سوال
میری ہاں چار ماہ قبل بچی کی پیدائش ہوئی ہے ، جو کہ انتہائی کمزور ہے پیدائش کےوقت اسکا وزن ڈھائی کلو تھا چار ماہ میں صرف ایک کلو بڑھا ہے ، ڈاکٹر کا کہنا ہے کہ ماں کا دودھ پلانا لازم ہے روزے کی صورت میں دودھ میں کمی آجائے گی ۔جو بچے کے لئے مزید کمزوری پیدا کردے گی جو کہ شدید نقصان کا سبب بنے گی، اب رمضان میں میرے روزوں کا کیا حکم ہوگا؟ تفصیلاً تحریر فرمادیں۔ جزاک اللہ
سائل: عائشہ عمیر : کراچی
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ
جب ڈاکٹر کے مطابق روزہ رکھنے کی صورت میں عورت کے دودھ کمی آجائے گی جو کہ بچے کے لئے شدید نقصان کا باعث ہوگی ، تو ایسی صورت میں عورت کو روزہ ترک کرنے کی اجازت ہے۔
کیونکہ اگر روزہ رکھنے کی صورت میں عورت کو اپنی جان یا اسکے بچے کی جان کو نقصان پہنچنے، یا بیمار ہوجانے یا شدید مشقت میں پڑ جانے کا غالب گمان ہو، تو اس صورت میں عورت کو روزہ چھوڑنا جائز ہے لیکن بعد میں اس روزے کی قضا لازم ہوگی۔غالب گمان سے مراد یہ ہے کہ یا تو مذکورہ امور میں سے کسی کی علامت ظاہر ہو یا عورت کا اپنا سابقہ تجربہ ہو یا کسی ماہر ڈاکٹر (جو بظاہر دیندار ہو) نے کہا ہو ۔ہاں۔۔۔۔! بیماری یا ہلاکت وغیرہ کا محض خیال کافی نہیں ، بلکہ مذکورہ طریقوں میں سے کسی طریقے سے غالب گمان کا حاصل ہوجانا ضروری ہے۔
ترمذی شریف میں حدیث پاک ہے: إن اللہ تعالى وضع عن المسافر الصوم وشطر الصلاة وعن الحامل أو المرضع الصوم۔ترجمہ: بے شک اللہ تعالی نے مسافر سے روزے اور نماز کے ایک حصے کو اٹھا دیا ہے اور حاملہ اور دودھ پلانے والی سے بھی روزے اٹھا دیے ہیں ۔ ( سنن ترمذی، کتاب الصوم ،حدیث نمبر715 )
ملتقی الابحر میں ہے: حامل او مرضع خافت علی نفسھا او ولدھا تفطر وتقضی۔ترجمہ:حاملہ یا دودھ پلانے والی کو اپنی یا بچے کی جان کا خوف ہو تو روزہ نہ رکھے اور (بعد میں) قضا کرے۔(ملتقی الابحرمع مجمع الانھر، کتاب الصوم، جلد1، صفحہ 369، مطبوعہ کوئٹہ)
تنویر میں ہے: (حامل أو مرضع خافت بغلبة الظن على نفسها أو ولدها الفطر وقضوا) لزوما۔ ترجمہ: حاملہ یا دودھ پلانے والی کو اپنی یا بچے کی جان کا غالب گمان کے مطابق خوف ہو تو ان کے لئے روزہ چھوڑنا جائز ہے اور (بعد میں) قضا کرے۔(تنویر الابصار مع الدر ، جلد 2 ص 422)
اعلی حضرت امام اہلسنت الشاہ امام احمد رضا خان علیہ الرحمۃ فتاوی رضویہ میں فرماتے ہیں:”حاملہ کو بھی مثلِ مرضعہ روزہ نہ رکھنے کی اجازت اسی صورت میں ہے کہ اپنے یا بچّے کے ضرر کا اندیشہ غلبہ ظن کے ساتھ ہونہ کہ مطلقاً ۔“(فتاوی رضویہ، جلد10، صفحہ 597، رضا فاؤنڈیشن، لاھور)
صدر الشریعہ مفتی امجد علی اعظمی لکھتے ہیں:ان صورتوں میں غالب گمان کی قید ہے ،محض وہم ناکافی ہے۔ غالب گمان کی تین صورتیں ہیں: اس کی ظاہر نشانی پائی جاتی ہے یااس شخص کا ذاتی تجربہ ہے یا کسی مسلمان طبیب حاذق مستور یعنی غیر فاسق نے اُس کی خبر دی ہو۔(بہار شریعت، جلد1، صفحہ 1003، مکتبۃ المدینہ، کراچی )۔
واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
کتبـــــــــــــــــــــــــــہ: محمد زوہیب رضا قادری
الجـــــواب صحــــیـح:ابو الحسنین مفتی وسیم اختر المدنی
تاریخ اجراء:02 رمضان المبارک 1443 ھ/04 اپریل 2022 ء