وارثین کا حق مارنا
    تاریخ: 31 دسمبر، 2025
    مشاہدات: 13
    حوالہ: 498

    سوال

    میرا نام عاطف احمد ہے اور میرا تعلق کراچی سے ہے ہم 6بھائی بہن ہیں تفصیل Annexureمیں لگی ہے (اور وہ یہ ہیں:ایک ماں،چار بہنیں اور ایک بھائی)۔ میرے والد صاحب کا 2018 میں انتقال ہو چکا ہے۔میرے والد صاحب کی ایک ہی بہن تھیں(باقی وارثین میں اپنی زوجہ اور اولاد تھی)جن کا 2013 میں انتقال ہوا تھا ۔

    میری پھوپھو (عین النساء) نے اپنے بھائی(عاکف احمد) کی مدد (مالی مدد)سے ملیر میں ایک زمین خریدی تھی اور اس کی سیل ڈیڈ بھی ان ہی کے نام پر ہے(جس پر عین النساء نے گھر بھی تعمیر کیا)۔میری پھوپھو کی کوئی اولاد نہیں تھی (وارثین میں صرف شوہر اور ایک بھائی تھے) ان کے انتقال کے بعد ان کے شوہر عبدالشکور نے عدالت سے یہ زمین اپنے نام کروا لی تھی۔زمین کا انتقال عبدالشکور نے میرے والد عاکف احمد جو کہ اپنی بہن کے اکلوتے بھائی تھے ان کی نالج میں لائے بغیر کیا۔زمین کا یہ ٹرانسفر ہمیں ان کے انتقال کے بعد پتہ چلا (عبدالشکور کا انتقال 2015 میں ہوا)۔

    میری پھوپھو (عین النساء)اور پھوپھا (عبد الشکور) کے انتقال کے بعد اس پراپرٹی کی دیکھ بھال اور زمینداری میرے والد (عاکف احمد) کے پاس آ گئی تھی۔میرے والد نے ان دونوں (پھوپھا اور پھوپھی)کے انتقال کے بعد یہ پراپرٹی جب اپنے نام کروانی چاہیے تو پتہ چلا کہ پھوپھا عبدالشکور مرحوم یہ اپنے نام کروا چکے ہیں اور عدالتی کاروائی اور عدالتی سلسلے کے بعد یہ کارروائی ہوگی کیونکہ نہ تو پھوپھا عبدالشکور کا کوئی بھائی بہن موجود تھا، نہ کبھی ان سے کوئی ملنے آیا کہ پتہ چلتا کہ ان کا کوئی رشتہ دار حیات ہے، نہ ان کی کوئی اولاد تھی جو وارث بنتی(یونہی کوئی وارث بھی نہیں تھا)۔

    ابھی یہ کیس چلا ہی تھا کہ میرے والد عاکف احمد انتقال کر گئے اور یہ ذمہ داری میرے حصے میں آ گئی (عاکف احمد کا انتقال 2018 میں ہوا)۔ عدالتی کارروائی پھر سے شروع ہوئی جس میں عاطف احمد (پوری فیملی سمیت) پٹیشنر تھے۔اسی اثناء میں پتہ چلا کہ کیس میں ایک فریق بھی آ گیا ہے ،اس کا نام محمد فراز ہے،ان کے والد میرے والد کے ماموں زاد بھائی تھے یعنی ڈائریکٹ بلڈ ریلیشن کوئی نہیں تھا،یہ ابوکے کزن لگے اور فراز ان کا بیٹا تھا ان کے مطابق اس فیملی کا بھی اس پراپرٹی میں برابر کا حصہ ہے اور ان کو بھی وارث قرار دیا جائے۔

    جناب والا یہ پراپرٹی میرے والد کے پیسوں سے میری پھوپھو نے خریدی تھی جو کہ جعل سازی سے میرے پھوپھا نے اپنے نام کروالی اور اب سونے پر سہاگا کہ کچھ ایسے لوگ جن کا کوئی بلڈ ریلیشن بھی نہیں ہے وہ اس میں حصے کے لیے پَر تول رہے ہیں۔اس سلسلے میں فتوی درکار ہے کہ یہ پراپرٹی کے صحیح وارث شریعت کے ساتھ سے کون ہونے چاہیے؟

    عاطف احمد اور اہل خانہ(وارثین کون کون ہیں؟؟)؟ یا فراز رفعی اور اہل خانہ؟یا دونوں فیملیز؟یا دونوں اہل خانہ اہل نہیں؟

    یاد رہے کہ عبدالشکور (جن کا کوئی وارث نہیں)جن کے نام یہ پراپرٹی ہے ان سے میرا (عاطف احمد) اور محمد فراز کا کوئی بلڈ ریلیشن نہیں ہے۔البتہ پھوپھو (عین النساء )جن کے نام یہ پراپرٹی خریدی گئی وہ میرے والد کی واحد سگی بہن تھی مگر فراز کا کوئی ڈائیرکٹ رشتہ نہیں ہے۔ ہماری رہنمائی کی جائے۔

    سائل:عاطف احمد،کراچی۔


    بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

    اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ

    عبدالشکور کا دیگر وارثین کی اجازت کے بغیر پراپرٹی اپنے نام کرنا اور اس پر قبضہ کرنا شرعاً جائزنہیں تھا ، اس کی وجہ سے وہ گناہ گار ہوئے۔ اور انہیں اس زمین میں ملکیت بھی حاصل نہیں ہوئی ،لہذا عین النساء کے دیگر ورثاء پر پھر ان کی اولاد پر مذکورہ زمين حوالہ کرنا شرعاً لازم ہوا۔کیونکہ وراثت کے مال میں تمام شرعی وارثوں کی ملکیت مشترکہ طور پر ثابت ہوتی ہے اور جب تک شرعی طور پر صحیح اور نافذ تقسیم نہ ہوجائے اس وقت تک مال موروث کے کسی معین جز یا حصہ میں کسی خاص وارث کی تنہا ملکیت ثابت نہیں ہوتی ہے، بلکہ ہر چھوٹے سے چھوٹے ذرہ یا ٹکڑے میں مشترکہ طور پر سب مالک ہوتے ہیں۔

    آپ کی پھوپھی کی میراث کے حقدار انکے وارثین میں شوہراور بھائی تھے کہ آپ کی پھوپھی کے انتقال کے وقت انکے شوہر (یعنی آپ کے پھوپھا عبد الشکور)اور بھائی حیات تھے کہ پھوپھی کا انتقال 2013میں ہوا جبکہ پھوپھا عبدالشکور کا انتقال2015اور عاکف احمد کا انتقال 2018میں ہوا،لہذا شرط ِوراثت پائی گئی۔پھر وہ میراث ان دو کے انتقال کے بعد ان کی وارثین میں تقسیم ہوگی۔چونکہ عبد الشکورکے وارثین میں کوئی موجود نہیں لہذا آپ کے والد کی میراث ان کے وارثین میں تقسیم ہوگی۔البتہ براہِ راست پھوپھی کی میراث کا حق دار کوئی بھتیجا نہیں ہوتا۔

    رہامحمد فراز کا دعوی ِ وراثت تو وہ درست نہیں کہ عین النساء کے قریبی وارث عاطف احمد اور اہل خانہ موجود ہیں۔

    نیز اس ترکہ کی تقسیم میں مورث (عین النساء)کے انتقال کے بعداگر وہی ورثاء ہیں (یعنی ایک بھائی اور شوہر)جو سوال میں مذکور ہیں توامور متقدمہ علی الارث کے بعد یعنی مرحومہ کے کفن دفن کے اخراجات اور قرضوں کی ادائیگی اور اگر کسی غیر وارث کے لئے وصیت کی ہو تو اس کو مرحومہ کے تہائی مال سے پورا کرنے کے بعد تمام ترکہ کے کل 2حصے کئے جائیں گےجن میں سے1حصے مرحومہ کی شوہرکو ملے گااور بقیہ 1 حصہ بھائی کو دیا جائے گا۔

    2

    میــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــت

    شوہر بھائی

    نصف عصبہ

    1 1

    پھر چونکہ شوہر عبد الشکور کا انتقال ہوچکا ہے اور یہ حصہ لینے والا کوئی نہیں لہذا اسے فقراء پر صدقہ کیا جائے گا بقیہ 1 حصہ جو عین النساء کے بھائی یعنی عاکف احمد کو ملا وہ ان کے وارثین میں تقسیم ہوگا۔یعنی امور متقدمہ علی الارث کے بعد عاکف احمد کے تمام ترکہ کےکل 64حصے کئے جائیں گےجن میں سے8 حصے مرحوم کی زوجہ کو ملیں گے اور 28 حصے بیٹوں کو ملیں گے ہر بیٹے کو 14 حصے اور بیٹیوں کو 28حصے ملیں گے ہر بیٹی کو 7 حصے دئے جائیں گے۔

    8×8=64

    میــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــت

    زوجہ 2بیٹے 4بیٹیاں

    ثمن عصــــــــــــــــــــــــبہ

    1×8=8 7×8=56

    فی کس:14 فی کس:7

    دلائل و جزئیات:

    السراجی فی المیراث میں ہے : "تتعلق بترکۃ المیت حقوق اربعۃ مرتبۃ : الاول یبدا بتکفینہ وتجھیزہ من غیر تبذیر ولا تقتیر، ثم تقضی دیونہ من جمیع ما بقی من مالہ ، ثم تنفذ وصایا ہ من ثلث ما بقی بعد الدین ، ثم یقسم الباقی بین ورثتہ ".ترجمہ:میت کے ترکہ کے ساتھ ترتیب وار چار حقوق متعلق ہیں: مناسب تجہیز و تکفین سے ابتدا کی جائے گی ، پھر بقیہ مال سے اس کے قرضے ادا کئے جائیں گے ، قرضوں کی ادائیگی کےبعد بقیہ مال کے ثلث سے وصیت کو نافذ کیا جائے گا ،پھر باقی ترکہ ورثاء کےدرمیان تقسیم کیا جائے گا۔( السراجیۃ مع القمریۃ،ص:11/12،مکتبۃ المدینہ العلمیہ کراچی)

    قرآنِ مجید میں زوجہ کے حصے کے متعلق اللہ تبارک وتعالیٰ کا ارشاد ہے: وَلَهُنَّ الرُّبُعُ مِمَّا تَرَكْتُمْ إِن لَّمْ يَكُن لَّكُمْ وَلَدٌ فَإِن كَانَ لَكُمْ وَلَدٌ فَلَهُنَّ الثُّمُنُ مِمَّا تَرَكْتُم مِّن بَعْدِ وَصِيَّةٍ تُوصُونَ بِهَا أَوْ دَيْنٍ.ترجمہ:تمہارے ترکہ میں عورتوں کا چوتھائی ہے اگر تمہارے اولاد نہ ہو پھر اگر تمہارے اولاد ہو تو ان کا تمہارے ترکہ میں سے آٹھواں۔(النساء:12)

    لڑکے لڑکیوں کے بارے میں ارشاد باری تعالی ہے:یُوصِیکُمُ اللَّہُ فِی أَوْلَادِکُمْ لِلذَّکَرِ مِثْلُ حَظِّ الْأُنْثَیَیْنِ۔ترجمہ: اللہ تعالی تمہیں حکم دیتا ہے تمہاری اولاد کے بارے کہ بیٹے کا حصہ دو بیٹیوں برابر ہے۔(النساء : 11)

    مفتی محمد خلیل خان برکاتی (المتوفی:1405ھ) فرماتے ہیں:’’متوفی کے کسی جائز وارث کا پتہ نہ چل سکے تو اس جھگی کے ملبے سے حاصل شدہ رقم غرباء و مساکین پر اور کسی دینی مدرسہ کے غریب طلباء پر صرف کرسکتے ہیں بلکہ اب یہ انہیں مساکین و غرباء کا حق ہے‘‘۔(فتاوی خلیلیہ،3/379،ضیاء القرآن پبلی کیشنر)

    مفتی محمد وقار الدین (المتوفی:1413ھ) فرماتے ہیں:’’اس زمانے میں بیت المال کا نظام نہیں ہے، اس لئے صدقہ کر دیا جائے‘‘۔(بہار شریعت،3/1112،مکتبۃ المدینہ کراچی)

    وارثین کا حق مارنا ظلم شدید ہے:

    قرآن مجید میں اللہ کریم ارشاد فرماتا ہے :"وَتَأْکُلُونَ التُّرَاثَ أَکْلًا لَمًّا وَتُحِبُّونَ الْمَالَ حُبًّا جَمًّاکَلَّا إِذَا دُکَّتِ الْأَرْضُ دَکًّا دَکًّا وَجَاء َ رَبُّکَ وَالْمَلَکُ صَفًّا صَفًّا وَجِیء َ یَوْمَئِذٍ بِجَہَنَّمَ یَوْمَئِذٍ یَتَذَکَّرُ الْإِنْسَانُ وَأَنَّی لَہُ الذِّکْرَی یَقُولُ یَا لَیْتَنِی قَدَّمْتُ لِحَیَاتِی فَیَوْمَئِذٍ لَا یُعَذِّبُ عَذَابَہُ أَحَدٌ وَلَا یُوثِقُ وَثَاقَہُ أَحَدٌ".ترجمہ: اور میراث کا مال ہپ ہپ کھاتے ہو اور مال کی نہایت محبت رکھتے ہو ہاں ہاں جب زمین ٹکرا کر پاش پاش کردی جائے گی اور تمہارے رب کا حکم آئے اور فرشتے قطار قطار (ہونگے)اور اس دن جہنّم لائی جائے اس دن آدمی سوچے گا اور اب اسے سوچنے کا وقت کہاں کہے گا ہائے کسی طرح میں نے جیتے جی نیکی آ گے بھیجی ہوتی تو اس دن اس کا سا عذاب کوئی نہیں کرتا اور اس کا سا باندھنا کوئی نہیں باندھتا۔ (الفجر :17تا 25)

    ظلماً مال غصب کرنے پر حدیث پاک میں بڑی وعید آئی ہے، نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا :" مَنِ اقْتَطَعَ شِبْرًا مِنَ الْأَرْضِ ظُلْمًا، طَوَّقَهُ اللهُ إِيَّاهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ مِنْ سَبْعِ أَرَضِينَ ".ترجمہ:جو شخص(کسی کی) زمین کا ایک بالشت ٹکڑا بھی ظلماً (یعنی ناحق) لے گا، تو اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اسے (سزا کے طور پر) سات زمینوں کا طوق پہنائے گا۔(صحیح مسلم،کتاب الطلاق،باب تحريم الظلم وغصب الأرض وغيرہا،3/1230،رقم:1610،دار احیاء التراث العربی)

    ملکیتِ غیر میں تصرف ناجائز ہے:

    قال الله تعالى: وَ لَا تَاْكُلُوْۤا اَمْوَالَكُمْ بَیْنَكُمْ بِالْبَاطِلِ۔ترجمہ: اور آپس میں ایک دوسرے کا مال ناحق نہ کھاؤ۔(البقرة: 188)

    آیت ِمذکور کے تحت علامہ ابو عبد اللہ محمد بن احمد شمس الدین القرطبی (المتوفی:671ھ) فرماتے ہیں: "والمعنى: لا يأكل بعضكم مال بعض بغير حق. فيدخل في هذا: القمار والخداع والغصوب وجحد الحقوق، وما لا تطيب به نفس مالكه، أو حرمته الشريعة وإن طابت به نفس مالكه ".ترجمہ:اس آیت کا معنی یہ ہے کہ بعض، بعض کا مال ناحق نہ کھائے۔ اس میں جوا، دھوکا، غصب، حقوق سے انکار اور ایسی چیز جس کے دینے پر مالک خوش نہیں ہے یا ایسی چیز جس کو شریعت نے حرام کیا ہے اگرچہ مالک خوشی سے دینے پر راضی بھی ہو۔ (الجامع لاحکام القرآن،2/338،تحت سورۃ البقرۃ:188،دار الکتب المصریۃ)

    علامہ عثمان بن علی فخر الدین الزیلعی (المتوفی:743ھ) فرماتے ہیں: "وَكُلُّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا أَجْنَبِيٌّ فِي نَصِيبِ صَاحِبِهِ حَتَّى لَا يَجُوزَ لَهُ أَنْ يَتَصَرَّفَ فِيهِ إلَّا بِإِذْنِهِ".ترجمہ:ان میں سے ہر ایک دوسرے کے حصہ میں اجنبی کی طرح ہے حتی کی ایک کو دوسرے کے حصے میں اسکی اجازت کے بغیر تصرف کرنا جائز نہیں ہے۔(تبیین الحقائق شرح کنز الدقائق،کتاب الشرکۃ،3/313،المطبعۃ الکبری الامیریۃ) ۔واللہ تعالٰی اعلم بالصواب

    کتبـــــــــــــــــــــــــــــه:ابو امير خسرو سيد باسق رضا

    الجـــــواب صحــــيـح:ابو الحسنينن مفتي وسيم اخترالمدني

    تاريخ اجراء: 30 رمضان المبارک1444 ھ/21 اپریل 2023ء