سوال
ہم خوشبو کا کاروبار ’’پاک فریگرینس‘‘ چلا رہے ہیں جسے ہم نے شیئرز کی صورت میں تقسیم کیا ہے۔ ہماری رہنمائی فرمائیں کہ نفع و نقصان کی تقسیم شرعی اعتبار سے کس طرح درست ہوگی۔ اگر اس کی ہم کل 100 شیئرز بنائیں۔کل 100 شیئر ہولڈرز ہوں، ہر ایک کے پاس 1 شیئر ہے۔ان میں سے 3 افراد ڈیپارٹمنٹ ہیڈز ہیں۔یہ تینوں افراد کمپنی میں باقاعدہ محنت، وقت، مہارت اور عملی خدمات دیتے ہیں۔باقی 97 شیئر ہولڈرز صرف سرمایہ کار ہیں، عملی کام نہیں کرتے۔اگر ایک ماہ کمپنی کو خالص نفع 103 روپے حاصل ہو: 100 روپے تمام 100 شیئر ہولڈرز میں برابر تقسیم کیے جائیں (ہر ایک کو 1 روپیہ — بشمول 3 ہیڈز) بقیہ 3 روپے ان تین ڈیپارٹمنٹ ہیڈز کو بطور اضافی منافع / خدمات کا معاوضہ دے دیے جائیں۔تو کیا شرعاً یہ جائز ہے؟ کہ کام کرنے والے تین افراد کو ان کے برابر شیئر رکھنے کے باوجود منافع میں سے اضافی رقم دی جائے، جبکہ وہ اضافی رقم ان کی خدمات، محنت اور مہارت کے بدلے ہو؟یہ اضافی رقم ایک مقررہ رقم یا منافع کا مخصوص فیصد ہو سکتی ہے، جیسے مثال میں اپنے شیئرز کے علاوہ اس بار کے ایک شیئر جتنا نفع کا حصہ۔مقصد یہ ہے کہ عملی طور پر کام کرنے والے افراد کو ان کی خدمت کا حق بھی ملے، اور وہ اپنے شیئر کے مطابق عام نفع بھی لے سکیں۔یہ ’’اضافی حصہ‘‘ بطور خدمت کا معاوضہ کیسے دیا جاسکتا ہے؟
مزید یہ کہ کام کرنے والے افراد کو منافع میں سے ’’اضافی حصہ‘‘ دینا کس اصول کے تحت آئے گا؟یہ شراکت داری کیا کہلائے گی؟اس پر کون سے شرعی قوانین نافذ ہوں گے؟اور اس کے علاوہ کون کون سی جائز صورتیں ہوسکتی ہیں جن کے ذریعے ان ایکسپرٹس/ہیڈز کو کمپنی کے منافع میں سے شرعی طور پر درست طریقے سے اضافی سپورٹ یا انعام دیا جا سکے؟مثلاً: منافع کا مخصوص فیصد؟بونس؟اور دوسرے شیئر ہولڈرز کی رضا مندی شرط ہے یا نہیں؟اسی طرح کیا ہم بہت ساری کمپنیز کی طرح یہ رول بھی بنا سکتے ہیں کہ خالص منافع میں سے سب سے پہلے مقررہ پرسنٹیج پھر واپس کاروبار میں اسکو بڑھانے کے لیے ڈالیں اور پھر باقی میں سے تقسیم کاری ہو۔
سائل: محمد رضاء اللہ مدنی، (سی ای او ،پاک فریگرینس)۔
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ
پوچھا گیا معاملہ شراکت داری کا ہے اور شرعی اصول یہ ہے کہ شراکت داری میں منافع کا تعین نفع کے فیصد میں ہونا چاہیے، نہ کہ ایک متعین رقم کے طور پر۔اسی طرح کسیبھی شریک کا مشترکہ کاروبار میں اجرت پر کام کرنا جائز نہیں کہ یہ اپنے ہی کام کیلئے ملازم بننا ہے جو کہ جائز نہیں۔لہذا اگر صورت مسؤولہ میں یہ طے کیا جائے کہ ورکنگ ہیڈز کو ان کے ایک شیئر کے منافع کے علاوہ کوئی مقررہ رقم بھی ملے گی، تو یہ معاملہ ناجائز ہے۔ کیونکہ یہ عمل شرکت کے منافی ہے کہ ممکن ہے کاروبار میں نفع ہی فقط اتنا ہو جتنی ورکنگ ہیڈز کے اضافی تنخواہ مقرر کی گئی ہے۔یہ تو رقم کی صورت میں اضافی نفع کا حکم تھا ۔ اور اگر کسی ورکنگ پارٹنر کے لیے اضافی منافع فیصد میں تو طے ہو، لیکن اس طور پر ہو کہ جب محنت محسوس کی تو اضافی فیصد دی جائے گی وگرنہ وہی سابقہ طے شدہ فیصد منافع میں دی جائے گی، یہ جائز نہیں، کیونکہ یہاں بھی منافع غیر متعین ہیں اور یہ جہالت مفضی الی النزاع (جھگڑے کی طرف لے جانے والی) ہے۔
جائز صورت:
البتہ اس مقصد کو پورا کرنے کیلئے کہ ورکنگ ہیڈز کو ان کی خدمات کا حق بھی ملے، آسان طریقے اپنایا جاسکتا ہے کہ معاہدے کے آغاز میں ہی مطلقا (بغیر کسی پروگریس کی قید کے) ورکنگ پارٹنر کیلئے منافع فیصد میں دیگر کے مقابل زیادہ طے کردیا جائے تو تمام شرکاء کی رضا مندی سےیہ طے کرنا بالکل جائز ہے، کہ یہاں منافع متعین ہونگے۔
رہا یہ امر کہ خالص منافع میں سے سب سے پہلے ایک مقررہ فیصد یا مقررہ رقم کو کاروبار میں وسعت، بہتری، یا غیر متوقع نقصان کیلئے بطور ریزرو فنڈ یا محفوظ منافع رکھنے کا فیصلہ کیا جا سکتا ہے، اگر شرکاء کی رضامندی سے ہو تو فی نفسہ جائز ہے، اس میں کوئی حرج نہیں، البتہ اس ریزرو فنڈ کے منافع تمام شرکاء کو تقسیم ہونگے، صرف ورکنگ پارٹنرز کو نہیں۔
دلائل و جزئیات:
فقیہ ابو الليث نصر بن محمد السمرقندی (المتوفی: 375ھ) فرماتے ہیں: "قال محمد: كل شيء استأجره أحدهما من صاحبه مما يكون عملا فإنه لا يجوز، وإن عمله فلا أجر له".ترجمہ: امام محمد رحمہ اللہ نے فرمایا کہ کسی بھی شریک کا مشترکہ سامان میں اجرت پر کام کرنا جائز نہیں اور اگر اس نے بطور اجیر کام کیا تو اسے اجرت نہیں ملے گی۔(عیون المسائل للسمرقندی، باب الاجارات، استئجار العبد، ص: 239، مطبعة أسعد، بغداد)
اس کی علت غایۃ البیان میں علامہ قوام الدین امیر کاتب بن امیر الاتقانی الفارابی رحمہ اللہ (المتوفی: 758ھ) نے یوں بیان کی:"لانه عامل لنفسه، والانسان لايستحق على عمله لنفسه اجرا، لانه لایتمیز نصيبه من نصيب شريكه، لكونه شائعا، فيكون عاملا لنفسه فى كل جزء من المعقود عليه".ترجمہ:یہ تو اپنا ہی کام خود کرنا ہوا اور بندہ اپنا کام خود کرنے پر اجرت کا مستحق نہیں ہوتا، نیز مشاع سامان ہونے کی وجہ سے بندہ اپنا اور اپنے شریک کا حصہ الگ نہیں کرسکتاجس کی وجہ سے بطور اجارہ کیا جانے والا ہر کام اس کا اپنے لئے کرنا قرار پائے گا۔(غاية البيان، 13/397،دارالضياء كويت)
امام اہلسنت امام احمد رضا خان علیہ رحمۃ الرحمن (المتوفی:1340ھ) فرماتے ہیں:’’شریک کو مال مشترک میں تصرف کرنے کےلئے اجیر کرنا اصلاً جائز نہیں‘‘۔ (فتاوٰی رضویہ ،16/108،رضا فاؤنڈیشن لاھور)
علامہ سراج الدین عمر بن ابراہیم(المتوفی:1005 ھ) فرماتے ہیں:"(وتفسد) الشركة (وإن شرط لأحدهما دراهم مسماة من الربح) بأن قال أحدهما: لي مائة من الربح مثلًا والباقي يقسم. قال ابن المنذر: ولا خلاف في هذا لأحد من أهل العلم فإن قلت: الشركة كالمضاربة لا تبطل بالشرط الفاسد فكيف بطلت هنا؟ قلت: إنما بطلت لا لأن هذا شرط فاسد بل لأن هذا الشرط تنتفي به الشركة إذ عساه أن لا يخرج إلا قدر المسمى فيكون اشتراط جميع الربح لأحدهما على ذلك التقدير مخرج على القرض أو البضاعة".ترجمہ:اگر ایک فریق نے اپنے لیے شرکت میں یہ شرط رکھی کہ اسے نفع سے معین دراہم ملیں گے تو یہ شرکت فاسد ہوگی۔اس طور پر کہ ان میں سے ایک فریق کہے کہ میرے لیے نفع میں سے مثلا 100 درہم ہوں گے اور بقیہ نفع تقسیم ہوگا تو ابن منذر نے کہا کہ اہل علم میں سے (اسکے فساد پر)کسی کا بھی اس پر اختلاف نہیں۔اگر تم سوال کرو کہ شرکت مضاربت کی طرح ہے جو کہ شرط فاسد سے باطل نہیں ہوتی تو یہاں یہ کیسے باطل ہوگی؟ تو جوابا میں (صاحبِ نہر) کہوں گا کہ یہاں شرکت کا باطل ہونا اس وجہ سے نہیں ہے کہ یہ شرط فاسد ہے بلکہ اس وجہ سے ہے کہ یہ شرط شرکت کے منافی ہے کیونکہ ممکن ہے کہ نفع اسی قدر حاصل ہو جتنا اس نے معین کر دیا تو اس طور پر تمام نفع کسی ایک فریق کے لیے شرط ٹھہر جائے گا اور اس تقدیر پر یہ معاملہ شرکت سے نکل کر قرض اور بضاعت میں منتقل ہو جائے گا۔(النہر الفائق،کتاب الشرکۃ،3/302،دار الکتب العلمیۃ)
امام اہلسنت رحمہ اللہ فرماتے ہیں:’’شرکت ایک عقد ہے جس کا مقتضٰی دونوں شریکوں کا اصل و نفع دونوں میں اشتراک ہے، ایک شریک کے لئے معین تعداد زر مقرر کرنا قاطع شرکت ہے کہ ممکن کہ اسی قدر نفع ہو تو کلی نفع کا یہی مالک ہوگیا ، دوسرے شریک کو کچھ نہ ملا تو ربح ( نفع ) میں شرکت کب ہوئی‘‘۔ (فتاوی رضویہ ،17/371،رضا فاؤنڈیشن لاھور)
زیادہ کام کرنے والےکے لئے نفع میں سے زیادہ حصہ بھی مقرر کیا جاسکتا ہے،خاتم المحققین علامہ سید محمد بن عمر ابن عابدین الشامی (المتوفی: 1252ھ) فرماتے ہیں: "وإن شرطا الربح للعامل أكثر من رأس ماله جاز أيضا على الشرط".ترجمہ: اور اگر (شرکت عنان کے) دونوں شرکاء نے عامل شریک کیلئے اس کے سرمائے سے زیادہ منافع کی شرط رکھی، تو یہ بھی شرط کے مطابق جائز ہے۔(رد المحتار، کتاب الشرکۃ، مطلب فی توقیت الشرکۃ، 4/312، دار الفکر بیروت) (الفتاوی الہندیۃ، کتاب الشرکۃ، باب فی شرکۃ العنان، 2/336، قدیمی کتب خانہ کراچی)
صدر الشریعہ حضرت علامہ مفتی محمد امجد علی اعظمی (المتوفی:1367ھ) فرماتے ہیں:”اگر کام دونوں کریں گے مگر ایک زیادہ کام کرےگا دوسرا کم اور جو زیادہ کام کرےگا نفع میں اُس کا حصہ زیادہ قرار پایا یا برابر قرار پایا یہ بھی جائز ہے“۔ (بهار شريعت،2/499، مكتبة المدينة كراچى)۔واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
کتبـــــــــــــــــــــــــــــه:ابو امير خسرو سيد باسق رضا
الجـــــواب صحــــيـح:ابو الحسنينن مفتي وسيم اخترالمدني
تاريخ اجراء: 19 جمادی الآخری 1447ھ/11 دسمبر2025ء