سوال
انڈیا میں ھندو سنار سود پر پیسے دیتے ہیں ،جیسے 5لاکھ پر ماہانہ 10 ہزار دیتے ہیں۔کچھ لوگوں کا کہنا ہے کہ ان سے قرض پر فکس رقم لینا سود نہیں ہے کیونکہ ان کے مذہب میں سود منع نہیں ہے ؟اور وہاں کے کچھ مولانا کہتے ہیں کہ ہندو کو اگر کچھ پیسےادھار دئے جائیں ،اور ان سے فکس کر کے پیسے واپس لیے جائیں تو ایسا کرنا جائز ہے کیونکہ مسلمان سے فکس رقم لینا سود ہے ھندو سے لینا سود نہیں ہے۔جواب دے کر اصلاح فرمائیں کہ ایسا کرنا جائز ہے یا نہیں؟ سائل:سلمان عبدالقادر ،انڈیا
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ
اسلامی قانون یہ ہے کہ مسلمان اور غیرمسلم حربی کے درمیان کوئی معاملہ سود نہیں ہوتا بشرطیکہ نفع مسلمان کو ملے۔ اور یہ بات ظاہر ہے کہ غیر مسلم ملک میں رہنے والا غیر مسلم نہ ذمی ہے نہ مستامن ہے لہٰذا اس کی رضا مندی سے ان کا مال جس طرح ملے جس عقد کے نام سے حاصل ہو مسلمان کے لیے حلال ہے۔لیکن اس میں یہ ضروری ہے کہ اس زائد رقم کو سود کی نیت سے نہ لیا جائے کیونکہ حرام کی نیت سے حلال چیز کا استعمال بھی حرام ہو جاتا ہے جیسے کوئی شخص شراب کے برتن میں کوئی مشروب شراب پینے کے انداز میں پیئے تو یہ حرام ہے۔جیسے حربی سے معاہدہ کیا کہ میں تمہیں ایک لاکھ قرض دونگا اور تم مجھے مثلا ایک لاکھ دس ہزار لوٹاؤ گے تو یہ جائز ہے لیکن اسکا نام سود نہیں رکھا جائے گا ۔ کیونکہ سود آپس میں مسلمانوں کے درمیان اوراور مسلمان اور غیر مسلم معاہد( جیسے ذمی اور مستامن)کے درمیان جاری ہوتا ہے حربی و مسلمان کے درمیان کیا جانے والا معاملہ سود نہیں ہے۔
جیسا کہ ہدایہ میں ہے:لاربابین المسلم والحربی فی دار الحرب بخلاف المستامن منھم لان مالہ صار محظور۱ بعقد الامان۔ترجمہ: ترجمہ:دارالحرب میں مسلمان اور حربی کے درمیان کوئی معاملہ سود نہیں بخلاف ان میں سے مستامن کے کیونکہ مستامن کامل اسکے عقد امان کی وجہ سے محفوظ ہوگیاہے۔(ہدایہ ،کتاب البیوع،باب الربو جلد 3ص 78،نور محمد اصح المطابع)
سیدی اعلٰی حضرت فرماتے ہیں :ہاں جو مال غیر مسلم سےکہ نہ ذمی ہو نہ مستامن بغیر اپنی طرف سے کسی غدر اور بدعہدی کے ملے اگرچہ عقود فاسدہ کے نام سے اسے اسی نیت سے نہ بہ نیت ربا وغیرہ محرمات سے لینا جائز ہے اگرچہ وہ دینے والا کچھ کہے یا سمجھے کہ ا سکے لئے اس کی نیت بہتر ہے نہ کہ دوسرے کی، لکل امرئ ما نوی ہرشخص کےلئے وہی ہے جس کی اس نے نیت کی۔(فتاوٰی رضویہ،کتاب البیوع،باب الرباجلد 17 ص 324)
لہٰذا زائد رقم کو اپنے لیے حلال سمجھتے ہوئے لے کہ شریعت مطہرہ نے اسے اس قسم کے نفع کی اجازت دی ہے۔ سود سمجھ کر نہ لے۔
واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
کتبـــــــــــــــــــــــــــــه:محمدزوہیب رضاقادری
الجـــــواب صحــــيـح:ابو الحسنينن مفتي وسيم اخترالمدني
تاريخ اجراء:20 ذوالقعدہ1440ھ/24 جولائی 2019 ء