مشترکہ مال کی وراثت کا حکم
    تاریخ: 17 مارچ، 2026
    مشاہدات: 4
    حوالہ: 1056

    سوال

    1994 میں ہم تین بھائیوں اور والد صاحب نے پیسے ملاکر ایک پلاٹ خریدا ۔اور اسکے بعد سب نے پیسے ملاکر اسکو تعمیر کروایا۔ پلاٹ اور تعمیر پر جو اخراجات آئے اس کل رقم میں سے والد کا 25.60% حصہ تھا ۔ اسکے علاوہ بھائیوں میں سے 20.95% حصہ اشرف بھائی کا حصہ تھا۔جبکہ اسد بھائی کا 20.46% حصہ تھا ۔عرفان بھائی کا% 16.87 حصہ تھا ، اور بقیہ 16.12% قرض لیا جوکہ بھائیوں نے ہی ادا کیا ۔درج بالا شیئرز کی تقسیم پر تمام لوگوں کے دستخظ موجود ہیں ۔ہم بھائیوں نے جو پیسہ لگایا وہ خالصتا ہمارا تھا ۔ اور ہمارا کاروبار بھی والد کے کاروبار سے الگ اور جدا ہے ۔ پھر 2003ء میں اشرف بھائی نے الگ رہائش اختیار کر لی اور مکان میں اپنے شیئر کا تقاضا کیا ،پھر ہم بھائیوں نے 2006 میں اس وقت کی مارکیٹ ویلیو کے حساب سے انکو انکا شیئر دے دیا ۔اشرف بھائی کا شیئر دینے کے لئے جو رقم دی گئی اس میں کچھ پیسے ہمارے دوسرے دو بھائیوں نے بھی ادا کئے جنہوں نے پلاٹ اور تعمیرات میں پیسے نہیں ملائے تھے کیونکہ وہ اسوقت چھوٹے تھے۔ ان بھائیوں میں سے منصور نے 52500 ملائے اور حامد نے 92500 روپے ملائے۔ اب جبکہ اشرف بھائی کو مکان میں سے انکا شیئر انکو دے دیا گیا تو اب مکان میں بھائیوں کے جو شیئرز بڑھے انکی تفصیل کچھ اس طرح ہوئی ۔ والد کے شیئرز میں تبدیلی نہیں ہوئی کیونکہ انہوں نے اشرف کو دیے جانے والے حصہ میں کچھ رقم شامل نہیں کی ۔والد کے شیئرز وہی رہے یعنی 25.60%،اسد بھائی کے شیئرز بڑھ کر 24.5641% ہوگئے ،جبکہ عرفان بھائی کے شیئرز بڑھ کر 30.697% ہوگئے،قرضہ کے جو شیئرز تھے وہ بھی ویسے ہی باقی رہےیعنی 16.12%رہے۔ جن بھائیوں نے اشرف کو اسکا شیئر دیتے وقت پیسے ملائے انکےشیئرز یہ ہیں ،منصور کے٪1.093 شیئرز،حامد کے 1.925شیئرز۔

    پھر 2007 میں اسد بھائی کا انتقال ہوگیا انکے ورثاء میں ایک بیوی، ایک بیٹی اور دو بیٹے ہیں، اور انکا حصہ قانونی طور پر انکے نام اس وقت منتقل ہوگا جب بچے 18 سال کے ہوجائیں گے ۔کیونکہ اسی وقت مکان سیل ہوگا اس سے پہلے نہیں ہوسکتا۔ والدین بھی حیات ہیں۔ اس تفصیل کے بعد سوال یہ ہے کہ

    1: ماشاء اللہ والدین ابھی حیات ہیں، انکی وفات کے بعد اس مکان کی تقسیم کیسے ہوگی کیا تمام ورثاء میں پورا مکان تقسیم ہوگا یا والد کے شیئرز کے مطابق تقسیم ہوگا اسکے علاوہ بھائی کی ملک میں ہی رہے گا۔

    2: اسد کے ورثاء میں تقسیم کیسے ہوگی ۔ ہر ایک کو کتنا حصہ ملے گا۔برائے کرم اس سلسلے میں شرعی رہنمائی فرمادیں ۔ عین نوازش ہوگی۔

    سائل:سید عرفان علی:کراچی


    بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

    اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ

    : والد کی وفات کے بعد ان کی وراثت صرف ان اشیاء میں جاری ہوگی جو والد کی ملکیت میں ہونگی۔ لہذا مکان میں جس قدر حصے کے والد مالک ہیں صرف اس میں ہی انکی وراثت جاری ہوگی۔مکمل مکان میں وراثت جاری نہیں ہوگی۔کیونکہ کہ شرعی اصطلاح میں وراثت اس مال و متاع کو کہا جاتا ہے جو وفات کے وقت انسان چھوڑکر مرتا ہے، اور اسی کو ترکہ بھی کہا جاتا ہے۔التعریفات ص 42 میں ترکہ کی تعریف یوں بیان کی گئی ہے:

    ما ترك الإنسان صافيًا خاليًا عن حق الغيربعينه : ترجمہ: ترکہ وہ مال کہلاتا ہے جو انسان چھوڑ کرمرتا ہے اور اسکے ساتھ کسی دوسرے کا حق متعلق نہیں ہوتا ۔

    مجلۃ الاحکام میں ہے:تَقْسِيمُ حَاصِلَاتِ الْأَمْوَالِ الْمُشْتَرَكَةِ فِي شَرِكَةِ الْمِلْكِ بَيْنَ أَصْحَابِهِمْ بِنِسْبَةِ حِصَصِهِمْ:ترجمہ:شرکۃ الملک میں مال مشترک کی تقسیم تمام لوگوں کے حصوں کی نسبت سے ہوگی۔( مجلۃ الاحکام الفصل الثانی فی بیان کیفیۃ التصرف ج1ص206 مادہ نمبر 1073 )

    2: اسد کی وراثت اسکے ورثاء میں اس طرح تقسیم ہوگی کہ ان کے کل مال وراثت کے 120 حصے کئے جائیں گے جس میں سے 20 حصے والد کو اتنے ہی یعنی 20حصے والدہ کے، انکی بیوی کو 15 حصے دیئے جائیں گے۔ انکی بیٹی کو 13 حصے دئے جائیں گے جبکہ ہر بیٹے کو 26 حصے دیئے جائیں گے۔

    نوٹ: اس فتویٰ کی مزید تفصیل PDF میں موجود ہے ۔

    واللہ اعلم بالصواب

    کتبـــــــــــــــــــــــــــہ:محمد زوہیب رضا قادری

    الجواب الصحیح:ابوالحسنین مفتی وسیم اختر المدنی

    تاریخ اجراء:19 ذوالقعدہ 1440 ھ/23 جولائی 2019 ء