دوران حمل طلاق كا حكم
    تاریخ: 13 جنوری، 2026
    مشاہدات: 18
    حوالہ: 570

    سوال

    برائے کرم وضاحت فرمائیے کہ دوران حمل طلاق ہوجاتی ہے؟

    سائل: سروش حسین ۔طارق روڈ کراچی


    بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

    اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ

    طلاق جس حال میں دی جائےواقع ہو جاتی ہے تو دوران حمل دی جانے والی طلاق بھی واقع ہو جا ئے گی اور اسکی عدت وضع حمل (بچے کی پیدائش تک)ہے۔

    سنن ابی داود میں ہے: " ثَلَاثٌ جَدُّهُنَّ جَدٌّ، وَهَزْلُهُنَّ جَدٌّ: النِّكَاحُ، وَالطَّلَاقُ، وَالرَّجْعَةُ" ترجمہ:تین چیزیں ایسی ہیں کی سنجید گی بھی حقیقت ہےاور جن کا مذاق بھی حقیقت ہے (یعنی )نکاح ،طلاق اوررجوع۔( سنن ابی داود ، رقم:2194)

    تنویر الابصار مع الدر المختار میں ہے: وَحَلَّ طَلَاقُهُنَّ أَيْ الْآيِسَةِ وَالصَّغِيرَةِ وَالْحَامِلِ عَقِبَ وَطْءٍ لِأَنَّ الْكَرَاهَةَ فِيمَنْ تَحِيضُ لِتَوَهُّمِ الْحَبَلِ وَهُوَ مَفْقُودٌ هُنَا:ترجمہ : اوران عورتوں کو وطی کے بعدطلاق دینا حلال ہے یعنی زیادہ بوڑھی عورت ،چھوٹی بچی اور حاملہ عورت کو کیونکہ حیض والی عورت کو حمل کے شبہ کی وجہ سےطلاق دینا مکروہ ہے اور یہ بات یہاں موجود نہیں ہے ۔ ( تنویر الابصار مع الدر المختار باب رکن الطلاق ، ج:3 ص:232)

    خلا صہ یہ ہے کہ دوران حمل طلاق واقع ہوجاتی ہے ، اور اس طلاق کی عدت وضع حمل (بچہ پیدا ہونے تک ) ہے، حمل والی کی عدت کے بارے میں ارشاد باری تعالیٰ ہے:وَ اُولَاتُ الْاَحْمَالِ اَجَلُہُنَّ اَنْ یَّضَعْنَ حَمْلَہُنَّ (الطلاق: 4٤) ترجمہ: اور حمل والیوں کی عدت یہ ہے کہ اپنا حمل جن لیں۔

    واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب

    کتبـــــــــــــــــہ:محمد زوہیب رضا قادری

    الجواب الصحیح:ابوالحسنین مفتی وسیم اختر المدنی

    تاریخ اجراء:06 شعبان المعظم 1440 ھ/11 اپریل 2019 ء