سوال
فدیہ کس کے لئے جائز ہے اور کس کے لئے نہیں؟نیز روزہ کا فدیہ کیا ہے۔ شرعی رہنمائی فرمائیں۔
سائل:عبداللہ:کراچی
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ
فدیہ کے جواز و عدم کی درج ذیل صورتیں ہیں:
1:شیخ فانی ہو ۔ شیخ فانی سے مراد وہ شخص ہے جو بڑھاپے کے سبب اتنا کمزور ہوچکا ہو کہ جو حقیقتاً روزہ رکھنے کی طاقت نہ رکھے، نہ اب نہ آئندہ، نہ سردی میں نہ گرمی میں ، نہ ایک ساتھ نہ متفرق ،الغرض کسی طور پر اس کے لئے روزہ رکھنا ممکن نہ ہو۔ تویہ شخص فدیہ اداکرے گا۔
2: ایسا مریض کہ جسکا مرض ایسا شدید ہو کہ وہ فی الحال یا آئندہ کبھی روزے نہ رکھ سکتا ہو، جیساکہ بعض شوگر یا گردوں کےمریض ۔وہ بھی شیخِ فانی کے حکم میں ہے۔ یعنی وہ بھی روزوں کے بجائے فدیہ ادا کرے گا۔
3:اگر مرض کی شدت ایسی نہ ہوبلکہ بیماری کے سبب روزہ رکھنا اس کے لئے نقصان دہ ہو یاروزے سے بیماری بڑھنے یا دیر سے ٹھیک ہونے یا کسی عضو کے ضایع ہوجانے کا اندیشہ ہو اور یہ سب تجربہ سے ثابت ہو یا کوئی مسلمان غیر فاسق(بظاہر دین دار) ڈاکٹر نے اسے اس مرض میں روزہ چھوڑنے کا کہا ہو تو صرف روزہ چھوڑنے کی اجازت ہے لیکن ایسے مریض کو فدیہ اداکرنا جائز نہیں ہے۔ ادا کرنے سے ادا نہ ہوگا۔بلکہ بعد میں چھوڑے ہوئے روزے کی صرف قضا لازم ہے۔
ارشاد باری تعالٰی ہے : وَ عَلَى الَّذِیْنَ یُطِیْقُوْنَهٗ فِدْیَةٌ طَعَامُ مِسْكِیْنٍؕ ترجمہ کنز الایمان: اور جنہیں اس (روزہ)کی طاقت نہ ہو وہ بدلہ دیں ایک مسکین کا کھانا۔(البقرہ: 184)
علامہ کاسانی رحمہ اللہ تعالٰی لکھتے ہیں:يباح للشيخ الفاني أن يفطر في شهر رمضان لأنه عاجز عن الصوم وعليه الفدية عند عامة العلماء۔ ترجمہ:شیخ فانی کے لئے رمضان کے مہینے میں روزہ چھوڑناجائز ہےکیونکہ وہ روزہ رکھنے سے عاجز ہے ،اکثر علماء کے نزدیک اس پر فدیہ دینا واجب ہے۔(بدائع الصنائع، کتاب الصوم ، فصل فی فساد الصوم، جلد 2 ص 97، بیروت)
نقایہ میں ہے: وشیخ فان عجز عن الصوم افطر۔ترجمہ:بوڑھا شخص اگر روزے رکھنے سے عاجز آجائے تو وہ چھوڑدے۔(نقایہ، باب مایفسد الصوم ومالایفسد،جلد 1 ص 582)
کنز میں ہے :للشیخ الفانی وھو یفدی۔ترجمہ:شیخ فانی فدیہ ادا کرے۔(تبیین الحقائق شرح کنز الدقائق فصل فی العوارض ، ج 1ص 337)
سیدی اعلٰی حضرت فرماتے ہیں: بعض جاہلوں نے یہ خیال کرلیا ہے کہ روزہ کا فدیہ ہر شخص کے لئے جائز ہے جبکہ روزے میں اسے کچھ تکلیف ہو، ایسا ہر گز نہیں، فدیہ صرف شیخ فانی کے لیے رکھا ہے جو بہ سبب پیرانہ سالی حقیقۃً روزہ کی قدرت نہ رکھتا ہو، نہ آئندہ طاقت کی امید کہ عمر جتنی بڑھے گی ضُعف بڑھے گاصرف اُس کے لیے فدیہ کا حکم ہے۔(فتاوٰی رضویہ، کتاب الصوم،باب الفدیہ جلد 10 ص 521)
ایک او ر مقام پر ارشاد فرماتے ہیں:طاقت نہ ہونا ایک تو واقعی ہوتا ہے اور ایک کم ہمتی سے ہوتا ہے کم ہمتی کا کچھ اعتبار نہیں، اکثر اوقات شیطان دل میں ڈالتا ہے کہ ہم سے یہ کام ہرگز نہ ہوسکے اور کریں گے تو مرجائیں گے، بیمار پڑ جائیں گے، پھر جب خداپر بھروسہ کرکے کیا جاتا ہے تو اﷲتعالیٰ ادا کرادیتا ہے کچھ بھی نقصان نہیں پہنچتا، معلوم ہوتا ہے کہ وہ شیطان کا دھوکا تھا ۷۵ برس عمر میں بہت لوگ روزے رکھتے ہیں، ہاں ایسے کمزور بھی ہوسکتے ہیں کہ ستّر ہی برس کی عمر میں نہ رکھ سکیں تو شیطان کے وسوسوں سے بچ کر خوب صحیح طور پر جانچ چاہئے، ایک بات تو یہ ہُوئی، دوسری یہ کہ ان میں بعض کو گرمیوں میں روزہ کی طاقت واقعی نہیں ہوتی مگر جاڑوں میں رکھ سکتے ہیں یہ بھی کفارہ نہیں دے سکتے بلکہ گرمیوں میں قضا کرکے جاڑوں میں روزے رکھنا ان پر فرض ہے، تیسری بات یہ ہے کہ ان میں بعض لگاتار مہینہ بھر کے روزے نہیں رکھ سکتے مگر ایک دودن بیچ کرکے رکھ سکتے ہیں تو جتنے رکھ سکیں اُتنے رکھنا فرض ہے جتنے قضا ہوجائیں جاڑوں میں رکھ لیں، چوتھی بات یہ ہے کہ جس جوان یا بوڑھے کو کسی بیماری کے سبب ایسا ضعف ہو کہ روزہ نہیں رکھ سکتے انہیں بھی کفار ہ دینے کی اجازت نہیں بلکہ بیماری جانے کا انتظار کریں، اگر قبل شفاموت آجائے تواس وقت کفارہ کی وصیت کردیں۔(فتاوٰی رضویہ، کتاب الصوم،باب الفدیہ جلد 10 ص 547)
آگے لکھتے ہیں:غرض یہ ہے کہ کفارہ اس وقت ہے کہ روزہ نہ گرمی میں رکھ سکیں نہ جاڑے میں، نہ لگاتار نہ متفرق، اور جس عذر کے سبب طاقت نہ ہو اُس عذر کے جانے کی امید نہ ہو۔(فتاوٰی رضویہ، کتاب الصوم،باب الفدیہ جلد 10 ص 547)
ایک روزے کا فدیہ ایک صدقہ فطر کی مقدار ہے،جوکہ دو کلو گندم کا آٹا(چکی والا) یا اسکی قیمت ہے۔اور اس سال اسکی قیمت 150 روپے ہے۔لہذا جتنے روزوں ہوں اتنے صدقہ فطر کی مقدار دے دیں۔
واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
کتبـــــــــــــــــــــــــــہ:محمد زوہیب رضا قادری
الجواب الصحیح:ابوالحسنین مفتی وسیم اختر المدنی
تاریخ اجراء:04 رمضان المبارک 1442 ھ/17 اپریل 2021 ء