سوال
میرے شوہر کا کسی لڑکی سے تعلق تھا ، میں اس لڑکی کے گھر گئی تو اس نے مجھے اندر نہیں آنے دیا اس وقت میرے شوہر دبئی میں تھے ، انہوں نے کہا کہ تم وہاں کیوں گئی میں نے کہا آپکی اس سے بات تھی آپ نہیں بتارہے تھے تو میں اسکے گھر آگئی ۔ انہوں نے کہا یہاں سے چلی جاؤ میں نے کہامیں نہیں جاؤں گی تو انہوں نے جوابا کہا''اب میرا تمہارا تعلق ختم ، دفع ہوجاؤ''پھر بحث کے دوران دوبارہ کہا کہ'' میرا تمہارا تعلق ختم آج کے بعد سے اور میں کال پہ بول رہا ہوں سن لو اور بس''
مذکورہ صورت میں طلاق واقع ہوئی یا نہیں ؟ اگر ہوئی تو کتنی؟
نوٹ: شوہر سے بذریعہ واٹساپ بات ہوئی اور ان سے میسج کے اسکرین شارٹس طلب کئے تو ان میں یہی بات تھی اور یہ کہ شوہر کا کہنا تھا کہ میری طلاق کی نیت نہیں تھی ۔بلکہ میں نے ڈرانے کے لئے کہا تھاتاکہ وہ وہاں سے واپس چلی جائے۔
سائل:عبداللہ:کراچی
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ
مذکورہ صورت حال میں عورت کو مرد کی طرف سے کوئی طلاق واقع نہیں ہوئی۔
کیونکہ اگرطلاق صریح الفاظ کے ذریعے ہو تو بغیر نیت کے واقع ہوجاتی ہے اور اگر کنایہ کے الفاظ ہوں تو طلاق واقع ہونے کے لیے ضروری ہے کہ طلاق کی نیت ہو یا مذاکرہ طلاق ہویا حالت غصہ میں کہا ہو یعنی مرد کی حالت بتاتی ہو کہ طلاق مراد ہے،یہاں بھی مرد کے الفاظ ''اب میرا تمہارا تعلق ختم ، دفع ہوجاؤ''الفاظ کنایہ میں سے ہے ، جس کے لیے بھی طلاق کی نیت یا حالت(مذاکرہ طلاق یا حالت غصہ)ضروری و لازم ۔جبکہ یہاں مرد نے نیت کا انکار کیا ہےلہذا قضاء اسکی بات کا اعتبار کرتے ہوئے طلاق کے وقوع کا حکم نہیں دیں گے۔
تنویرالابصار مع الدر المختار میں ہے:(كِنَايَتُهُ) عِنْدَ الْفُقَهَاءِ (مَا لَمْ يُوضَعْ لَهُ) أَيْ الطَّلَاقِ (وَاحْتَمَلَهُ) وَغَيْرَهُ (فَ) الْكِنَايَاتُ (لَا تَطْلُقُ بِهَا) قَضَاءً (إلَّا بِنِيَّةٍ أَوْ دَلَالَةِ الْحَالِ) وَهِيَ حَالَةُ مُذَاكَرَةِ الطَّلَاقِ أَوْ الْغَضَبِ :ترجمہ:فقہاء کے نزدیک کنایہ وہ الفاظ ہیں جن کو طلاق کے لیے وضع نہ کیا گیا ہو بلکہ وہ طلاق اور اسکے علاوہ کا بھی احتمال رکھیں ان الفاظ سے نیت یا دلالت حال کے ساتھ ہی طلاق واقع ہوگی اور دلالت حال مذاکرہ طلاق اور غصے کی حالت ہے۔( تنویرالابصار مع الدر المختار باب الکنایات ،جلد 3ص300 الشاملہ)
اسی میں ہے :نحواخرجی یحتمل رداونحوخلیۃ یصلح سبا ونحو انت حرۃ لایحتمل السب والرد ففی حالۃ الرضاای غیر الغضب والمذاکرۃ تتوقف الاقسام الثلثۃ تاثیرا علی نیۃ للاحتمال :ترجمہ: ''نکل جا'' جیسے الفاظ رد وجواب سوال طلاق کا احتمال رکھتے ہیں، خلیہ۔ جیسے الفاظ گالی ہونے کااحتمال رکھتے ہیں، اور '' تو آزاد ہے'' جیسے الفاط سب ودشنام اور جواب ہونے کا احتمال نہیں رکھتے، توحالت رضامندی میں یعنی غصہ کی حالت میں نہ ہو اور مذاکرہ طلاق بھی نہ ہو تو یہ تینوں قسم کے کنایا ت کی تاثیر نیت پر موقوف ہوگی، کیونکہ نیت اور عدم نیت کا احتمال ہے۔(ایضا)
پھر یہ الفاظ سب و جواب کے محتمل ہیں جن کا حکم یہ ہے کہ اگر چہ حالتِ غضب(غصہ) ہیں کیوں نہ ہو ایسے الفاظ میں نیت ضروری ہے۔بلانیت طلاق واقع نہ ہوگی۔
جیساکہ سیدی اعلٰی حضرت ارشاد فرماتے ہیں:و قولہ '' تعلق نہیں " یحتمل السب کما حققناہ فی جدالممتار والحال حال الغضب فلایحکم بالطلاق الااذا اقر بالنیّۃ۔ترجمہ:اور خاوند کا کہنا'' تعلق نہیں''سب (ڈانٹ) کا احتمال رکھتا ہے جیسا کہ ہم نے جدالممتار حاشیہ ردالمحتار میں تحقیق کی ہے جبکہ حالت بھی غضب والی ہے تو اس وقت تک طلاق کا حکم نہ ہوگا جب تک طلاق کی نیت کا اقرارنہ کرے۔(فتاوٰی رضویہ، کتاب الطلاق، جلد 12 ص 617 رضا فاؤنڈیشن لاہور۔)
ایک اور مقام پر اسی طرح کے الفاظ کے بارے میں لکھتے ہیں: ''مجھے تجھ سے کوئی واسطہ نہیں''یہ ضرور کنایاتِ طلاق سے ہے۔کقولہ لم یبق بینی وبینک شیئ(جیسا کہ یُوں کہے میرے اور تیرے درمیان کچھ نہیں ہے)۔(فتاوٰی رضویہ، کتاب الطلاق، جلد 12 ص 608 رضا فاؤنڈیشن لاہور۔)
واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
کتبـــــــــــــــــــــــــــہ:محمد زوہیب رضا قادری
الجواب الصحیح :ابوالحسنین مفتی وسیم اختر المدنی
تاریخ اجراء:15 ذوالقعدہ 1442 ھ/26 جون 2021 ء