سوال
ہماری والدہ محترمہ نے آج سے 10 سال پہلے ایک مکان جس کی آج کل مارکیٹ ویلیو ایک کروڑ ہے ، اپنے تین بیٹوں کے نام کردیا تھا ، مکان 180 گز کا ہے۔اور سب اسی گھر میں رہ رہے تھے جبکہ ہم 5 بھائی ہیں اور ایک بہن ہے ۔ والد کا انتقال ہوچکا ہے۔ اب جب والدہ محترمہ کوبتایا گیا کہ یہ دوسروں کے ساتھ ناانصافی ہے تو والدہ نے ایک وصیت تحریر کروائی ۔ ان تین بیٹوں کی رضامندی سے کہ مکان کو انکی زندگی میں سیل آؤٹ کرکے اماؤنٹ سب میں برابر تقسیم کردی جائے جب کہ والدہ نے اپنے لیے فکس 15 لاکھ روپے رکھے ہیں ۔ اور بقیہ تمام رقم 5 بھائیوں اور ایک بہن میں پراپر پراپر تقسیم کرنے کا کہا ہے۔کچھ بھائی بہن کو برابر اماؤنٹ دینے میں اعتراض کررہے ہیں کہ بہن کو شریعت کے مطابق جو بنتا ہے ملنا چاہیے نہ کہ برابر ؟ اب جو سوالات ہیں وہ یہ ہیں:
کیا اس اماؤنٹ کی تقسیم جیسے اوپر بیان کی گئی شریعت کے مطابق ہے؟کیا والدہ اب اس وصیت میں تبدیلی کرسکتی ہے کہ بہن کا جو شیئر بنتا ہے وہ ملے ؟
اس مسئلے کو شریعت کی روشنی کیسے حل کریں۔
سائل: ریاض الدین
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ
جی ہاں اماؤنٹ کی تقسیم جیسے اوپر بیان کی گئی شریعت کے مطابق ہے۔لہذااگر معاملہ ایسا ہی ہے جیسا سوال میں مذکور ہوا کہ والد ہ نے مکان اپنے تینوں بیٹوں کے نام کردیا تھا ۔ اور انہوں نے اپنا اپنا حصہ الگ الگ نہیں کیا تھا تو شرعا یہ ھبہ تام نہیں ہوا۔ کیونکہ زندگی میں مکان،پلاٹ یا فلیٹ،یا کوئی اور چیز نام کردینا گفٹ یا ھبہ کے طور پر ہوتا ہے لہذا اگر کسی شخص کو کوئی جگہ یا مکان یا پلاٹ گفٹ کیا جائے اور وہ موہوب لہ (یعنی جس کے لیے گفٹ کیا گیا ہے) کو اپنے قبضے میں لے لے، تو یہ ھبہ تام ہوجاتا ہے یعنی اس میں اس شخص کی ملکیت ثابت ہوجاتی ہے جس کے لیے وہ مکان ھبہ کیاگیاہے ۔ اگر موہوب لہ ایک سے زائد لوگ ہوں تو ضروری ہے کہ ہر ایک اپنا حصہ الگ کرکے قبضہ کرلے ، وگرنہ قبضہ تام نہ ہوگا اور مکان واہب( گفٹ کرنے والے) کی ملکیت میں ہی باقی رہے گا۔
جب تینوں بیٹوں نے اپنا اپنا حصہ الگ الگ نہیں کیا تھا تو شرعا یہ ھبہ تام نہیں ہوا، لہذا وہ مکان آپ کی والد ہ کی ملکیت ہے ،اب اگر وہ خود مکان بیچ کر اسکی قیمت اپنی زندگی میں ہی سب اولاد میں تقسیم کرنا چاہتی ہیں تو اس کا شرعی طریقہ یہی ہے کہ سب اولاد لڑکے ، لڑکی سب کوبرابر برابر دیا جائے لیکن اگر اولاد میں سے کسی کو بلاوجہ دوسروں سے زائد دے دیا تو ایسا کرنا مکروہ ہے اور آپکی والدہ گنہ گار ہوں گی،البتہ کوئی خاص وجہ ہو مثلاً کوئی اولاد میں سے کوئی عالم دین یا خدمت گذار ہے اس لیے اسے زیادہ دیدے یہ بھی جائز ہے۔
تنویرالابصار میں ہے:وَ) شَرَائِطُ صِحَّتِهَا (فِي الْمَوْهُوبِ أَنْ يَكُونَ مَقْبُوضًا غَيْرَ مَشَاعٍ مُمَيَّزًا غَيْرَ مَشْغُولٍ)ترجمہ:اور ھبہ (گفٹ)کے موہوب ( گفٹ کی گئی چیز)میں صحیح ہونے کی شرائط یہ ہیں کہ وہ چیز قبضہ میں ہو، اور غیر مشاع ہو (یعنی ایسی مشترک چیز نہ ہو جس میں شریکوں کے حصے ممتاز نہ ہوں)اور ممیز ہو(یعنی جدا اور نمایاں ہو) اور غیر مشغول ہو۔( تنویر الابصار مع الدرالمختار کتاب الھبہ جلد 5ص688 )
بدائع الصنائع میں ہے :لِأَنَّ هِبَةَ الْمُشَاعِ فِيمَا يَحْتَمِلُ الْقِسْمَةَ لَا تَصِحُّ فَلَمْ يَثْبُتْ الْمِلْكُ رَأْسًا.ترجمہ:کیونکہ مشاع کا ہبہ ان چیزوں میں جو تقسیم ہوسکتی ہیں صحیح نہیں ہے ، لہذا ملکیت اصلا ثابت نہ ہوگی۔( بدائع الصنائع کتاب الطہارۃ فصل فی بیان ما ینتقض التیمم جلد 1ص57)
سیدی اعلٰی حضرت قبضہ کاملہ کی وضاحت یوں فرماتے ہیں :قبضہ کاملہ کے یہ معنی کہ وہ جائیداد یا تو وقت ہبہ ہی مشاع نہ ہو (یعنی کسی اور شخص کی ملک سے مخلوط نہ ہو جیسے دیہات میں بغیر پٹہ بانٹ کے کچھ بسوے یا مکانات میں بغیر تقسیم جدائی کے کچھ سہام) اور واہب اس تمام کو موہوب لہ کے قبضہ میں دے دے، یا مشاع ہو تو اس قابل نہ ہو کہ اسے دوسرے کی ملک سے جدا ممتاز کرلیں تو قابل انتفاع رہے جیسے ایک چھوٹی سی دکان دو شخصوں میں مشترک کہ آدھی الگ کرتے ہیں تو بیکار ہوئی جاتی ہے ایسی چیز کا بلا تقسیم قبضہ دلادینا بھی کافی وکامل سمجھا جاتاہے، یا مشاع قابل تقسیم بھی ہو تو واہب اپنی زندگی میں جدا ومنقسم کرکے قبضہ دے دے کہ اب مشاع نہ رہی۔ یہ تینوں صورتیں قبضہ کاملہ کی ہیں۔(فتاویٰ رضویہ کتاب الھبہ جلد 19 ص 221 رضا فاؤنڈیشن لاہور)
البحر الرائق میں ہے:'' يُكْرَهُ تَفْضِيلُ بَعْضِ الْأَوْلَادِ عَلَى الْبَعْضِ فِي الْهِبَةِ حَالَةَ الصِّحَّةِ إلَّا لِزِيَادَةِ فَضْلٍ لَهُ فِي الدِّينِ وَإِنْ وَهَبَ مَالَهُ كُلَّهُ الْوَاحِدِ جَازَ قَضَاءً وَهُوَ آثِمٌ كَذَا فِي الْمُحِيطِ''ترجمہ:صحت کی حالت میں اولاد پر ہبہ کر تے ہوئے بعض اولاد کو زیادہ اور بعض کو کم دینا مکروہ ہے۔مگر کسی دینی فضیلت کی وجہ سے زیادہ دے تو جائز ہے۔ اور اگر سارا مال کسی ایک کو دیدے تو جائز ہے لیکن گنہ گار ہوگا۔( البحر الرائق کتاب الھبہ ،باب الھبۃ لطفلۃ ج 7 ، ص:288 الشاملہ)
واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
کتبـــــــــــــــــــــــــــہ:محمد زوہیب رضا قادری
الجـــــواب صحــــیـح:ابو الحسنین مفتی وسیم اختر المدنی
تاریخ اجراء:25 ربیع الاول 1440 ھ/04 دسمبر 2018 ء