سوال
میاں بیوی کا تعلق نکاح کی بدولت ایجاب و قبول سے وقوع پذیر ہوتا ہے کسی معمولی گھریلو جھگڑے پے بیوی میاں سے مندرجہ ذیل جملے اد اکرے اور ان پر قائم بھی رہے ،
1: آج سے تم میرے شوہر نہیں ہو۔
2: میں دوسری شادی کرکے تمہیں بتاؤں گی ۔
پھر اگلے دن کسی معمولی بات پر کلمہ طیبہ پڑھ کر بلند آواز سے شوہر کو سنانے کے لیے کہا '' جیسے ہی میرا کوئی ٹھکانہ بن جائے گا میں اس گھر میں نہیں رہوں گی۔قرآن و سنت کی روشنی میں اس رشتہ کے قائم رہنے کا کیا حکم ہے ؟یہ رشتہ باقی ہے یا ختم ہوگیا؟
سائل: عبدالصبور
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ
مذکورہ صورت میں مرد و عورت کے رشتہ ازوداج میں کوئی فرق نہیں آئے گا،دونوں بدستور میاں بیوی ہی ہیں کیونکہ عورت کے مذکورہ الفاظ طلاق نہیں ہوسکتے کیونکہ شرع شریف نے طلاق کا حق مرد کو تفویض فرمایا ہے عورت کویہ حق نہیں دیا ۔
قال اللہ تعالٰی :والذی بیدہ عقدۃ النکاح : ترجمہ:اور جس کے ہاتھ میں نکاح کی گرہ ہے ۔(البقرہ:238)
اس آ یت کے تحت حکیم الامت مفتی احمدیار خان نعیمی تفسیر نورالعرفان ص60پرفرماتے ہیں :معلوم ہوا کہ نکاح کی گرہ مرد کے ہاتھ میں رکھی گئی ہے ،طلاق کا اسکو ہی حق ہے عورت کو نہیں۔
یوں ہی حدیث پاک میں ہے: نَّمَا الطَّلَاقُ لِمَنْ أَخَذَ بِالسَّاقِ رواہ ابن عباس :ترجمہ : طلاق کا حق اسی کو حاصل ہے جسکو بیوی سے ہم بستری کا حق حاصل ہے۔( ابن ماجہ باب طلاق العبد ج1ص672)
یوںہی السنن الکبریٰ للبیھقی میں ہے :عَنْ عِكْرِمَةَ أَنَّ مَمْلُوكًا، أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ, فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّمَا يَمْلِكُ الطَّلَاقَ مَنْ أَخَذَ بِالسَّاقِ " ترجمہ:عکرمہ کہتے ہیں کہ ایک غلام نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس اپنی طلاق کا مسئلہ لایا (کہ اسکے آقا نے اسکی بیوی کو طلاق دے دی ہے آیا طلاق ہوئی یا نہیں؟)آپ نے ارشاد فرمایا طلاق کا مالک وہ ہے ہے جسکو بیوی سے ہم بستری کا حق حاصل ہے۔(السنن الکبریٰ للبیھقی باب طلاق العبد ج7ص591)
واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
کتبـــــــــــــــــــہ:محمد زوہیب رضا قادری
الجواب الصحیح:ابوالحسنین مفتی وسیم اخترالمدنی
تاریخ اجراء:09 شعبان المعظم 1440 ھ/15 اپریل 2019 ء