سوال
1: کیا نماز جنازہ کا تکرار جائز ہے؟
2: یہ جو کتب فقہ میں ہے کہ ولی کی اجازت کے بغیر پڑھا گیا تو اعادہ جائز ورنہ نہیں ۔۔۔۔ تو یہ ارشاد فرمائیں کہ دوسری دفعہ جنازے کا واضح شرعی حکم کیا ہے یعنی دوسرا جنازہ حرام ہے؟ مکروہ تحریمی یا کچھ اور؟
3:جن حضرات نے جائز سمجھ کر دوسرا جنازہ پڑھ لیا تو اس کے بارے میں کیا حکم ہے؟
4: کیا یہ درست ہے کہ امام اعظم کی جنازہ چھ بار ادا کی گئی ؟اگر درست ہے تو اسکی کیا تاویل ہے یعنی چھ مرتبہ کس طرح ادا کی گئی؟بینوا وتوجرا۔
سائل:مولانا شہباز سالک : سرگودھا
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ
1: نماز جنازہ کا تکرار مطلقا ناجائز و نامشروع ہے، لیکن اگر نماز جنازہ کسی اجنبی غیر ولی غیر احق نے بلااجازت ولی ادا کردی تو ولی اسکا اعادہ کرسکتا ہے۔ہدایہ شرح بدایۃ المبتدی میں ہے:فإن صلى غير الولي والسلطان أعاد الولي " يعني إن شاء لما ذكرنا أن الحق للأولياء " وإن صلى الولي لم يجز لأحد أن يصلي بعده۔ لأن الفرض يتأدى بالأولى والتنفل بها غير مشروع: ترجمہ:پھر اگر غیر ولی یا سلطان نے نماز جنازہ پڑھائی تو ولی اعادہ کرے یعنی اگر چاہے تو کیونکہ ہم نے ذکر کیا کہ (نماز جنازہ میت کے) اولیاء کا حق ہے ۔ اور اگر ولی نے پڑھ لی تو کسی کے لئے جائز نہیں کہ اسکے بعد (دوبارہ) نماز جنازہ پڑھے۔کیونکہ پہلی دفعہ پڑھنے سے فرض ادا ہوگیا (اب اگر دوبارہ پڑھے گا تو وہ نفلی ہوگا جبکہ) نماز جنازہ نفلی طور پر ادا کرنا جائز نہیں ہے۔(ہدایہ شرح بدایۃ المبتدی،کتاب الصلوۃ باب الجنائز جلد 1 ص 90)
پھر بدائع الصنائع میں ہے:ولا يصلى على ميت إلا مرة واحدة لا جماعة ولا وحدانا عندنا، إلا أن يكون الذين صلوا عليها أجانب بغير أمر الأولياء، ثم حضر الولي فحينئذ له أن يعيدها۔ ترجمہ:اور میت پر محض ایک بار نماز پڑھی جائے ہمارے نزدیک اسکے علاوہ منفردیاباجماعت کسی طرح نہ پڑھی ۔ مگر یہ کہ جن لوگوں نے نماز پڑھی ہے وہ اجنبی ہوں جنہوں نے میت کے اولیاء کی اجازت کے بغیر نماز جنازۃ پڑھی ہو پھر ولی آجائے تو اسکو اعادہ جائز ہے۔(بدائع الصنائع کتاب الصلوۃ ،فصل صلوۃ الجنازۃ ،جلد1ص311)
یوں ہی ہندیہ میں ہے:ولا يصلى على ميت إلا مرة واحدة والتنفل بصلاة الجنازة غير مشروع، كذا في الإيضاح۔ ترجمہ:اور میت پر محض ایک بار نماز پڑھے۔کیونکہ نماز جنازہ نفلی طور پر ادا کرنا جائز نہیں ہے۔ ایضاح میں اسی طرح ہے۔(الفتاوٰی الھندیہ ،کتاب الصلوۃ ،الفصل الخامس فی الصلوۃ علی المیت جلد 1 ص 163)
2: جنازہ کا اعادہ محض ناجائز و ممنوع ہے، کما مر آنفا۔سیدی اعلٰی حضرت فرماتے ہیں : سب کتابوں میں بلفظ لم یجز، ولایجوز تعبیرمیں فرمایا یعنی ناجائز ہے۔ ایسا ہی عبارات ہدایہ سے گزرا۔ اور یہی لایصلی ولایعید ولیس لہ کامفاد اور یہی غیر مشروع سے مراد۔(فتاوٰی رضویہ ، باب الجنائز، جلد 9 ص 274،رضا فاؤنڈیشن لاہور)
ایک اور جگہ فرماتے ہیں : عندالتحقیق ان سب عبارات کا بھی وہی حاصل کہ نماز جنازہ دوبارہ پڑھنی صرف مکروہ ہی نہیں بلکہ محض ناجائز ہے۔(فتاوٰی رضویہ ، باب الجنائز، جلد 9 ص 275،رضا فاؤنڈیشن لاہور)
3:جن حضرات نے ناقاواقفیت کی بناء پر جائز سمجھ کر پڑھ لیا وہ سب گناہ گار ٹھہرے ۔سیدی اعلٰی حضرت فرماتے ہیں : اور تمام کتب مذہب متون و شرح وفتاوٰی میں دائر وسائر صورتِ مستفسرہ میں کہ خود ولی پڑھ چکاتھا دوبارہ اعادہ نماز ہمارے سب ائمہ کرام رضوان اﷲ تعالٰی علیہم اجمعین کے اتفاق سے ناجائز وگناہ واقع ہوا، ایسی ناواقفی مانع گناہ نہیں کہ مسائل سے ناواقف رہنا خود گناہ ہے،اس لئے حدیث میں آیا: ذنب العالم ذنب واحد وذنب الجاھل ذنبان قیل ولم یا رسول اﷲصلی اﷲتعالٰی علیہ وسلم العالم یعذب علٰی رکوبہ الذنب والجاھل یعذب علٰی رکوبہ الذنب وترک التعلم۱؎۔رواہ فی مسند الفردوس عن ابن عباس رضی اﷲتعالٰی عنہما۔ یعنی رسول اﷲ صلی اﷲتعالٰی علیہ وسلم نے فرمایا عالم کا ایک گناہ اور جاہل کا گناہ دو گناہ کسی نے عرض کی:یا رسول اﷲ! کس لئے؟ فرمایا عالم پر وبال اسی کا ہے کہ گناہ کیوں کیا،اور جاہل پر ایک عذاب گناہ کا اور دوسرا نہ سیکھنے کا۔اسے دیلمی نے مسندالفردوس میں حضرت ابن عباس رضی اﷲتعالٰی عنہما سے روایت کیا۔ (بحوالہ الفردوس بماثور الخطاب حدیث 1345جلد2 ص248)(فتاوٰی رضویہ ، باب الجنائز، جلد 9 ص 275،رضا فاؤنڈیشن لاہور)
4: جی ہاں یہ بات بالکل درست ہے ، اور اسکی صورت بعینہ صورت جواز ہے کہ سب سے آخر میں آپکی جنازہ آپکے صاحبزادے حماد بن نعمان نے پڑھائی جوکہ آپ کے ولی تھے۔ جیساکہ خطیب بغدادی نے تاریخ بغداد اور امام مزی نے تہذیب الکمال لکھا ہے: يوم مات ابو حنيفة صلی عليه ست مرار، من کثرة الزحام، آخرهم صلی عليه ابنه حماد، وغسله الحسن بن عمارة، ورجل آخر۔ترجمہ: حضرت امام ابو حنیفہ رحمۃ اللہ علیہ کی وفات کے دن بہت زیادہ بھیڑ ہونے کی وجہ سے آپ کی نماز جنازہ چھ بار پڑھی گئی۔ آخری مرتبہ آپ کے بیٹے حماد نے پڑھائی۔ حسن بن عمارہ اور ایک دوسرے آدمی نے آپ رحمۃ اللہ علیہ کو غسل دیا۔(تاريخ بغداد،جلد 13 ص 453، دار الکتب العلمية، بيروت۔ تہذیب الکمال،جلد29 ص 444، مؤسسة الرسالة، بيروت)
واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
کتبـــــــــــــــــــــــــــہ:محمد زوہیب رضا قادری
الجواب الصحیح:ابوالحسنین مفتی وسیم اختر المدنی
تاریخ اجراء:16 صفر المظفر1441 ھ/16 اکتوبر 2019 ء