مضارِب کا ربُّ المال سے مالِ مضاربت خریدنا
    تاریخ: 23 جنوری، 2026
    مشاہدات: 23
    حوالہ: 635

    سوال

    زید نے بکر کو مضاربت کے طور پر پیسے دیے زید نے ان پیسوں سے مال بھی خرید لیا پھر زید کو پیسوں کی ضرورت پیش آئی اور دوسری جانب سے مال بک نہیں سکا تو بکر نے زید کو کہا کہ مارکیٹ ویلیو کے حساب سے یہ مال میں لے لیتا ہوں، جس پر زید راضی ہو گیا تو کیا یہ طریقہ درست ہے؟کیا بکر وہ مال لے سکتا ہے؟ بینوا توجروا

    سائل: شبیر احمد


    بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

    اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ

    مضارب کا رب المال سے مذکورہ مال مضاربت خریدنا درست ہے اس میں کوئی حرج نہیں ۔ اسی طرح رب المال بھی مضارب سے خرید سکتا ہے۔

    در مختار میں ہے :(ولو كان مضاربا) معه عشرة (بالنصف) اشترى بها ثوبا وباعه من رب المال بخمسة عشر (باع) الثوب (مرابحة رب المال باثني عشر ونصف) لأن نصف الربح ملكه وكذا عكسه۔ترجمہ: اور اگر مضارب نے اُس (ربِّ مال) کے ساتھ آدھے (نفع ) کے ساتھ دس درھم میں مضاربت کی، اور اُس دس درھم سے ایک کپڑا خریدا اور اسے ربِّ مال ہی کو پندرہ میں فروخت کردیا، تو (اب) رب المال اس کپڑے کو (کسی دوسرےخریدار کو) مرابحہ کے طور پر ساڑھے بارہ درھم(خرید بتا کر) بیچے گا، کیونکہ آدھا نفع (ڈھائی روپے)مضارب کی ملکیت ہے۔ اور اسی طرح اس کا اُلٹا معاملہ بھی ہے۔(الدرالمختار،باب المرابحہ جلد 05،صفحہ 139،دار الفکر بیروت)

    علامہ سید ابن عابدین شامی علیہ الرحمہ (وكذا عكسه) کے تحت لکھتے ہیں : وهو ما إذا كان البائع رب المال۔ترجمہ:اور یہ صورت وہ ہے جب بائع راب المال ہو یعنی بیچنے والارب المال ہو (اور خریدنے والا مضارب ہو) ۔ (ردالمحتارعلی الدرالمختار، جلد5، صفحہ:139-140، دار الفکر، بیروت)

    ایک اعتراض :

    راب المال کا مضارب سے خریدنا ایسا ہی ہے جیسےرب المال کا اپنے آپ سے کوئی چیز خریدنا ،اسی طرح مضارب کی حیثیت وکیل کی ہوتی ہے تو اس مسئلہ میں ایک ہی شخص اصیل و وکیل بن رہا ہے جو کہ جائز نہیں ؟

    جواب : علامہ کاسانی نے بدائع الصنائع میں اس اعتراض کا جواب دیا ہے ملاحظہ ہو : ويجوز شراء رب المال من المضاربة، وشراء المضارب من رب المال، وإن لم يكن في المضاربة ربح في قول أصحابنا الثلاثة، وقال زفر: لا يجوز الشراء بينهما في مال المضاربة.(وجه)قول زفر أن هذا بيع ماله بماله، وشراء ماله بماله إذ المالان جميعا لرب المال، وهذا لا يجوز كالوكيل مع الموكل.(ولنا)أن لرب المال في مال المضاربة ملك رقبة لا ملك تصرف، وملكه في حق التصرف كملك الأجنبي، وللمضارب فيه ملك التصرف لا الرقبة، فكان في حق ملك الرقبة كملك الأجنبي حتى لا يملك رب المال منعه عن التصرف، فكان مال المضاربة في حق كل واحد منهما كمال الأجنبي، لذلك جاز الشراء بينهما ۔ترجمہ: ربّ المال کے لیے یہ جائز ہے کہ وہ مضاربت کے مال کو مضارب سے خریدے، اور مضارب کے لیے بھی جائز ہے کہ وہ ربّ المال سے (مالِ مضاربت) خریدے، اگرچہ مضاربت میں ابھی کوئی نفع پیدا نہ ہوا ہو۔ یہ ہمارے تینوں ائمہ (امام ابو حنیفہ، امام ابو یوسف، امام محمد) کا قول ہے۔اور امام زفرؒ کہتے ہیں کہ مضاربت کے مال میں دونوں کا ایک دوسرے سے خریدنا جائز نہیں۔امام زفر کے قول کی دلیل یہ ہے کہ یہ دراصل اپنے ہی مال کو اپنے ہی مال کے بدلے بیچنا اور خریدنا ہے، کیونکہ دونوں مال (قیمت اور مبیع) حقیقت میں ربّ المال ہی کے ہیں، اور ایسا معاملہ جائز نہیں جیسے وکیل کا موکل کے مال کو موکل کے مال کے بدلے بیچنا جائز نہیں ہوتا۔لیکن ہمارے ائمہ کی دلیل یہ ہے کہ:ربّ المال کا مضاربت کے مال میں ملکِ رقبہ (اصل ملکیت) تو ہے، مگر تصرف (بیچنے، خریدنے وغیرہ کا اختیار) کی ملکیت اس کے پاس نہیں۔جبکہ مضارب کے پاس ملکِ تصرف ہے، ملکِ رقبہ نہیں،پس ملکِ رقبہ کے اعتبار سے (مضارب) ایسے ہے جیسے کوئی اجنبی شخص، یہاں تک کہ ربّ المال کو یہ حق نہیں کہ وہ اسے تصرف سے روک سکے۔لہٰذا مضاربت کا مال دونوں میں سے ہر ایک کے حق میں اجنبی کے مال کی طرح ہوا؛ اسی وجہ سے ان دونوں کے درمیان خرید و فروخت جائز ہوئی۔(بدائع الصنائع، جلد :6،صفحہ:101،فصل فی بیان حکم المضاربۃ، دار الكتب العلمية)واللہ اعلم بالصواب

    کتبـــــــــــــــــــــــــــــه:محمدیونس انس القادری

    الجـــــواب صحــــيـح:ابو الحسنينن مفتي وسيم اخترالمدني

    تاريخ اجراء: 20جمادی الثانی 1447ھ/12دسمبر2025ھ