سوال
دو بھائی غلام خان اور اختر خان نے سن 2000 میں کریٹوں (لکڑی کی پیٹیاں) کا کام شروع کیا جو کہ (نصف نصف سرمایہ پر مشتمل تھا)۔اس کے بعد اختر خان کا بیٹا جمیل خان ان کے ساتھ مل کر کام کرتا رہا (لیکن کوئی پیسہ نہیں لگایا )۔ پھر غلام خان کابڑا بیٹا شمس الدین اس کام میں شامل ہوا اور ان کے ساتھ ملکر کام کرتا رہا (اور کوئی پیسہ نہیں لگایا)۔ پھر اختر خان کا 2007 میں وصال ہو گیا۔
اس کے بعد اختر خان کا بیٹا جمیل خان،غلام خان کا بیٹا شمس الدین اور غلام خان خود یہ تین لوگ کام کرتے رہے ۔پھر 2011 میں غلام خان کے بیٹے شمس الدین نے علیحدہ ایک کام شروع کیا (جس میں کوئی اور بطورِ معاون بھی شریک نہ تھا) اور اس کام میںوالد غلام خان نے پیسے پیٹیوں والے کام سے لے کر بیٹے شمس الدین کو بطور ہبہ دیے۔ پھر 2011 میں غلام خان کا دوسرا بیٹا غلام محی الدین پیٹیوں والے کام میں شامل ہوا وہ کام کرتا رہا ( اور کوئی پیسہ نہیں لگایا)۔ اس کے بعد اس نے 2017 میں ایک علیحدہ بٹھا (اینٹیں بنانے کا کام) ٹھیکے (کرایہ) پہ لے لیا وہ اپنے بٹھے پہ کام کرتا رہا ۔پھر اس کے بعد غلام خان کا تیسرا بیٹا قمر الدین پیٹیوں والے کام میں شامل ہوا اور اب تک اسی طرح مل کر کام کرتے رہےاور کھانا پینا سب کچھ اکٹھا ہے۔
اب پوچھنا یہ ہے کہ اختر خان اور غلام خان کی زمین اور جائیداد کا بٹوارا کیسے ہوگا؟ اسی طرح جو نئی جائداد بنائی وہ زمین ہو یا مال اس کی تقسیم کیسے ہوگی؟ یعنی جمیل خان اور قمر الدین نے جو جائداد بنائی پیٹیوں والے کاروبار سے، شمس الدین نے اپنے کاروبار سے ،غلام محی الدین نے بٹھے سے۔
سائل: متخصص فی الفقہ حافظ کمال خان۔
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ
یہ بٹوارا نصف نصف ہوگا،یعنی آدھا مرحوم اختر خان کے ورثاء کو اور بقیہ آدھا غلام خان کو تقسیم ہوگا۔نیز جوبھی جائیداد و کاروبار جس نے بھی بنایا وہ اس کا اپنا ہے، ہاں غلام خان نے جس بیٹے کو اپنے پیٹیوں والے کاروبار سے پیسہ نکال کر دیا؛اگر تو اپنے منافع سے دیا تو کوئی حرج نہیں لیکن اگر اپنے منافع سے زائد سے دیا تو جتنا زائد روپیہ اس وقت دیا تھا اتنا ہی مرحوم اختر کے ورثاء کو واپس کرنا غلام خان پر شرعا لازم ہے ۔
خاتم المحققین علامہ سید محمد بن عمر ابن عابدین الشامی (المتوفی: 1252ھ) فرماتے ہیں:" وَمَا اشْتَرَاهُ أَحَدُهُمْ لِنَفْسِهِ يَكُونُ لَهُ وَيَضْمَنُ حِصَّةَ شُرَكَائِهِ مِنْ ثَمَنِهِ إذَا دَفَعَهُ مِنْ الْمَالِ الْمُشْتَرَكِ". ترجمہ: شرکاء میں سے ایک نے جو کچھ اپنی ذات کےلئے خریدا وہ اسی کا ہوگا اور اس کے ثمن میں دیگر شرکاء کے حصہ کاتاوان دے گااگر اس نے مشترکہ مال سے ثمن ادا کیاہو۔ (ردالمحتار ، کتاب الشرکۃ ،4/307، دار الفكر)
امام اہلسنت امام احمد رضا خان علیہ رحمۃ الرحمن (المتوفی:1340ھ) فرماتے ہیں:’’غایت یہ کہ اگر ثابت ہوجائے کہ زرثمن مال مشترک سے دیا گیا تو باقی ورثہ (یعنی شرکاء)کا اس قدر روپیہ بقدر اپنے اپنے حصص کے بکر پر قرض رہے گا جس کے مطالبہ کے وہ مستحق ہیں نہ کہ جائیداد کا کوئی پارہ ان کی ملک ٹھہرے‘‘۔(فتاوی رضویہ، 19/196، رضا فاؤنڈیشن) ۔واللہ تعالٰی اعلم بالصواب