موبائل ٹوٹنے کا تاوان

    Mobile tootne ka tawaan

    تاریخ: 23 جولائی، 2026
    مشاہدات: 5
    حوالہ: 1651

    سوال

    کسی کا موبائل چارجنگ پر لگا تھا، دوسرے شخص نے اٹھایا اور نیچے گر گیا اور موبائل کا نقصان ہو گیا، جس شخص کا موبائل تھا اس نے اپنے پیسوں سے ہی اس کی ریپیرنگ کروا لی، تو جس سے نقصان ہوا تھا ،وہ چاہتا ہے کہ میں مالک کو پیسوں دوں ،اب اگر وہ موبائل کے مالک کو نقصان کے پیسے تحفہ کہہ کر دیدے تو یوں اس کی طرف سے پیسے ادا ہوجائیں گے یا اسے دیتے وقت بتانا ضروری ہوگا کہ یہ نقصان کے پیسے ہیں،اس حوالہ سے تفصیل و جزئیات کے ساتھ رہنمائی درکار ہے ۔

    بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

    اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ

    اگر تو چارجنگ پر لگا موبائل مالک کی اجازت کے بغیر اٹھایا بعد ازاں ہاتھ سے گر کر ٹوٹ گیا تو اس صورت میں بلاشک و شبہ سائل پر موبائل کی مرمت کی ادائیگی لازم ہوگی کہ کسی کا موبائل بغیراسکی اجازتکے اٹھانا روا نہیں سو جب اٹھالیا تو یہ تعدی شمار ہوگی جسکے سبب اس پر ضمان لازم ہوگا۔اب اس صورت میں پیسے خواہ کیسے ہی طریقے سے لوٹائے جائیں خواہ ، تحفہ ، ہدیہ یا ہبہ ادائیگی ہوجائے گی۔

    لیکن اگر مالک کی اجازت سے اٹھایا مثلاً اس نے کہا کہ چار جنگ سے ہٹا کر مجھے دیدواسکے بعد اسکے ہاتھ سے گر کر ٹوٹ گیا تو اس صورت میں ضمان لازم نہیں کہ اجازت کے بعد یہ اسکا وکیل بن گیا لہذا اب اسکی حیثیت امین کی ہے اور امین پربلاتعدی ضمان نہیں۔

    حدیث پاک میں ہے: عن سمرة، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال:على اليد ما أخذت حتى تؤدي، ثم إن الحسن نسي، فقال: «هو أمينك لا ضمان عليه۔ترجمہ: حضرت سمرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "دستِ غصب (قبضہ کرنے والے ہاتھ) پر اس چیز کی ذمہ داری عائد ہوتی ہے جو اس نے لی، یہاں تک کہ وہ اسے لوٹا دے"۔ پھر حسن بصری رحمہ اللہ اس حدیث کو بھول گئے اور فرمانے لگے: "وہ تمہارا امین ہے، اس پر کوئی ضمان (تاوان) نہیں ہے۔(سنن ابو داؤد، حدیث نمبر: 3561)

    اس حدیث سے فقہاء نے دو اصولوں کا استنباط فرمایا۔

    1:حدیث کا پہلا حصہ یعنی على اليد ما أخذت حتى تؤديضمان (Compensation/Liability) کے عمومی قاعدے کو بیان کرتا ہے کہ اگر کوئی شخص کسی دوسرے کی چیز بغیر اجازت اپنے قبضے میں لیتا ہے، تو جب تک وہ اصل مال مالک کو نہ لوٹا دے، اس کی حفاظت کی ذمہ داری قابض پر لازم ہے لہذااگر وہ چیز تلف، ضائع یا ہلاک ہو جائے تو اس قابض پر اسکا ضمان لازم ہوگا۔

    2: جبکہ اس حدیث کے دوسرے حصے ثم إن الحسن نسي، فقال: «هو أمينك لا ضمان عليه یعنی امام حسن بصری کےاس قول سے فقہاء نے یہ مستنبط کیا کہ پہلا حکم امانت پر لاگو نہیں ہوتااسی لئے جب تک امین کی تعدی ثابت نہ ہو، اس وقت تک مال کے ضائع ہونے پر اس پر کوئی تاوان یا ضمان نہیں ہوتا۔

    الدر المختار میں ہے: لَا يَجُوزُ التَّصَرُّفُ فِي مَالِ غَيْرِهِ بِلَا إذْنِهِ وَلَا وِلَايَتِهِ ۔ترجمہ:دوسرے کے مال میں اسکی اجازت و ولایت کے بغیر تصرف جائز نہیں۔(تنویر الابصار مع الدرالمختار، جلد 6 ص 200)

    شامی میں ہے: لِأنَّهُ مُتَعَدٍّ بِقَبْضِ مَالِ غَيْرِهِ بِلَا إذْنِهِ فَهُوَ كَغَاصِبِ۔ ترجمہ: کیونکہ وہ بغیر اجازت دوسرے کے مال پر قبضہ کرنے کی وجہ سے تعدی کرنے والا ہے، لہٰذا وہ غاصب کی طرح ہے۔(ردالمحتار شرح الدرالمختار،جلد 6 ص 514)

    ہندیہ میں ہے: إذا رفع جرة غيره بغير أمره فانكسرت يضمن ولو أن صاحب الجرة رفع الجرة وأمالها إلى نفسه فجاء إنسان وأعانه على الرفع فانكسرت فيما بين ذلك لا يضمن۔ ترجمہ: اگر کسی شخص نے دوسرے کے مٹکے کو اس کے حکم کے بغیر اٹھایا اور وہ ٹوٹ گیا، تو وہ ضامن ہوگا ۔ اور اگر مٹکے کے مالک نے خود مٹکے کو اٹھایا اور اسے اپنی طرف جھکایا، پھر کوئی دوسرا شخص آیا اور اس نے اٹھانے میں اس کی مدد کی اور اسی اثنا میں مٹکا ٹوٹ گیا، تو مدد کرنے والا ضامن نہیں ہوگا۔(ہندیہ ، کتاب الغصب ، الباب الثالث، جلد 5 ص 129 )

    مجلۃ الاحكام میں ہے: المال الذي قبضه الوكيل بالبيع والشراء وإيفاء الدين واستيفائه وقبض العين من جهة الوكالة في حكم الوديعة في يده فإذا تلف بلا تعد ولا تقصير لا يلزم الضمان. والمال الذي في يد الرسول من جهة الرسالة أيضا في حكم الوديعة۔ ترجمہ: وہ مال جس پر وکیل، بیع، شراء، قرض کے لین دین ،اور کسی معین چیز پر وکالت کی جہت سے قبضہ کرے وہ اسکے پاس امانت کے حکم میں ہے ۔تو اگر اسکی کوتاہی یا غفلت کے بغیر ہلاک ہوجائے تو اس وکیل پر ضمان لازم نہ ہوگا۔یوں ہی وہ مال جو کسی قاصد کے پاس ، پہنچانے کی جھت سے ہو وہ بھی امانت کے حکم میں ہے۔(لہذا اس میں بھی اگر اسکی کوتاہی یا غفلت کے بغیر ہلاک ہوجائے تو اس پر ضمان لازم نہ ہوگا)۔(مجلۃ الاحکام العدلیہ ،جلد 1 ص 284،285 المادۃ: 1463)

    نقصان کرنے والا شخص اگر مالک کو تحفہ یا ہدیہ کہہ کر نقصان کے برابر رقم دے دیتا ہے اور دل میں تاوان کی نیت رکھتا ہے، تو شرعاً اس کی طرف سے ضمان بالکل ادا ہو جائے گا اور مالک کو صراحت سے بتانا ضروری نہیں ہےجیساکہ باب زکوۃ میں ہے کہ دینے والی کی نیت کا اعتبار ہے نہ کہ لینے والی کی نیت کا۔شامی میں ہے: ۔ لِأَنَّ الْمُعْتَبَرَ نِيَّةُ الدَّافِعِ وَلِذَا جَازَتْ وَإِنْ سَمَّاهَا قَرْضًا أَوْ هِبَةً فِي الْأَصَحِّ ۔ترجمہ: کیونکہ معتبر دینے والے کی نیت ہے، اور اسی وجہ سے جائز ہو جاتی ہے اگرچہ اس نے اصح قول کے مطابق اسے قرض یا ہبہ کا نام دیا ہو۔(شامی، جلد 2 ص 345)۔ واللہ تعالٰی اعلم بالصواب


    کتبـــــــــــــــــــــــــــــــــــہ: محمد زوہیب رضا قادری

    الجــــــــواب الصــــحــــــیح: ابو الحسنین مفتی وسیم اختر المدنی

    24 ربیع الثانی 1448ھ/ 07 اکتوبر 2026 ء کو جاری کیا گیا