیوی کی عفت و پاکدامنی کی حفاظت ہے، اسی لیے احادیث مبارکہ میں بغیر کسی حقیقی جسمانی یا شرعی عذر کے شوہر کو روکنے پر سخت وعیدیں سنائی گئی ہیں کیونکہ "دل کا نہ چاہنا" کسی واجب حق کی ادائیگی میں رکاوٹ نہیں بن سکتا۔ لہذا شوہر کے حقوق کی تکمیل بیوی پر لازم و ضروری ہے،عورت کا اپنے شوہر کو ازدواجی حقوق سے روکنا قطعاً جائز نہیں۔احادیث میں ایسی بیوی کےلیے سخت وعیدات آئی ہیں، اپنے عمل پر مذکورہ خاتون کو توبہ کرنا چاہیے۔البتہ شرعی عذر ( جیسے مخصوص ایام، بیماری، یا شوہر کا حدِ اعتدال سے زیادہ ہم بستر ہونا جس کی بیوی میں طاقت نہ ہو یا شوہر کی جانب سے تسکین شہوت کے لیےغیر فطری راستہ اختیار کرنے کا مطالبہ کرنا) ہو تو بیوی شوہر کو روک سکتی ہے۔
شوہر کو چاہیے کہ وہ سب سے پہلے نرمی سے تفہیم کا راستہ اختیار کرے اور تنہائی میں اپنی زوجہ کو پیار اور محبت سے اس عمل کی شرعی اہمیت اور اپنی ضرورت کا بھرپور احساس دلائے، اسے یہ بات واضح کرے کہ یہ عمل صرف جسمانی ضرورت کی تکمیل نہیں بلکہ میاں بیوی کے باہمی تعلق کو مضبوط اور مستحکم کرنے کا ایک اہم ذریعہ ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ شوہر کو خاموش اسباب اور اصل وجہ جاننے کی کوشش بھی کرنی چاہیے کیونکہ بسا اوقات "دل نہ کرنے" کے پیچھے گھریلو کام کاج کی حد سے زیادہ تھکن، کوئی نفسیاتی دباؤ، شوہر کا اپنا سخت رویہ یا پوشیدہ طبی مسائل (جیسے ہارمونز کی تبدیلی یا اندرونی بیماری) ہو سکتے ہیں جن کا عورت شاید شرم یا جھجک کی وجہ سے اظہار نہ کر پا رہی ہو۔ مزید برآں ماحول کی تبدیلی بھی انتہائی ضروری ہے، لہٰذا شوہر کو چاہیے کہ وہ صرف خاص لمحات میں ہی نہیں بلکہ عام اوقات میں بھی بیوی کے ساتھ حسنِ سلوک، چھوٹے چھوٹے تحائف اور محبت بھری گفتگو کے ذریعے اپنائیت کا احساس پیدا کرے تاکہ بیوی کی ذہنی و قلبی رغبت میں اضافہ ہو سکے اور وہ اس فریضے کو بوجھ سمجھنے کے بجائے خوشی سے ادا کرے۔