انجکشن سے روزے کا حکم
    تاریخ: 1 جنوری، 2026
    مشاہدات: 59
    حوالہ: 501

    سوال

    روزے میں انجکشن یا ڈرپ لگوانے سے روزہ ٹوٹے گا یا نہیں؟

    سائل: امین : کراچی ۔


    بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

    اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ

    یہ مسئلہ ہمارے فقہاء ِ متاخرین کے مابین مختلف فیہ رہا ہے ، اکثر کے نزدیک انجکشن یا ڈرپ لگوانے سے روزہ نہیں ٹوٹے گا خواہ کسی طرح کا انجکشن ہو رگ کا ہو یا گوشت کا یونہی انسولین ہو یا کوئی اور۔ اور یہی ہمارا موقف ہے اور یہی راجح ہے اسکی وجہ یہ ہے کہ روزہ نام ہے طلوعِ فجر سے غروبِ آفتاب تک کھانے پینے اور جماع سے رکنے کا۔

    علامہ سید میر شریف جرجانی التعریفات میں فرماتے ہیں: الصوم:في اللغة مطلق الإمساك، وفي الشرع:عبارة عن إمساك مخصوص، وهو الإمساك عن الأكل والشرب والجماع من الصبح إلى المغرب مع النية ۔ ترجمہ: صوم لغت میں مطلقاً رکنا ہے اور شرع میں طلوعِ فجر سے مغرب تک روزے کی نیت سے کھانے پینے اور جماع سے رکنے کا نام ہے ۔(التعریفات: 136)

    یونہی بدائع میں ہے: لأن انتقاض الشيء عند فوات ركنه أمر ضروري، وذلك بالأكل، والشرب، والجماع ۔ ترجمہ: کیونکہ کسی چیز کا اس کے رکن کے فوت ہوجانے سے ٹوٹ جانا ایک بدیہی امر ہے اور یہ (روزہ کا توٹنا) کھانے پینے اور جماع سے ہوتا ہے۔ (بدائع الصنائع، جلد 2 ص 90)

    اور یہ معلوم ہے کہ انجکشن یا ڈرپ جماع تو نہیں ہے ۔ سو اکل و شرب باقی۔ پھر اکل و شرب تین طرح سے ہے۔ 1: حقیقی اکل و شرب۔ 2: صوری اکل و شرب ۔ 3: معنوی اکل و شرب۔

    اور یہ بات اظہر من الشمس ہے کہ انجکشن ان میں سے حقیقی اکل و شرب نہیں ہے ، کیونکہ فقہاء کے نزدیک اکل و شرب حقیقی یہ ہے کہ منہ کے ذریعے پیٹ تک کوئی چیز پہنچانا جس کا مقصود کھانا پینا یا دوا لینا ہو۔ جیساکہ شامی میں ہے: إيصال ما يقصد به التغذي أو التداوي إلى جوفه من الفم ۔ترجمہ:منہ کے ذریعے پیٹ تک غذا یا دوائی کے قصد سے کوئی چیز پہنچانا۔(اکل و شربِ حقیقی ہے)۔(شامی، باب مایفسدالصوم ومالایفسد جلد 2 ص 410)

    جب حقیقی اکل و شرب کا معنٰی ہمیں معلوم ہوا تو یہ بھی معلوم ہے کہ انجکشن میں دوائی منہ کے ذریعے پیٹ تک نہیں پہنچائی جاتی بلکہ جسم کے کسی اور حصہ ہاتھ، رگ یا زیریں حصہ کے ذریعے پہنچائی جاتی ہے ۔ لہذا انجکشن میں حقیقی اکل و شرب کے معنٰی معدوم ہیں۔

    دوسری صورت صورۃً اکل و شرب کی ہے اور صحیح یہ ہے کہ انجکشن صورۃً بھی اکل و شرب نہیں ہے۔ کیونکہ فقہاءِ کرام نے صورۃً اکل و شرب کا مطلب یہ بیان کیا ہے کہ منہ سے کسی چیز کو پیٹ تک نگلنا، یا اپنے فعل سے کچھ پیٹ تک پہنچانا عام ازیں کہ اس سے غذا یا دوا مقصود ہو یا نہ ہو ۔ جیساکہ شامی میں ہی ہے : ففی الاکل الفطر صورۃً ھو الابتلاع۔ ترجمہ: اکل و شرب میں صورۃً فطر ابتلاع (یعنی منہ کے ذریعے کوئی چیز پیٹ تک نگلنا) ہے۔(شامی، باب مایفسدالصوم ومالایفسد جلد 2 ص 410)

    یوں ہی فتح القدیر میں ہے: والصحيح هو الفساد لأنه موصل إلى الجوف بفعله۔ترجمہ: اور صحیح یہ ہے کہ (اس صورت میں ) فسادِ صوم کا حکم ہے کیونکہ وہ اپنے فعل سے جوف تک پہنچانے والا ہے۔ (فتح القدیر شرح الہدایہ، جلد 2 ص 343)

    لہٰذا یہ صورۃً اکل و شرب بھی نہیں ہے۔ کما ھو الواضح پھر یہ معنیً اکل و شرب بھی نہیں ہے کیونکہ معنیً اکل و شرب یہ ہے کہ کسی ایسی چیز کا جوف تک پہنچنا جس میں بدن کا نفع ہو۔ جیساکہ اسی میں ہے : ومعنىً وهو وصول ما فيه صلاح البدن إلى الجوف ۔ترجمہ: اور معنیً اکل و شرب یہ ہے کہ اس چیز کا جوف تک پہنچنا جس میں بدن کا نفع ہو۔ (شامی، باب مایوجب القضاء والکفارۃ جلد 2 ص 342)

    سو جب ہمیں صورۃً اور معنیً اکل و شرب کا معنٰی معلوم ہوا تو ہمیں یہ بھی معلوم ہے کہ کوئی بھی انجکشن واصل الی الجوف نہیں ہوتا سو جب واصل الی الجوف نہ ہوا تو صورۃً اور معنیً اکل و شرب نہ ہوا ۔ اور حقیقی پہلے ہی مفقود ہے سو اب انجکشن نہ حقیقتاً اکل و شرب۔ نہ صورۃً نہ معنیً۔ لہذا انجکشن مفسدِ صوم نہ ہوا۔ یہی حکم ڈرپ کا بھی ہے۔ لیکن اگر ایسا انجکشن لگایا جائے جو جوف میں لگے یعنی پیٹ تک انجکشن پہنچاکر دوائی ڈالی جائے تو وہ ضرور مفسدِ صوم ہوگا۔ کیونکہ یہ حقیقتاً اور صورتاً تو نہیں لیکن معنیً اکل و شرب ضرور ہے کیونکہ معنیً اکل و شرب (وصول ما فیہ صلاح البدن الی الجوف) ہے کما مر اورو ہ پایا جارہا ہے لہذا اب یہ مفسدِ صوم ہے۔

    واللہ تعالٰی اعلم بالصواب

    کتبـــــــــــــــــــــــــــہ:محمد زوہیب رضا قادری

    الجـــــواب صحــــیـح:ابو الحسنین مفتی وسیم اختر المدنی

    تاریخ اجراء:23 شوال المکرم 1443 ھ/25 مئی 2022 ء