سوال
السلام علیکم
جناب اعلیٰ ہم چھ بہن بھائی ہیں ،2بھائی او ر4 بہنیں ،والدہ کو طلاق ہوگئی تھی تو ایک بہن شروع سے انکے پاس رہی ،ہن دونوں بھائیوں نے شروع سے کام کیا ہے اپنی اور اپنے گھر کی ذمہ داری سنبھالی ہے،بقیہ تینوں بہنوں کی شادی کی ہے۔ہمارا گھر پلاٹ کی صورت میں تھا اور ہم دوونوں نے اسکو مل کر بنایاہے ،سب بہن بھائی شادی شدہ ہیں ،ہم دونوں پرائیویٹ نوکری کرتے ہیں ،6 سال پہلے والد نے گھر ہم دونوں کے نام پر گفٹ کردیا تھا ، اور ہم نے وہ مکان لے کر کرائے پر دے دیا تھا ،اب ہم نے وہ گھر سیل کیا تو بہنیں اپنا حصہ مانگ رہی ہیں ، اور والد صاحب نے ہمیں گفٹ کیا تھا اور والد صاحب ابھی بھی زندہ ہیں ماشاء اللہ سے، اس کا کیا حل ہے ؟
سائل: توصیف
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ
اگر معاملہ ایسا ہی ہے جیسا سوال میں مذکور ہوا کہ والد صاحب نے مکان آپ دونوں بھائیوں کوگفٹ کردیا تھا اور آپ نے اس مکان پر قبضہ کرکے اسکو کرائے پر چڑھا دیا تھا اور دونوں بھائیوں نے اپنا اپنا حصہ الگ الگ نہیں کیا تھا تو شرعا یہ ھبہ تام نہیں ہوا،
تنویرالابصار مع الدرالمختار کتاب الھبہ جلد 5ص688 میں ہے:وَ) شَرَائِطُ صِحَّتِهَا (فِي الْمَوْهُوبِ أَنْ يَكُونَ مَقْبُوضًا غَيْرَ مَشَاعٍ مُمَيَّزًا غَيْرَ مَشْغُولٍ)ترجمہ:اور ھبہ (گفٹ) کے موہوب ( گفٹ کی گئی چیز) میں صحیح ہونے کی شرائط یہ ہیں کہ وہ چیز قبضہ میں ہو، اور غیر مشاع ہو (یعنی ایسی مشترک چیز نہ ہو جس میں شریکوں کے حصے ممتاز نہ ہوں)اور ممیز ہو(یعنی جدا اور نمایاں ہو) اور غیر مشغول ہو۔
سو جب یہ مکان آپ کے اور آپ کے بھائی کے درمیان مشترک تھا اور آپ دونوں نے مشاع یعنی مشترکہ مکان کی تقسیم کیے بغیر قبضہ کیا تو تو ھبہ تام نہیں ہوا ،اور اس چیز میں موہوب لہ( جس کو گفٹ کیا گیا ہےیعنی آپ دونوں بھائیوں ) کی ملکیت ثابت نہیں ہوئی ۔
بدائع الصنائع کتاب الطہارۃ فصل فی بیان ما ینتقض التیمم جلد 1ص57 میں ہے :لِأَنَّ هِبَةَ الْمُشَاعِ فِيمَا يَحْتَمِلُ الْقِسْمَةَ لَا تَصِحُّ فَلَمْ يَثْبُتْ الْمِلْكُ رَأْسًا.ترجمہ:کیونکہ مشاع کا ہبہ ان چیزوں میں جو تقسیم ہوسکتی ہیں صحیح نہیں ہے ، لہذا ملکیت اصلا ثابت نہ ہوگی۔
خلاصہ یہ ہے کہ آپ کے والد نے جو مکان آپ دونوں کو گفٹ کیا ،آپ دونوں بھائیوں نے اپنا اپنا حصہ الگ الگ نہیں کیا تھا تو شرعا یہ ھبہ تام نہیں ہوا، لہذا وہ مکان آپ کے والد کی ملکیت تھا ،آپ نے بیچ دیا تو اسکی قیمت کے مالک بھی آپ کے والد ہیں ، اور جب تک وہ زندہ ہیں وہ سب پیسے ان کے ہیں ،ان میں کوئی بھی حصہ کا مطالبہ نہیں کر سکتا البتہ وہ خود جسکو دینا چاہیں دے سکتے ہیں ، لیکن یہ شرعا ََتقسیم میراث نہیں بلکہ گفٹ یا ہبہ کہلائے گا تواس میںبہتر یہ ہے کہ سب اولاد لڑکے ،لڑکی کوبرابر برابر دیا جائے لیکن اگر وراثت کے تناسب سے یعنی لڑکے کو دو حصہ اور لڑکی کو ایک حصہ دیا جائے تو یہ بھی جائز ہے، اور کسی خاص وجہ سے مثلاً کوئی اولاد زیادہ غریب، یا دین دار یا خدمت گذار ہے اس لیے اسے زیادہ دیدے یہ بھی جائز ہے۔
البحر الرائق شرح کنز الدقائق کتاب الفرائض باب یبدأ من ترکۃ المیت جلد 8ص557میں ہے:وَأَمَّا بَيَانُ الْوَقْتِ الَّذِي يَجْرِي فِيهِ الْإِرْثُ فَنَقُولُ هَذَا فَصْلٌ اخْتَلَفَ الْمَشَايِخُ فِيهِ قَالَ مَشَايِخُ الْعِرَاقِ الْإِرْثُ يَثْبُتُ فِي آخِرِ جُزْءٍ مِنْ أَجْزَاءِ حَيَاةِ الْمُوَرِّثِ وَقَالَ مَشَايِخُ بَلْخٍ الْإِرْثُ يَثْبُتُ بَعْدَ مَوْتِ الْمُوَرِّثِ:ترجمہ:وہ وقت کہ جس میں وراثت جاری ہوتی ہے ، اس میں ہمارے علماء کا اختلاف ہے ،عراق کے علماء فرماتے ہیں کہ وراثت اس وقت ثابت ہوگی جب میت کی زندگی کا آخری لمحہ ہو ،اور بلخ کے علماء فرماتے ہیں کہ مورث (جسکی وراثت ہے) کی موت کے بعد وراثت ثابت ہوگی۔
یوںہی شامی کتاب الفرائض ج6 ص758 میں ہے:وَشُرُوطُهُ: ثَلَاثَةٌ: مَوْتٌ مُوَرِّثٍ حَقِيقَةً، أَوْ حُكْمًا كَمَفْقُودٍ، ترجمہ: اور وراثت کی تین شرطیں ہیں ۔ پہلی شرط یہ مورث کی موت ہے ، حقیقتاََ مر جائے یا حکماََ جیسے مفقود شخص ۔
خلاصہ یہ ہے کہ وہ مکان جو والد صاحب نے آپکو گفٹ کیا تھاوہ مشاع (یعنی ایسی مشترک چیز نہ ہو جس میں شریکوں کے حصے ممتاز نہ ہوں)ہونے کے سبب آپکی ملکیت میں نہیں آیا تھا ، اور اب جب کہ آپ وہ مکان بیچ چکے تو اسکی قیمت کے مالک والد صاحب ہیں ، انکی زندگی میں ان پیسوں میں وراثت جاری نہیں ہوگی ، مگر وہ چاہیں تو تقسیم کر سکتے ہیں ، لیکن یہ شرعا ََتقسیم میراث نہیں بلکہ گفٹ یا ہبہ کہلائے گا۔
واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب
کتبـــــــــــــــــــــــــــہ:محمد زوہیب رضا قادری
الجـــــواب صحــــیـح:ابو الحسنین مفتی وسیم اختر المدنی