سوال
کان میں دوا ڈالنے سے روزہ ٹوٹے گا ےا نہیں جبکہ جدید تحقیق سے ثابت ہوچکا ہے کہ کان اور دماغ کے درمیان منفذ نہیں ہے؟
سائل: ابو عبدالرحمان موسیٰ: کراچی
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ
اب اس زمانے میں جبکہ جدید تحقیق سے ثابت ہوچکا ہے کہ کان اور دماغ کے درمیان منفذ نہیں ہے ،کان میں دوا ڈالنے سے روزہ نہیں ٹوٹے گا۔
ہمارے متقدمین فقہاء کے مطابق کان میں دوا وغیرہ ڈالنے سے روزہ ٹوٹ جائے گا ، ہمارے متون اور دیگر امہات الکتب میں اسی بات پر نص موجودہے کہ کان مین دوا ڈالنے سے روزہ ٹوٹ جائے گا ،اسکی علت کے بیان میں کئی کتب میں ا س بات کی صراحت ہے کہ کان میں دوا ڈالنے سے دوا دماغ کی طرف منتقل ہوجاتی ہے ،اور دماغ سے حلق کی طرف راستہ ہونے کی بنا پر دوا حلق یا معدے میں جائے گی ، اور حلق یا معدے میں جانے سے روزہ ٹوٹ جائے گا۔اس سے معلوم ہوا کہ فقہاء کے نزدیک بھی کان میں دوا ڈالنے سے روزہ فاسد ہونے کی اصل وجہ یہ ہے کہ دوا جوف تک پہنچ جاتی ہے، اور جوف تک پہنچنا روزہ ٹوٹنے کی اصل علت ہے۔
فتح القدیرمیں ہے :'' ففی الاکل الفطر معنیَ وصول مافیہ صلاح البدن الی الجوف ''ترجمہ: پس اکل (کھانے )میں معنی فطر یہ ہے کہ اس چیز کا پیٹ تک پہنچنا جس میں بدن کا نفع ہو۔( فتح القدیر باب ما یوجب القضاء والکفارۃ ج4ص355)
سو معلوم ہوا کہ اسکی علت دوا کا وصول الی الجوف ہے۔ اور ہمارے متقدمین فقہاء کی کتب اسی سے مملو ہیں ۔
چنانچہ جامعہ اشرفیہ مبارک پور کی مجلس شرعی کے فیصلوں میں ہے :کان میں تیل ڈالنا بالاتفاق ائمہ اربعہ مفسد صوم ہے یہی حکم کان میں دوا ڈالنے کابھی ہے ہمارے مذہب کے متون ، شروح ، فتاوی سب میں اسکی صراحت موجود ہے ،اور دیگر مذاہب کا بھی اس پر اتفاق ہے اس لئے یہ ایک اجماعی مسئلہ ہے جس سے عدول کی گنجائش نہیں۔(مجلس شرعی کے فیصلہ 31 ص 285)
مگر اب ایک عرصہ سے تمام اطباء اور تشریحِ ابدان کے ماہرین اس بات پر متفق ہیں کہ کان کے اندر سے دماغ تک کوئی راستہ موجود نہیں ہے اور اس بات پر بھی سارے اطباء اور ماہرین متفق ہیں کہ عام صحت مند آدمی کے کان سے حلق تک بھی کوئی ایساراستہ کھلا ہو انہیں ہے کہ جس سے دوا یا پانی حلق میں خود بخود جاسکے ، کیونکہ کان کے آخر میں ایک باریک مگر مضبوط پردہ ہے جس نے حلق یا دماغ کی طرف جانے کا راستہ مسدود کیا ہوا ہے ، اور عام حالات میں کان میں ڈالی جانے والی کوئی بھی دوا یا غذا حلق تک نہیں جاتی ، الا یہ کہ کسی کے کان کا پردہ پھٹ جائے یا کان کے پردے میں واضح سوراخ ہوجائے تو ایسی بیماری یا غیر معمولی صورت حال میں دوا اندرونی کان سے حلق کی طرف منتقل ہوسکتی ہے ورنہ نہیں۔اب جبکہ تمام اطباء اور تشریح ابدان کے ماہرین اس بات پر متفق ہیں کہ کان میں دوا ڈالنے سے دماغ تک اس کے پہنچنے کا کوئی راستہ نہیں اور اس بات پر بھی متفق ہیں کہ کان میں دوا ڈالنے کی صورت میں حلق تک اس کے پہنچنے کا بھی عام حالات میں کوئی راستہ نہیں تو ا س کا کسی جوف معتبر تک پہنچنا ثابت نہیں ہوتا۔ اور مذاہب اربعہ اس پر متفق ہیں کہ منافذ معتبرہ سے جوف معتبر تک پہنچنے ہی سے روزہ فاسد ہوتا ہے اس کے بغیر نہیں۔تو جو علت ان فقہاء نے بیان فرمائی تھی وہ پائی ہی نہیں گئی لہذا اس جدید تحقیق کے پیش نظر کان میں دوا ڈالنے سے روزہ نہیں ٹوٹنا چاہیے۔بالخصوص اس وقت جبکہ اس مسئلے پر شارع علیہ الصلوۃ والسلام سے صراحتا کوئی نص منقول نہیں ہے ۔
اور خصوصاً اس لئے بھی کہ احکام شرع میں طبی تحقیق پر بھی مدار رکھا گیا ہے جیسا کہ مثانے سے جوف تک منفذ ہونے یا نہ ہونے کے بارے میں امام اعظم ابو حنیفہ اور امام ابو یوسف کے درمیان اختلاف کا مدار علماء نے طبی تحقیق پر رکھا ۔
چناچہ علامہ شرنبلالی اما م صاحب کی تائید میں طبی تحقیق کو بطور دلیل پیش کرتے ہوئے فرماتے ہیں:والأظہر أنہ لا منفذ لہ وإنما یجتمع البول فی المثانۃ بالترشیح کذا تقولہ الأطباء:ترجمہ :اور ظاہر تر بات یہی ہے کہ مثانے سے جوف تک کوئی منفذ نہیں ہے اور مثانے میں پیشاب رس رس کر پہنچتا ہے جیساکہ اطباء کہتے ہیں۔
اسکے تحت علامہ طحطاوی لکھتے ہیں:قولہ: "والأظہر أنہ لا منفذ لہ" أی کما ہو قولہما قولہ: "کذا تقولہ الأطباء " إنما أسندہ إلیہم لأن ہذا المقام یرجع إلیہم فیہ لکونہ من علم التشریح۔ترجمہ: مصنف نے ان اطباء کی طرف نسبت اس لئے کی کیونکہ اس مقام کی تحقیق ان ہی کی طرف لوٹتی ہے کیونکہ یہ علم تشریح الابدان کا مسئلہ ہے۔ (حاشیہ طحطاوی مع مراقی الفلاح کتاب الصوم باب فی بیان مالا یفسد الصوم ص 661 )
پھر صاحب فتح القدیر علامہ ابن ہمام اس اختلاف کا مدار لکھتے ہوئے فرماتے ہیں :انہ لاخلاف لو اتفقوا علی تشریح ھذا العضو:ترجمہ : اگر اس عضو کی تشریح (طبی تحقیق )پر دونوں حضرات متفق ہوجائیں تو کوئی اختلاف باقی نہیں رہے گا۔(فتح القدیر کتاب الصوم باب مایوجب القضاء والکفارۃ ج2ص267)
صاحب ہدایہ واضح فرماتے ہیں:انہ لیس من باب الفقہ :ترجمہ:اس مسئلے کا فقہ کا تعلق نہیں ہے۔(ہدایہ کتاب الصوم باب ما یوجب القضاء والکفارۃ ج1ص151)
سوجس طرح مسئلہ مذکورہ میں اختلاف شیخین کے ارتفاع کی بنیاد اجلہ فقہاء کرام نے طبی تحقیق کو قرار دیا کہ اگر طبی تحقیق سے مثانے سے جوف تک منفذ ہونا یا نہ ہونا ثابت ہوجائے تو دونوں حضرات کے نزدیک وہی مسلم ہوگا ، اسی طرح کان میں دوا ڈالنے والا مسئلہ ہے کہ اگر یہ ثابت ہوجائے کہ کان اور دماغ کے درمےان منفذ نہیں ہے ،اور یہ ثبوت یقین کے درجہ کا ہو تو حکم اسی کے مطابق ہوگا۔
اس دور میں ہمارے متقدمین فقہاء کے مطابق کان میں دوا وغیرہ ڈالنے سے روزہ ٹوٹ جانے کا حکم دیا وہ اس حکم دینے میں حق بجانب تھے کیونکہ ان دور میں ایسی مشینیں دریافت نہیں ہوئی تھیں جن سے بالواسطہ یا بلاواسطہ اس چیز کا مشاہدہ کیا جاتا کہ کان اور دماغ کے درمیان منفذ ہے یا نہیں؟ وہ اس طرح کے مسائل میں ظن غالب کے مطابق حکم دیا کرتے تھے ،لیکن اب جبکہ سائنس اپنی ترقی کے عروج پر ہے اور آئے دن اس کا عروج کا سفر رو بہ ترقی ہے ،کہ اب انسان دنوں کا سفر گھنٹوں میں اور گھنٹوں کا سفر منٹوں میں طے کرتا ہے،اب انسان سمندر کا سینہ چیر کا اسکی گہرائی میں تجربے کر چکا ہے، ہوا کے دوش پر پرواز کرچکا ہے، اور اس جدید دور میں ایسی مشینیں ایجاد ہوچکی ہیں جن سے بالواسطہ یا بلاواسطہ انسان کے کسی بھی حصہ بدن کا مشاہدہ کیا جا سکتاہے، اور انہیں ذرائع سے یہ بات ثابت ہوچکی ہے کہ کان اور دماغ کے درمیان منفذ نہیں ہے ،اور یہ ثبوت بدرجہ یقین کا حامل ہے ۔لہذا اسکو حکم شرع میں ضرور دخل حاصل ہوگا۔(کما مر)
سو جب جدید تحقیق سے یہ بات ثابت ہوگئی کہ کان میں دوا ڈالنے سے دماغ تک اس کے پہنچنے کا کوئی راستہ نہیں اور کان میں دوا ڈالنے کی صورت میں حلق تک نہیں پہنچتی ، تو اس سے روزہ بھی نہیں ٹوٹے گا۔ الا یہ کہ کسی کے کان کا پردہ پھٹ جائے یا کان کے پردے میں سوراخ ہوجائے اور دوا جوف تک پہنچنے جائے تو اب اسکا روزہ ٹوٹ جائے گا ۔
واللہ اعلم بالصواب
کتبـــــــــــــــــــــــــــہ:محمد زوہیب رضا قادری
الجواب الصحیح:ابوالحسنین مفتی وسیم اختر المدنی
تاریخ اجراء:29 شعبان المعظم 1441 ھ/23 اپریل 2020 ء