مشاع غیر قابل تقسیم کا ہبہ کرنا

    musha ghair qabil taqseem ka hiba karna

    تاریخ: 1 اگست، 2026
    مشاہدات: 21
    حوالہ: 1687

    سوال

    میرا نام محمد علی ولد عبد الرؤف ہے۔ مجھے آپ سے ایک مسئلہ معلوم کرنا تھا کہ آج سے تقریباً ڈھائی سال پہلے میری خالہ رخسانہ زکریا کی ایک دکان تھی، جو انہوں نے اس کا 30٪ میری والدہ کو گفٹ یعنی ہبہ کر دیا تھا، اور اس کا 70٪ حصہ میری دوسری خالہ کی بیٹی، جن کا نام طیبہ ہے، کو گفٹ کیا تھا۔اب تقریباً ڈھائی سال کے بعد ان کا کہنا ہے کہ جو میں نے اپنی دکان کا 30٪ گفٹ کیا تھا، وہ مجھے واپس کر دیں۔ میری والدہ کا انتقال ہو گیا ہے، مگر ان کے انتقال سے چند مہینے پہلے وہ میری والدہ سے کہتی رہی تھیں کہ یہ مجھے واپس کر دو، مگر میری والدہ کا مؤقف یہی تھا کہ اگر آپ نے ایک چیز گفٹ کر دی ہے تو اس کو واپس لینا سمجھ نہیں آتا۔

    اب میری والدہ کے انتقال کے بعد یہ پراپرٹی کا 30٪ ہماری وراثت میں آ گیا ہے۔ مفتی صاحب! مجھے آپ سے یہ معلوم کرنا تھا کہ کیا ہمیں یہ واپس کرنا ضروری ہے؟ اور اگر ہم واپس نہیں کرتے تو شرعی اعتبار سے ہم پر کوئی وبال تو نہیں ہوگا؟میرا کہنا یہ ہے کہ آپ نے جو میری خالہ کی بیٹی سیدہ کو 70٪ دیا ہے، آپ ان سے واپس لے لیں، مگر وہ صرف ہم سے دعویٰ کر رہی ہیں، نہ جانے کیوں اور کن کے کہنے پر ہم سے اس طرح مطالبہ کر رہی ہیں۔ ان کا کہنا یہ ہے کہ مجھے ضرورت ہے، اگر انہیں ضرورت ہے تو وہ میری خالہ کی بیٹی، جن کو انہوں نے 70٪ دیا ہے، ان سے واپس کیوں نہیں لیتیں؟

    یہ دکان کرائے پر دی ہوئی ہے اور اس کا کرایہ ہم انہیں دے رہے ہیں، اور پچھلے ڈھائی سال سے دے رہے ہیں، حالانکہ انہوں نے یہ ہمارے نام کر دی ہوئی ہے۔ اور ہم نے یہ بھی کہا ہوا ہے کہ جب تک آپ کی زندگی ہے، تب تک ہم آپ کو کرایہ دیتے رہیں گے، مگر پھر بھی ان کی ضد یہ ہے کہ آپ میری دکان مجھے واپس کریں۔کیا یہ ایک دفعہ دی ہوئی چیز کو واپس لے سکتی ہیں؟ اور کیا ہمیں ان کی چیز واپس دینا ہم پر لازم ہے؟ اور اگر کوئی شخص اپنی چیز کسی کو گفٹ کر کے واپس مانگے تو شریعت میں اس کا کیا حکم ہے؟

    سائل: محمد علی، کراچی

    نوٹ : بینک والوں کو کرائے پر دی ہوئی ہے اس کا کرایہ جو بھی ہوگاوہ خالہ رخسانہ کو دیتے ہیں ہم نے کہا جب تک یہ کرائے پر ہے تب تک اس کا کرایہ آپ کو دیا جائے گا ۔


    بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

    اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ

    سب سے پہلے یہ واضح رہے کہ اگر ہبہ کرنے والا اور لینے والا آپس میں ایسے قریبی رشتہ دار ہوں جن کا نکاح ہمیشہ کے لیے حرام ہو (جیسے بہن بھائی)، تو ایسی صورت میں ہبہ سے رجوع قطعاً جائز نہیں ہوتا۔ نیز اگر موہوب لہ (یعنی جس کو ہبہ کیا گیا ہو) کا انتقال ہو جائے، تو ہبہ کرنے والے کا حقِ رجوع ختم ہو جاتا ہے۔چونکہ خالہ اور والدہ سگی بہنیں ہیں اور آپ کی والدہ کا انتقال بھی ہو چکا ہے، اس لیے یہ ہبہ لازم ہو چکا تھا، اور اب آپ کی خالہ کو اسے واپس لینے کا کوئی شرعی حق حاصل نہیں رہا۔

    بعد ازاں صورتِ مسئولہ میں مذکورہ دکان کا 30٪ حصہ جو آپ کی خالہ نے آپ کی والدہ کو ہبہ کیا تھا، وہ شرعی طور پر مکمل ہو چکا ہے۔ اب خالہ کے لیے اس ہبہ سے رجوع کرنا اور دکان واپس مانگنا شرعاً ناجائز اور باطل ہے۔ آپ کے لیے یہ دکان واپس کرنا لازم نہیں ہے، اور اسے اپنے پاس رکھنا شرعی طور پر بالکل درست ہے۔ آپ جو کرایہ خالہ کو دے رہے ہیں، وہ آپ کی طرف سے ان کے ساتھ "صلہ رحمی" ہے۔

    دلائل و جزئیات :

    ہبہ کی تعریف کے حوالے سے علامہ محمد بن فرامرز المعروف ملا خسروعلیہ الرحمہ لکھتے ہیں:(تَمْلِيكُ عَيْنٍ بِلَا عِوَضٍ) أَيْ بِلَا شَرْطِ عِوَضٍ لَا أَنَّ عَدَمَ الْعِوَضِ شَرْطٌ فِيهِ‘‘.ترجمۃ: کسی چیز کا( دوسرے کو )بلا عوض ( بغیر عوض کی شرط کے )مالک کردینا ہبہ کہلاتا ہے ،یعنی اسمیں عوض کا ہونا شرط و ضروری نہیں ۔ (درر الحكام شرح غرر الأحكام جلد 2 صفحہ 217 دار إحياء الكتب العربية)

    مشاع لایقسم کا ہبہ صحیح ہے اس بارے 'اللباب فی شرح الکتاب ' میں ہے :’’ (وهبة المشاع فيما لا يقسم): أي لا يبقى به بعد القسمة أصلا كعبد ودابة، أو لا يبقى منتفعًا به من جنس الانتفاع الذي كان قبل القسمة كالحمام الصغير والرحى (جائزة)؛ لأن القبض القاصر هو الممكن فيكتفي به.ترجمہ : مشاع چیز کا ہبہ ان چیزوں میں جس کی تقسیم ممکن نہ ہو، یعنی تقسیم کے بعد وہ بالکل باقی ہی نہ رہے جیسے غلام اور جانور، یا تقسیم کے بعد اس سے وہی فائدہ حاصل نہ ہو سکے جو تقسیم سے پہلے حاصل ہوتا تھا، جیسے چھوٹا حمام اور چکی۔ (ایسی صورت میں ہبہ) جائز ہے، کیونکہ ناقص قبضہ ہی ممکن ہوتا ہے، لہٰذا اسی پر اکتفا کیا جائے گا۔(اللباب فی شرح الکتاب ،كتاب الهبة،ج:2،ص:172، المكتبة العلمية، بيروت لبنان)

    مشاع لایقسم کے ہبہ کے متعلق اعلی حضرت عظیم البرکت الشاہ امام احمد رضا خاں علیہ رحمۃ الرحمٰن فرماتے ہیں :" تمامی ہبہ کے لئے واہب کا موہوب لہ کو شے موہوب پرقبضہ کاملہ دلانا شرط ہے قبضہ کاملہ کے یہ معنی کہ وہ جائیداد یا تو وقت ہبہ ہی مشاع نہ ہو (یعنی کسی اور شخص کی ملک سے مخلوط نہ ہو جیسے دیہات میں بغیر پٹہ بانٹ کے کچھ بسوے یا مکانات میں بغیر تقسیم جدائی کے کچھ سہام) اور واہب اس تمام کو موہوب لہ کے قبضہ میں دے دے، یا مشاع ہو تو اس قابل نہ ہو کہ اسے دوسرے کی ملک سے جدا ممتاز کرلیں تو قابل انتفاع رہے جیسے ایک چھوٹی سی دکان دو شخصوں میں مشترک کہ آدھی الگ کرتے ہیں تو بیکار ہوئی جاتی ہے ایسی چیز کا بلا تقسیم قبضہ دلادینا بھی کافی وکامل سمجھا جاتاہے، یا مشاع قابل تقسیم بھی ہو تو واہب اپنی زندگی میں جدا ومنقسم کرکے قبضہ دے دے کہ اب مشاع نہ رہی۔ یہ تینوں صورتیں قبضہ کاملہ کی ہیں۔(فتاو ی رضویہ، ،ج:19،ص:219،رضا فاونڈیشن)

    اگر موہوب لہ انتقال کر جائے تو ہبہ سے رجوع جائز نہیں اس بارے 'درمختار' میں ہے:يمنع الرجوع فيها موت أحد العاقدين بعد التسليم ملخصاً.ترجمہ: ھبہ کے دونوں فریقوں میں سے کسی ایک کی موت ہونا، ھبہ میں رجوع (واپسی لینے) کے لئے مانع ہےملخصا۔(رد المحتار علی الدر المختار،جلد:5،ص:699-701،دارالفکر بیروت)

    اسی طرح امام اہلسنت مجدد دین وملت الشاہ امام احمد رضا خان علیہ رحمۃ الرحمٰن ایک سوال کے جواب میں لکھتے ہیں: تملیک عین بلاعوض ھبہ ہے اور ھبہ بعد قبضہ تام پھر بعدموت احدالعاقدین مطلقا لازم۔(فتاوٰی رضویہ،جلد:19،ص:179،رضا فاؤنڈیشن لاہور)

    واللہ تعالٰی اعلم بالصواب

    کتبـــــــــــــــــــــــــــہ: محمدسجاد سلطانی

    الجواب الصحیح:ابو الحسنین مفتی وسیم اختر المدنی

    تاریخ اجراء:13 ذی القعدہ 1447ھ/01مئی 2026