سوال
مفتی صاحب عرض یہ ہے کہ میںUAEمیں ایک مضافاتی کیمپAl Ashoosh(جہاں نئے تعمیری سلسلے جاری ہیں )سے صبح سویرے نکلتا ہوںMusaffah کے لیئےجو کہ شہر میں ہے اور ان دونوں کے درمیان تقریبا 92کلو میٹر ز کا فاصلہ ہے ۔میں صبح جاتا ہوں پھر واپس آنا ہوتا ہے شام پھر جاتا ہوں تو دمیان میں جو نمازیں آتی ہیں ان کی قصر کروں یا پوری پڑھوں ؟آپ شرعی رہنمائی فرمائیں ۔
سائل :عبد الحق مینگل ،دبئی
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ
جی آپ پوری نماز پڑھینگے کیونکہ آ پ کا سفر مسافت شرعی سے کم ہے جبکہ مفتی بہ اور احوط قول کے مطابق جدید پیمانے کے حساب سے 98.734کلو میٹرز کے بعدسے سفر شرعی اور قصر کے احکام لاگو ہوتے ہیں ۔اگر کوئی شخص اتنی مسافت طے کرنے کے ارادے سے سفر کو نکلتا ہے تو وہ اپنے شہر کی حدود سے نکلتے ہی نماز قصر کریگا اور جس جگہ جانا ہے وہاں اگر پندرہ دن سے کم قیام کی نیت ہو تو وہاں بھی قصر کریگا ۔
حدود شہر سے مراد جہاں ضروریات شہرکا دائرہ ختم ہومثلا شہر سے باہر قبرستان،کھیت وغیرہ جیسا کہ عموما دیہاتوں میں ہوتا ہے لیکن فی زمانہ بڑے شہروں اور قصبوں میں جہاں بلدیاتی ادارے قائم ہیں جیسے کنٹو منٹ بوڈ ،کار پوریشن ،میونسپل کمیٹی وغیرہ ،وہاں باقاعدہ حدود شہر کی نشاندہی کی جا تی ہے ۔
بدائع الصنائع (فصل بیان مایصیر بہ المقیم مسافرا،ج:۱،ص:۹۳ ،طبع:دار لکتب العلمیہ) میں ملخصا ہے فَاَلَّذِي يَصِيرُ الْمُقِيمُ بِهِ مُسَافِرًا نِيَّةُ مُدَّةِ السَّفَرِ وَالْخُرُوجُ مِنْ عُمْرَانِ الْمِصْرِ فَلَا بُدَّ مِنْ اعْتِبَارِ ثَلَاثَةِ أَشْيَاءَ: أَحَدُهَا: مُدَّةُ السَّفَرِ قَالَ أَصْحَابُنَا: مَسِيرُ ثَلَاثَةِ أَيَّامٍ سَيْرَ الْإِبِلِ وَمَشْيَ الْأَقْدَامِ وَالثَّانِي: نِيَّةُ مُدَّةِ السَّفَرِ لِأَنَّ السَّيْرَ قَدْ يَكُونُ سَفَرًا وَقَدْ لَا يَكُونُ فَلَا بُدَّ مِنْ النِّيَّةِ لِلتَّمْيِيزِ وَالثَّالِثُ: الْخُرُوجُ مِنْ عُمْرَانِ الْمِصْرِ فَلَا يَصِيرُ مُسَافِرًا بِمُجَرَّدِ نِيَّةِ السَّفَرِ مَا لَمْ يَخْرُجْ مِنْ عُمْرَانِ الْمِصْرِ۔ترجمہ:وہ سفر جس کی وجہ سے مقیم مسافر ہوجا تاہے وہ مدت سفر کی نیت اور شہر کی آبادی سے نکلنے ساتھ ہے تو یہاں تین چیزوں کا جائزہ ضروری ہے ۔پہلی یہ ہے کہ مدت سفر پوری ہو تو وہ اصحاب احناف کے نزدیک تین دن پیدل یا اونٹ کی درمیانہ چال سے چلنا ہے ، دوسری یہ کہ مدت سفر کی نیت ضروری ہے کیونکہ صرف چلنا کبھی سفر کیلئے ہوتا ہے کبھی نہیں بھی ہوتا لہذا فرق کرنے کیلئے نیت ضروری ہے ،تیسری کہ شہر کی آبادی سے نکلنا ضروری ہےلہذا صرف سفر کی نیت کرنے سے ہی مسافر نہیں ہوگا جب تک شہر کی آبادی سے نہ نکلے ۔علامہ شامی علیہ الرحمہ فرماتے ہیں کہ بعض فقہا ء تین دن کی مسافت کو فرسخ کے اعتبار سے مقرر کیا ہے ۔
" قيل يقدر بواحد وعشرون، وقيل: ثمانية عشر، وقيل: خمسة عشر والفتوى على الثاني لأنه الأوسط"ترجمہ:بعض فقہاء کرام نے اکیس فرسخ مقرر کیا گیا ہے،بعض نےاٹھارہ اوربعض نے پندرہ فرسخ قرار دیا ہے جبکہ فتوی دوسرے قول پر ہے کیونکہ وہ متوسط قول ہے ۔
محقق عصرحاضر علامہ غلام رسول سعیدی علیہ الرحمہ فرما تے ہیں فقہا ء کا تیسرا قول مفتی بہ ہے وہ اٹھارہ فرسخ ہے اٹھارہ فرسخ چون میل شرعی ہے جو ایک لاکھ آٹھ ہزار گز یعنی اکسٹھ انگریزی میل دو فرلانگ بیس گز ہیں اور یہ اٹھانوے اعشاریہ سات تین چار 98.734کلو میٹرز ہے ۔(شرح صحیح مسلم ،ج:2،ص:371)۔
ہمارے بعض محقق اور اکابر علماء کی تحقیق کے مطابق کلو میڑکے حساب سےمسافت سفر 92.16کلو میٹرہے،لیکن ہم نے احتیاط کے پیش نظرقول کا اعتبار کیا ہے ۔
واللہ تعالی اعلم بالصواب
کتــــــــــــــــــــہ:عبد المصطفی ظہور احمد
الجواب الصحیح:ابوالحسنین مفتی وسیم اخترالمدنی
تاریخ اجراء:21ذوالحجہ 1439 ھ/01ستمبر 2018 ء